مقررہ مقدار میں پیٹرول فروخت کر رہے منیجر کو ۲؍ صارفین نے نہ صرف پیٹا بلکہ پیٹرول پمپ کو آگ لگانے کی دھمکی بھی دی۔
پیٹرول کی قلت۔ تصویر:آئی این این
ریاست میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت کے سبب حالا ت اس قدر دگرگوں ہو چکے ہیں کہ اب مارپیٹ ہونے لگی ہے ۔ روزانہ کسی نہ کسی علاقے سے چھینا جھپٹی اور مارپیٹ کی خبریں آ رہی ہیں۔ اطلاع کے مطابق جالنہ میں ایک پیٹرول پمپ کے منیجر کی پٹائی کر دی گئی کیونکہ وہ مطلوبہ مقدار میں پیٹرول نہیں دے رہا تھا۔
اطلاع کے مطابق جالنہ کےواتور پھاٹا پر ایک پیٹرول پمپ پر ڈیزل بھرنے کے نام پر جھگڑا ہو گیا۔ پیر کی رات پیش آنے والے اس واقعے کا ویڈیو بھی وائرل ہو رہا ہے۔ دراصل پیٹرول پمپ کے منیجر نے پیٹرول کی ایک مقدار مقرر کر دی تھی تاکہ لوگ زیادہ پیٹرول نہ لے جائیں۔ اسی دوران ۲؍ لوگ ایک کار میں وہاں آئے قطار میں کھڑے ہونے کے بجائے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ۲؍ ہزار روپے کا پیٹرول گاڑی کی ٹنکی میں ڈالنے کیلئے کہا۔جب وہاںموجو کارندوں نے منع کیا تو انہوں نے پٹرول پمپ کے منیجر کو بلاکر باز پرس کی۔ اس پر ان کی حجت ہو گئی اور دونوں نے منیجر کو گالیاں دیں۔ اس پر بھی بس نہیں ہوا تو انہوں نے منیجر کی پٹائی بھی کر دی۔ وہ منیجر سے پوچھ رہے تو کہ تو ہزار کا پیٹرول کیوں نہیں دے گا؟ قابل ذکر ہے کہ دونوں کے خلاف پیٹرول پمپ کو آگ لگانے کی دھمکی دینے اور مارپیٹ کے بعد حملہ کرنے کے الزام میں پرتور پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایک طرف حکومت کہہ رہی ہے کہ ریاست میں ایندھن کی کوئی کمی نہیں ہے اور دوسری طرف روزانہ پیٹرول پمپ پر لڑائی جھگڑے اور مارپیٹ کے ویڈیو وائرل ہو رہے ہیں۔ اس معاملے میں شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشتبہ ملزمان نے ماچس سے پیٹرول پمپ کو جلانے کی دھمکی دی۔
وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے منگل کو کابینہ کی میٹنگ میں ضلع کلکٹروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس بات کی تحقیقات کریں کہ پیٹرول اور ڈیزل کا ذخیرہ کون کر رہا ہے۔ ریاست میں اس وقت معمول سے ۵۲؍ فیصد زیادہ ایندھن کی خریداری ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ۵۲؍ فیصد زائد خریداری کس نے کی ہے، اس کا پتہ لگایا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کابینہ میٹنگ میں بھی یہ اطلاع دی کہ ریاست میں فی الحال ایندھن کا کافی ذخیرہ ہے۔ تاہم یہ پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ مسئلہ ہو گا کیونکہ افواہوں کی وجہ سے ایندھن کی خریداری میں ۵۲؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔