Updated: February 08, 2026, 10:09 PM IST
| New Delhi
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ٹریڈ ڈیل کے پہلے مرحلے کی تکمیل کو ہندوستان کے اے آئی ہارڈویئر سیکٹر کے لیے ایک بڑا فروغ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے ایڈوانس کمپیوٹنگ سے متعلق آلات کی لاگت کم ہونے کی امید ہے، جس سے ملک میں ان کی مینوفیکچرنگ اور صلاحیت میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
مصنوعی ذہانت۔ تصویر:آئی این این
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ٹریڈ ڈیل کے پہلے مرحلے کی تکمیل کو ہندوستان کے اے آئی ہارڈویئر سیکٹر کے لیے ایک بڑا فروغ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے ایڈوانس کمپیوٹنگ سے متعلق آلات کی لاگت کم ہونے کی امید ہے، جس سے ملک میں ان کی مینوفیکچرنگ اور صلاحیت میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
خالصہ ووکس نیوز پورٹل میں شائع ایک مضمون کے مطابق، یہ پہلا موقع ہے کہ دو بڑی معیشتوں کے درمیان کسی دو طرفہ تجارتی معاہدے میں اے آئی کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کو اسٹریٹجک اثاثہ تسلیم کیا گیا ہے، جس کے بھارت کے تکنیکی مستقبل پر طویل المدت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اب تک اس شعبے کا سب سے بڑا مسئلہ جی پی یو سرورز پر عائد بھاری درآمدی ڈیوٹی رہی ہے، جو ۲۰؍ سے ۲۸؍ فیصد تک ہے۔ اس کی وجہ سے ہندوستان میں جی پی یو پر مبنی خدمات بہت مہنگی ہو جاتی ہیں اور سنگاپور یا یو اے ای جیسے ممالک کے مقابلے میں کم مسابقتی رہتی ہیں۔
مضمون میں بتایا گیا ہے کہ صنعت کے اندازوں کے مطابق اگر ان ٹیکسوں میں کمی کی جاتی ہے تو جی پی یو سے لیس ڈیٹا سینٹرز کی تعمیراتی لاگت میں تقریباً ۱۴؍ فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ اس سے ملک میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ یہ وقت ہندوستان کے لیے سازگار سمجھا جا رہا ہے کیونکہ دنیا کے مجموعی ڈیٹا کا تقریباً پانچواں حصہ ہندوستان میں پیدا ہوتا ہے، لیکن یہاں عالمی ڈیٹا سینٹر کی صلاحیت اور انٹرپرائز جی پی یوز کی تعداد بہت کم ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ: ہندوستان بمقابلہ یو ایس اے میچ میں اہم ریکارڈس بنے
مضمون کے مطابق، دنیا کی بڑی کلاؤڈ اور ٹیکنالوجی کمپنیاں اس دہائی کے اختتام تک ہندوستان میں ۸۰؍ ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کر سکتی ہیں۔ ٹریڈ ڈیل کو ایک ایسے موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس سے ہندوستان عالمی اے آئی کمپیوٹ سروسیز میں ایک مضبوط دعوے دار بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کیا سلمان خان کی فلم ’’بیٹل آف گلوان‘‘کی ریلیز ملتوی ہو سکتی ہے؟
مضمون میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ماہرین نے کچھ احتیاطی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایڈوانس ہارڈویئر تک آسان رسائی کے ساتھ ساتھ ڈیٹا سیکوریٹی، قومی سلامتی اور گھریلو ویلیو کری ایشن کے لیے مضبوط پالیسیوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔ آگے کہا گیا ہے کہ اگر ایسی پالیسیاں نہیں بنیں تو اس بات کا خدشہ ہے کہ ہندوستان صرف کم منافع والی کمپیوٹنگ خدمات فراہم کرنے والا ملک بن کر رہ جائے گا، جبکہ اصل معاشی اور اسٹریٹجک فائدہ دوسرے ممالک کو حاصل ہو جائے گا۔