• Mon, 09 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ امریکہ سے ۵۰۰؍ بلین ڈالر کی خریداری مشکل نہیں‘‘

Updated: February 09, 2026, 10:22 AM IST | New Delhi

وزیر تجارت پیوش گوئل ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کے دفاع میں  مصروف، اندیشوں  کو دور کرنے کی کوشش کی، ملک کیلئے فائدہ مند بتایا، اپوزیشن نے پارلیمنٹ میں  مباحثہ کی مانگ کی۔

Piyush Goyal speaking to PTI. He gave interviews to several agencies on Sunday. Photo: PTI
پیوش گوئل پی ٹی آئی کے ساتھ گفتگو کرتےہوئے۔ اتوار کو انہوں نے کئی ایجنسیوں  کو انٹرویو دیئے۔ تصویر: پی ٹی آئی

امریکہ کےساتھ تجارتی معاہدہ پر تنقیدوں کے بیچ اتوار کو وزیر تجارت پیوش گوئل نے ایک زائد نیوز ایجنسیوں  کو انٹرویو دیکر مذکورہ معاہدہ کے فوائد گنوائے اور پُرزور انداز میں  کہا کہ امریکہ کے ساتھ تجارت تک محدود نہیں ہیں  بلکہ واشنگٹن نئی دہلی کا اہم شراکت دار ہے اور یہ معاہدہ اس شراکت داری کو مزید تقویت فراہم کرےگا۔ اس سوال پر کہ ہندوستان جو امریکہ سے مشکل سے سال بھر میں   ۴۵-۴۰؍ ارب ڈالر کی خریداری کرتا ہے، کیسے سالانہ ۱۰۰؍ ارب ڈالر کی خریداری کریگا، وزیر تجارت نے کہا ہے کہ اس ہدف کا حصول ہندوستان کیلئے مشکل نہیں  ہوگا۔ دوسری طرف اپوزیشن نے معاہدہ پر تنقید کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں  اس پر مباحثہ کا مطالبہ کیا ہے۔ 
ایندھن کیلئے امریکہ پر انحصار کا اشارہ
پی ٹی آئی ویڈیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں پیوش گوئل نے کہا کہ امریکہ سے آئندہ ۵؍ برسوں میں ۵۰۰؍ ارب ڈالر مالیت کا سامان خریدنے میں ہندوستان کو کوئی دقت نہیں  ہوگی بلکہ ایک ایسے ملک کیلئے جو ۳۰؍ کھرب ڈالر کی معیشت بننا چاہتا ہے یہ ’’انتہائی‘‘ محتاط اندازہ ہے۔ انہوں  نے کہا کہ ’’میرا اندازہ ہے کہ ہمیں صرف ہوابازی کے شعبے کیلئے ۱۰۰؍ ارب ڈالر سے زیادہ کی ضرورت ہوگی۔ اس کے علاوہ تیل، ایل این جی، ایل پی جی اور خام تیل بھی شامل ہیں۔ ‘‘
تجارتی معاہدہ کے تعلق سے سنیچر کو جاری کئے گئے دونوں ملکوں کے مشترکہ بیان میں  بھی کہا گیا ہے کہ ہندوستان آئندہ ۵؍برسوں میں امریکی ایندھن سے متعلق مصنوعات، طیارے اور ان کے پرزے، قیمتی دھاتیں، تکنالوجی مصنوعات اور کوکنگ کوئلہ خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ 
ہندوستانی اشیاء پر ۱۸؍ فیصد ٹیرف کا دفاع
وزیر تجارت و صنعت نے امریکہ میں   ہندوستانی اشیاء پر۱۸؍ فیصد ٹیرف کا بھی دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اس باوجود امریکی بازار میں ہندوستانی سامان کو چین اور دیگر ملکوں کے مقابلے میں مسابقتی برتری حاصل رہے گی کیونکہ چین پر۳۵؍ فیصد ٹیرف ہے اور ایشیا کے دیگر ملکوں پر۱۹؍ فیصد یا اس سے زیادہ ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ ‘‘ ذہن نشین رہے کہ ٹرمپ کے ذریعہ ٹیرف بڑھا کر ۲۵؍ فیصد اور پھر ۲۵؍ فیصد مزید جرمانہ عائد کرکے ۵۰؍ فیصد کئے جانے سے پہلے امریکہ میں  ہندوستانی اشیاء پر ٹیرف ۴؍ سے ۵؍ فیصد عائد ہوتا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہندوستان اورامریکہ ’ٹریڈ ڈیل‘ سے اے آئی ہارڈویئر سیکٹر کو بڑا فائدہ

۵۰۰؍ ارب ڈالر کی خریداری آسان
خریداری کیلئے امریکہ پر انحصار بڑھانے کا اشارہ دیتے ہوئے پیوش گوئل نے کہا کہ اس وقت ہندوستان مختلف ملکوں  سے تقریباً۳۰۰؍ ارب ڈالر مالیت کا ایسا سامان درآمد کر رہا ہے جو وہ امریکہ سے خرید سکتا ہے۔ انہوں  نے مستقبل میں  مانگ میں   اضافے کے امکانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جیسے جیسے ہندوستانی  معیشت تیزی سے بڑھ رہی ہے، سیمی کنڈکٹر چپس، ہائی اینڈ مشینری، ڈیٹا سینٹر کے آلات، طیارے، ان کے پرزہ اور توانائی کے سامان کی طلب بھی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ’’ بڑی تکنالوجی کمپنیاں ہندوستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں ، میرے اندازے کے مطابق ملک میں ۱۰؍ گیگاواٹ کے ڈیٹا سینٹرس بنیں گے جن کیلئے ضروری آلات امریکہ فراہم کر سکتا ہے۔ ‘‘اس کے ساتھ ہی انہوں   نے کہا کہ ’’ہمیں طیاروں کی ضرورت ہے، انجنوں کی ضرورت ہے، پرزوں کی ضرورت ہے۔ صرف بوئنگ کیلئےہی ۵۰؍ ارب ڈالر کے آرڈر موجود ہیں۔ انجنوں کے آرڈر بھی دیئے جا چکے ہیں۔ ‘‘ وزیر تجارت نے کہا کہ ’’ تقریباً۸۰؍ سے ۹۰؍ ارب ڈالر کے آرڈر آئندہ ۵؍برسوں کیلئے پہلے ہی ہوچکے ہیں جبکہ زیادہ کی ضرورت پڑے گی۔ ‘‘
کانگریس کا نام لے کر صفائی پیش کی
پیوش گوئل نے کہا کہ اسٹیل انڈسٹری کی تیز رفتارترقی کیلئے صرف کوئلے کی ہی ۳۰؍ ارب ڈالر کی درآمد کی ضرورت ہوگی۔ یہ تمام چیزیں پہلے ہی سے درآمد کی جا رہی ہیں کانگریس اور یوپی اے کے دور سے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ‘‘
انہوں نے کہا کہ ملک میں طلب اور کھپت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ مزید یہ کہ بجٹ میں اعلان کیا گیا ہے کہ ڈیٹا سینٹرس، اے آئی مشن، اور اہم مینوفیکچرنگ اور منرل پروسیسنگ کو فروغ دیا جائے گا، جن میں اعلیٰ معیار کی مشینری، آئی سی ٹی مصنوعات، چپس، اے آئی اور کوانٹم کمپیوٹنگ کے آلات درکار ہوں گے۔ گوئل نے سوال کیا کہ ’’ یہ سب کہاں سے آئے گا؟‘‘ انہوں نے کہا کہ دنیا کی سب سے طاقتور تکنالوجی فراہم کرنے والا ملک امریکہ ہی ہے۔ اس لئے سالانہ ۱۰۰؍ ارب ڈالر کی خریداری کا تخمینہ بہت محتاط ہے۔ ‘‘
ٹیرف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے ہندوستان پر لگنے والا ٹیرف اب حریف ممالک کی نسبت بہت کم ہے۔ چین پر ۳۵؍ فیصد ، تھائی لینڈ پر ۱۹؍ فیصد، میانمار پر ۴۰؍فیصد، کمبوڈیا پر ۱۹؍ فیصد، بنگلہ دیش پر ۲۰؍ فیصد، انڈونیشیا پر ۱۹؍ فیصد، برازیل پر ۵۰؍ فیصد اور ویتنام پر ۲۰؍ فیصد ٹیرف کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ ’’کم ٹیرف ہونےکی وجہ سے ہندوسان کی پکڑا صنعت، چمڑے اور جوتے، ہینڈی کرافٹس، کیمیکلز اور جیولری جیسے کےمزدوروں  سے متعلق شعبوں کیلئے امریکہ میں مقابلہ آر ائی آسان ہوجائے گی۔ اس بات پر زوردیا کہ ہندوستان کو یہ دیکھنا چاہئے کہ اس پر دیگر ملکوں   کے مقابلے میں  کم ٹیرف عائد کیا جارہاہے۔ 
اس بیچ اپوزیشن نے تجارتی معاہدہ پر پارلیمنٹ میں  بحث کا مطالبہ کیا ہے۔ شیو سینا (اُدھو) کی رکن پارلیمنٹ پریانکا چترویدی نے واشنگٹن کے ساتھ ہونےوالے تجارتی سمجھوتے کو ہندوستان کے عوام کے ساتھ ’’غداری ‘‘ قراردیتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت کے قومی مفاد کا سمجھوتہ کرلیا اور ملک کی پالیسی امریکہ کے حوالے کردیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاہدہ پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے۔ انہوں نے خبر رساں  ایجنسی ’اے این آئی‘ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ’’یہ دھوکہ ہے، کس مجبوری میں یہ قدم اٹھایا گیا؟ حکومت کو پارلیمنٹ کے ایوان میں آ کر اس تجارتی معاہدے پر بحث کرنی ہوگی...(یہ واضح ہے کہ) حکومت پر دباؤ ڈالا گیا ہے (مگر سوال یہ ہے کہ ) ان کے (دباؤ میں  آنے کے)  اسباب کیا تھے؟ یہ سب کچھ پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم پر زیر بحث آنا چاہیے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK