شیوسینا بمقابلہ شیوسینا مقدمہ، ایڈوکیٹ کپل سبل کی الیکشن کمیشن کے علاوہ اسمبلی اسپیکر پر بھی تنقید، کہا ’’ باغیوں کو نا اہل قرار دینے کی درخواست کو زیر التوا رکھا گیا ‘‘
EPAPER
Updated: August 14, 2026, 12:19 PM IST | Agency | New Delhi
شیوسینا بمقابلہ شیوسینا مقدمہ، ایڈوکیٹ کپل سبل کی الیکشن کمیشن کے علاوہ اسمبلی اسپیکر پر بھی تنقید، کہا ’’ باغیوں کو نا اہل قرار دینے کی درخواست کو زیر التوا رکھا گیا ‘‘
شیوسینا کس کی ؟ اس معاملے پر عدالت عظمیٰ میں سماعت جاری ہے۔ کیس کی باقاعدہ سماعت گزشتہ ہفتے شروع ہوئی تھی۔ ادھو ٹھاکرے گروپ کی طرف سے سینئر وکیل کپل سبل دلائل دے رہے ہیں۔ سبل کی جرح ختم ہونے کے بعد شیو سینا کے وکیل ایکناتھ شندے گروپ کے حق میں اپنا موقف پیش کریں گے۔ اب تک ہونے والی سماعت میں کپل سبل نے عدالت میں مضبوط دلائل پیش کئے ہیں اور الیکشن کمیشن کے خلاف سخت رُخ اختیار کیا ہے۔ سبل کا استدلال ہے کہ یہ سب الیکشن کمیشن کی غلطی کی وجہ سے ہوا۔ کپل سبل نے جمعرات کی سماعت میں اسمبلی اسپیکر پر بھی حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اسمبلی اسپیکر سے باغی اراکین اسمبلی ایم ایل ایز کو نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن انہوں نے فیصلہ کو زیر التواء رکھا۔ دوران سماعت کپل سبل نے ۲۰؍ نکات پرمبنی اہم دلائل پیش کئے جن میں کچھ اہم ذیل میں پیش کئے جارہے ہیں :
یہ بھی پڑھئے: چیف جسٹس کی مخالفت کا معاملہ، NALSAR طلبہ کے خلاف بار کونسل کی کارروائی ختم
۱) یہ کیس ہمارے(ادھو گروپ ) کے حق میں ہے کیونکہ کمیشن نے ہمیں کوئی نوٹس نہیں دیا۔
۲)پارٹی اور نشان کے تعلق سے کوئی اہم مسئلہ ہو تو کمیٹی بنائی جا سکتی ہے اور کچھ غور کیا جا سکتا ہے۔
۳)عدالت اسمبلی اسپیکر کو یہ نہیں کہہ سکتی کہ اتنے وقت میں فیصلہ کیاجائے۔ یہ سپریم کورٹ کا اہم بیان تھا۔
۴) اگر کوئی مسئلہ ہو تو کمیشن معلومات /حوالے دے سکتا ہے، پارٹی کی ملکیت اور نشان نہیں دے سکتا۔
۵) دوتہائی اراکین اسمبلی کی حمایت ملنے تک انتظار کئے بغیر (شندے گروپ کو)منظوری دی گئی۔
۶) پارٹی(ادھو گروپ) نے اسمبلی اسپیکر سے ایم ایل ایز کو نااہل قرار دینے کی درخواست کی تھی۔
۷) پارٹی کی تقسیم اور نااہلی دو مختلف مدعے ہیں۔
۸) ہمارے کیس میں اسمبلی ا سپیکر نے فیصلہ التوا میں رکھا۔
۹) شندے نے اپنی قومی ایگزیکٹیو بنائی۔ انہوں نے کس بنیاد پر قومی ایگزیکٹیو کا اعلان کیا؟اس کے علاوہ مزید دلائل دئیے۔
یہ بھی پڑھئے: دینی مدارس میں جشن آزادی کی تیاری، طلباء پرچم بنانے میں مصروف
دوران سماعت جسٹس باغچی نے پارٹی کی ملکیت اور انتخابی نشان کو الگ الگ موضوع بتاتے ہوئے کہا کہ ۴؍لاکھ سے زیادہ شیوسینکوں کی باغی گروپ کو حمایت حاصل تھی جس پر سبل نے کہا کہ ان کے موکل کے حامی ۱۹؍ لاکھ اراکین ہیں۔
’’قانون ساز پارٹی میں کبھی تقسیم نہیں ہو سکتی‘‘
جسٹس باغچی نے کہا کہ سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا کوئی تقسیم (یعنی بٹوارا) ہوا ہے۔ تقسیم کا آغاز بھلے ہی لیجسلیٹو(قانون ساز ) پارٹی سے ہو لیکن یہ تنظیم اور بنیادی رکنیت تک بھی پھیل سکتا ہے۔ کپل سبل نے آئینی بینچ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دلیل دی کہ قانون ساز پارٹی میں کبھی بھی تقسیم نہیں ہو سکتی۔بینچ نے کہا کہ تقسیم کی جانچ کو محض قانون سا زپارٹی میں تقسیم تک ہی محدود نہیں رکھا جا سکتاکیونکہ قانون ساز پارٹی میںتقسیم ایک بڑی تقسیم کا مرکز ہوسکتی ہے۔
نا اہل کو وزیراعلیٰ کا عہدہ دے دیا گیا
عدالت نے کہا تھا کہ تقسیم کے بعد کے واقعات کو خاطر میں نہ لایا جائے۔ تاہم الیکشن کمیشن نے انہی بنیادوں پر (شندےگروپ ) کے حق میں فیصلہ کیا۔ کپل سبل نے مزید کہا کہ دسویں شیڈول کے مطابق نااہل پائے جانے والے لیڈر کو صرف ایم ایل اے کی تعداد کی بنیاد پر وزیر اعلیٰ کا عہدہ دے دیا گیا ۔ سبل نے یہ بھی دلیل دی کہ اگر شیو سینا کی تقسیم کے بعد کوئی تنازع ہوا ہوتو پارٹی کا رجسٹریشن منسوخ نہیں کیا گیا بلکہ شندے گروپ کو سیدھے ملکیت دے دی گئی۔