انگلینڈ کی سابق کپتان ہیدر نائٹ نے کہا ہے کہ لارڈز میں خواتین کا تاریخی ٹیسٹ میچ کھیل کر بین الاقوامی کرکٹ سے رخصت ہونا ان کے لیے ایک یادگار تجربہ رہا اور وہ اپنے فیصلے سے مطمئن ہیں۔
EPAPER
Updated: July 14, 2026, 9:05 PM IST | London
انگلینڈ کی سابق کپتان ہیدر نائٹ نے کہا ہے کہ لارڈز میں خواتین کا تاریخی ٹیسٹ میچ کھیل کر بین الاقوامی کرکٹ سے رخصت ہونا ان کے لیے ایک یادگار تجربہ رہا اور وہ اپنے فیصلے سے مطمئن ہیں۔
انگلینڈ کی سابق کپتان ہیدر نائٹ نے کہا ہے کہ لارڈز میں خواتین کا تاریخی ٹیسٹ میچ کھیل کر بین الاقوامی کرکٹ سے رخصت ہونا ان کے لیے ایک یادگار تجربہ رہا اور وہ اپنے فیصلے سے مطمئن ہیں۔ ۱۶؍ سالہ شاندار بین الاقوامی کریئر کے بعد ریٹائرمنٹ لینے والی ہیدر نائٹ نے کہا کہ انہیں سال کے آغاز ہی میں احساس ہو گیا تھا کہ یہ ان کا آخری سیزن ہو سکتا ہے۔ تاہم ان کی پوری توجہ انگلینڈ کے لیے اہم گھریلو سیزن، خواتین کے ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ اور لارڈز میں منعقد ہونے والے پہلے خواتین کے ٹیسٹ پر مرکوز رہی۔
Two that will go down in the history books 🙌 pic.twitter.com/nUWde291U8
— England Cricket (@englandcricket) July 13, 2026
یہ بھی پڑھئے:’’اوینجرز: ڈومز ڈے‘‘کے ٹکٹ ریلیز سے پانچ ماہ پہلے فروخت ہوں گے
انہوں نے کہا’’میں نے اس موسم گرما میں اپنی مکمل صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ اب مجھے لگتا ہے کہ یہی رخصت ہونے کا درست وقت ہے۔ میں اس فیصلے پر خوش ہوں اور مستقبل کے نئے مواقع کے لیے پُرجوش بھی ہوں۔‘‘ ہیدر نائٹ نے اپنے کریئر میں کئی مشکلات کا سامنا کیا۔ رواں سال ایشیز سیریز کے بعد ان سے انگلینڈ کی کپتانی واپس لے لی گئی تھی، جبکہ خواتین کے ورلڈ کپ سے قبل وہ ہیمسٹرنگ انجری سے صحت یاب ہونے کی دوڑ میں بھی شامل رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ان کا اختتام مثالی نہیں تھا، لیکن لارڈز میں ٹیسٹ کھیل کر کریئر ختم کرنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ ان کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ ان کا پسندیدہ فارمیٹ ہے کیونکہ یہ جسمانی اور ذہنی اعتبار سے سب سے زیادہ چیلنجنگ ہوتا ہے، جبکہ لارڈز ان کے لیے ہمیشہ ایک خاص میدان رہے گا۔
یہ بھی پڑھئے:ورلڈ کپ سیمی فائنل میں لیونل میسی اور ہیری کین آمنے سامنے
دوسری جانب اوپنر ٹیمی بیومونٹ نے بھی اسی ٹیسٹ کے بعد بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی، جس سے انگلینڈ کی ٹیم ایک ساتھ دو تجربہ کار کھلاڑیوں سے محروم ہوگئی۔ ہیدر نائٹ نے کہا کہ انہیں نئی نسل کے کھلاڑیوں پر مکمل اعتماد ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں نوجوان کرکٹرز نے جس انداز میں ترقی کی ہے، وہ مستقبل میں انگلینڈ کی ٹیم کو مزید مضبوط بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔