بیٹری جلد ختم ہوجانے، قیمت زیادہ وصول کرنے اور اسے استعمال کرنے کی ٹریننگ نہ دینے کی شکایتیں۔ اس سے متعلق سوال پر مرکزی حج کمیٹی کی خاموشی مگر ریاستی حج کمیٹی کا اعتراف ۔
EPAPER
Updated: May 11, 2026, 2:52 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
بیٹری جلد ختم ہوجانے، قیمت زیادہ وصول کرنے اور اسے استعمال کرنے کی ٹریننگ نہ دینے کی شکایتیں۔ اس سے متعلق سوال پر مرکزی حج کمیٹی کی خاموشی مگر ریاستی حج کمیٹی کا اعتراف ۔
عازمین کی سہولت، بچھڑجانے یاگم ہونے کی صورت میں انہیں تلاش کرنے کے نام پر حج۲۰۲۶ء میں اسمارٹ واچ پہلی دفعہ مہیا کرائی گئی ہے۔ اس کے تعلق سے کئی طرح کی شکایتیں مل رہی ہیں اور جس مقصد کیلئے بلند بانگ دعوے کے ساتھ اسے ایک لاکھ۲۲؍ہزار ۵۰۰؍ عازمین پر تھوپا گیا ہے، اس پر سوالیہ نشان لگتا نظر آرہا ہے۔
سب سے زیادہ شکایت عازمین کی یہ ہے کہ بیٹری چند گھنٹے بھی نہیں چلتی، بعض نے اس کا وقفہ تین گھنٹے اور بعض نے چار گھنٹے تو بعض نے ڈھائی گھنٹہ ہی بتایا۔ اس سے انہیں حج کے ایام میں بہت زیادہ دقت ہوگی۔ دوسرے ایک عازم سے اسمارٹ واچ کے کئی ہزار روپے، بعض کے مطابق تقریباً ۵۲۰۰؍ روپے چارج کئے جانے کی بات سامنے آرہی ہے (حالانکہ اصل قیمت چھپائی گئی ہے) جبکہ بازار میں اس کی قیمت اس سے کافی کم بلکہ چوتھائی بتائی گئی ہے۔ اگر بالفرض مذکورہ قیمت مان لی جائے تو مجموعی رقم تقریباً ۶۴؍ کروڑ روپے ہوتی ہے۔ تیسرے یہ کہ حج کمیٹی سے بار بار پوچھنے کے باوجود یہ نہیں بتایا گیا کہ پچھلے سال کتنے فیصد عازمین بچھڑے یا گم ہوئے تھے جس کی بنیاد پر اسمارٹ واچ لائی گئی ہے تاکہ یہ مسئلہ حل ہو۔ اس کے علاوہ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اسے استعمال کرنے کی ٹریننگ عازمین حج کو نہ ہی ٹرینرس کو اور نہ ہی حج انسپکٹرز (ایس ایچ آئی) کو دی گئی۔ اس لئے بھی سوال پیدا ہو رہا ہے کہ حج سویدھا ایپ پہلے سے موجود ہے، اس میں ٹریکنگ سسٹم ڈالا جاسکتا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ایس ایس سی میں کامیاب جامعہ کی طالبات گریجویشن کی بھی خواہاں
یہی وجہ ہے کہ کچھ عازمین اور عازمین کی خدمت کرنے والی تنظیموں اور کچھ حج کمیٹی کے افسران کا یہ اندیشہ درست معلوم ہوتا ہے کہ عازمین کی سہولت اور انہیں فائدہ پہنچانے کے بجائے کہیں یہ نفع بخش کاروبار تو نہیں ہے؟ اور عازمین کی سہولت کی آڑ میں چند دن میں ہی خطیر رقم کما لی گئی؟
اس تعلق سے ریاستی حج کمیٹی کی جانب سے بھی ان شکایات کی تصدیق کی گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ نامعلوم کن وجوہات سے قیمت مخفی رکھی گئی۔ حالانکہ بتانے سے کئی طرح کے شکوک وشبہات کا ازالہ ہوجاتا ہے اور لب کشائی کرنے والوں کی زبان بند ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی حج کمیٹی نے یہ اعتراف کیا ہے کہ حاجی کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اس سے کس خدمت کے عوض کتنی رقم چارج کی گئی۔ جیسا کہ حج پر روانگی شروع ہونے کے باوجود اس دفعہ مزید ۱۰؍ ہزار روپے ہوائی جہاز کے ایندھن کی قیمت بڑھنے کے نام پر جمع کرانے کا حج کمیٹی نے سرکیولر جاری کیاتھا اور بڑی تعداد میں عازمین جمع بھی کراچکے ہیں۔
عازمین کی خدمت کرنے والی کمیٹیوں کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ بلاشبہ عازمین کی سہولت کی خاطر حج کمیٹی قدم اٹھاتی ہے لیکن اگر کہیں شک پیدا ہو تو اس کی وضاحت بھی حج کمیٹی کی ذمہ داری ہے۔ اس لئے بھی کہ حج کمیٹی کا پورا نظام مع تنخواہ کی ادائیگی حاجیوں کی گاڑھی کمائی سے کیا جاتا ہے، حکومت کسی قسم کی مالی مدد نہیں دیتی ہے اس لئے اس کا فرض ہے کہ وہ حاجیوں کے مفادات کو مقدم رکھے۔
اس تعلق سے جاوید عالم (حج ٹرینر) نے مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ میں موجود۶؍ عازمین سے بات چیت کے حوالے سے بتایا کہ اسمارٹ واچ کی بیٹری بمشکل ڈھائی تین گھنٹے چلتی ہے۔ ابھی حج کے ایام شروع نہیں ہوئے ہیں تو کسی طرح چارج کرلیتے ہیں، حج کے دوران کیا کریں گے اس لئے کم ازکم۵؍ دن چلنے والی بیٹری دی جائے تاکہ چارجنگ کا جھنجھٹ نہ رہے۔
نمائندۂ انقلاب نے اسمارٹ واچ کے تعلق سے حج کمیٹی آف انڈیا کے سی ای او شہنواز سی سے اس ضمن میں دو مرتبہ سوالات لکھ کر بھیجے اور عازمین کی دقتوں سے انہیں آگاہ کرایا مگر انہوں نے خاموشی اختیار کی۔