Inquilab Logo Happiest Places to Work

ارکانِ پارلیمنٹ کا ہندوستانی تاریخ میں مسلمانوں کو نظرانداز کرنے پر اظہار افسوس

Updated: April 12, 2026, 8:14 PM IST | New Delhi

ارکانِ پارلیمنٹ نے ہندوستانی تاریخ میں مسلمانوں کو نظرانداز کئے جانے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے، صرف تنازعات پر مبنی کہانیاں پیش کرنے سے خبردار کیا ہے، انڈین ہسٹری فورم کے زیر اہتمام سیمینار ’’ہندوستان کی تاریخ، معاشرے اور تہذیب میں مسلمانوں کی شراکت کا از سرِ نو جائزہ‘‘ میں مقررین نے ہندوستان کی ملی جلی ثقافت (Syncretic culture) پر زور دیا۔

RJD`s Rajya Sabha member Manoj Jha. Photo: X
آر جے ڈی کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا۔ تصویر: ایکس

ارکانِ پارلیمان اور مفکرین نے سنیچر کو ہندوستان کی پیچیدہ تاریخ کو صرف تنازعات کے تناظر میں پیش کرنے کی کوششوں پر افسوس کا اظہار کیا اور ان کوششوں کو فروغ دینے کی وکالت کی جو یہ ظاہر کریں کہ ملک کا ماضی ثقافتوں کے سنگم سے کس طرح مالا مال ہوا ہے۔انڈین ہسٹری فورم کے زیر اہتمام سیمینار ’’ہندوستان کی تاریخ، معاشرے اور تہذیب میں مسلمانوں کی شراکت کا از سرِ نو جائزہ‘‘ میں مقررین نے ہندوستان کی ملی جلی ثقافت پر زور دیا، جسے میڈیا نمایاں کرنے میں ناکام رہا ہے۔مقررین میں کانگریس کے لوک سبھا رکن ششی تھرور، آر جے ڈی کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا، سابق آزاد راجیہ سبھا رکن محمد ادیب، مصنف اشوک کمار پانڈے اور سید سعادت اللہ حسینی اور شاداب موسٰی شامل تھے۔ موسٰی نے کہا کہ آج کی تاریخ کی نصابی کتابوں میں اکثر غلط اور غلط تشریح شدہ معلومات دی جاتی ہیں۔ نیز ہندوستان کے عجائب گھر بھی آزادی کی جدوجہد میں مسلمانوں کی شراکت کو مناسب طور پر پیش نہیں کرتے۔ قرونِ وسطیٰ کا دور آج سب سے زیادہ متنازعہ باب ہے۔این سی ای آر ٹی کی کلاس ہشتم کی معاشرتی علوم کی نصابی کتاب ’’ایکسپلورنگ سوسائٹی: انڈیا اینڈ بیونڈ‘‘میں قرونِ وسطیٰ کے ہندوستان پر باب جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو حملہ آوروں کے طور پر پیش کرتا ہے جو اپنا مذہب پھیلانے آئے۔اس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے غیر مسلموں پر امتیازی جزیہ ٹیکس لگایا، اس طرح مذہب تبدیل کرنے کی ترغیب دی، اور اس دور میں مذہبی عدم رواداری کی بہت سی مثالیں دیکھنے کو ملیں۔

یہ بھی پڑھئے: زخمی حالت میں بھی ملک کیلئے جانبازی دکھانے والے جاوید احمد کی پذیرائی،’مہاراشٹر گورو پرسکار‘ دیا گیا

جبکہ کانگریس رکن پارلیمان ششی تھرور نے کہا کہ ہندوستان میں کبھی ایک یکسان ثقافت نہیں رہی، اور ملک کا ارتقاء ثقافتی تعاملات سے نشان زدہ تھا۔تعمیرات ترکیب کی مثالیں ہیں۔ قطب مینار ،ہمایوں کا مقبرہ، تاج محل اس تہذیب کے شواہد ہیں جو اپنے آپ میں مثال ہیں۔ ہندوستان کے ماضی کو ایک ہی بیانیے میں ڈھالنے کی کوئی بھی کوشش ناکام ہوگی۔‘‘بعد ازاںتھرور نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ کو تنازعات کے ذریعے دیکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’’ تاریخ نویسی یعنی یہ مطالعہ کہ تاریخ کیسے لکھی اور تشریح کی جاتی ہے ،ماضی کو سمجھنے کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔پورے ماضی کو تنازعہ کے ذریعے دیکھنا اصل تاریخ سے محروم رہنا ہے۔ تہذیب کی پیچیدگی کو الگ تھلگ واقعات تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ منتخب تشریح ایک رواج بن چکی ہے۔تاہم جب تاریخ کو منتخب طور پر پیش کیا جائے تو نقطہ نظر میں تنگی آ جاتی ہے۔‘‘
جبکہ جھا نے کہا کہ ملک کا سماجیڈھانچہ  حالیہ برسوں میں بگڑ گیا ہے، اور اسے ٹھیک ہونے میں کافی زیادہ وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا معاشرہ مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہرو جیسے لوگ پیدا کرنے کاسے قاصر ہے، جو سیکولرازم اور ہندوستان کے مشترکہ ماضی کے لیے پرعزم تھے۔اس کے علاوہ حسینی، ادیب اور موسٰی نے بعض قومی  مورخین کی طرف سے ماضی میں مسلمانوں کی شراکت کو نظرانداز کرنے کی کوششوں کو اجاگر کیا۔حسینی نے کہا کہ مسلمان ہندوستان میں حملہ آوروں کے طور پر نہیں آئے اور نہ ہی انہوں نے ملک کے وسائل لوٹے۔ وہ یہاں آباد ہوئے اور معیشت، تجارت، ثقافت اور تعلیم میں شراکت کی۔ اسلامی حکمرانوں نے مختلف خطوں کو متحد کر کے ایک واحد ملک بنایا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’دہلی میں اشوک کھرات کا نام لے کر لوگ ہمارا مذاق اڑاتے ہیں‘‘

تاریخ داں اشوک کمار پانڈے نے کہا کہ میڈیا کی ہندوستان کی ملی جلی ثقافت کو نمایاں کرنے میں ناکامی کی وجہ سے لوگوں کو کشمیر جیسے خطوں اور  برادریوںکے بارے میں غلط پیغام ملتا ہے۔
اس کے علاوہ کانگریس لیڈر گردیپ سنگھ سَپّل نے کہا کہ تاریخ اور معاشرے کے بارے میں پھیلائی جانے والی غلط معلومات کو سوشل میڈیا نے بڑھاوا دیا ہے، جو آئی ٹی کمپنیوں کے کنٹرول میں ہے۔تاہم انہوں نے سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی کہ وہ درست معلومات پھیلا کر غلط بیانیوں کا مقابلہ کریں۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK