Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملک میں ۱۰۰؍ صنعتی پارک کی تعمیر کا منصوبہ، ۳۳ء۶؍ہزار کروڑ مختص

Updated: May 25, 2026, 10:02 AM IST | Agency | New Delhi

’’بھو ّ یہ اسکیم‘‘ نام دیاگیا، ریاستوں کا اشتراک رہے گا، ابترمعاشی حالات سے نمٹنے کیلئے حکومت کی توجہ مینوفیکچرنگ کے شعبے کو تقویت فراہم کرنے پر مرکوز۔

Union Minister Piyush Goyal In A Meeting With Government Officials And Industry Representatives.Photo:INN
مرکزی وزیر پیوش گوئل سرکاری حکام اور صنعتی نمائندوں کے ساتھ میٹنگ میں- تصویر:آئی این این
ابتر ہوتے معاشی حالات  سے نمٹنے کیلئے مرکزی حکومت نے اپنی توجہ مینوفیکچرنگ  کے شعبے کو تقویت فراہم کرنے پر مرکوز کی ہے۔ مرکزی وزیر تجارت نے جمعہ کو حکام اور صنعتی نمائندوں سے ملاقات میں  اس بات پر زور دیاتھا کہ مینوفیکچرنگ میں اضافہ کے ذریعہ حکومت درآمدات (اِمپورٹ ) پر انحصار کم کرکے زرمبادلہ کی بچت  کے حق میں  ہے۔ اس جانب مزید پیش رفت کرتے ہوئے مرکزی وزیر تجارت پیوش گوئل نے سنیچر کو’’بھویہ اسکیم‘‘( بھارت اُدیوگِک وِکاس یوجنا) کے رہنما خطوط جاری کئے۔اس  کے تحت حکومت ملک بھر میں۱۰۰؍صنعتی پارک تیار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
 صنعتی پارکوں کا مرحلہ وار قیام
اس اسکیم کیلئے ۳۳؍ ہزار ۶۶۰؍ کروڑ روپے کا مالیاتی بجٹ مقرر کیا گیا ہے، جو ریاستی حکومتوں کے اشتراک سے’’ پلگ اینڈ پلے صنعتی پارکوں‘‘ کے ذریعے مینوفیکچرنگ اور سرمایہ کاری کے مراکز قائم کرے گا۔مرکزی وزیر نے بتایا کہ مرکزی کابینہ نے تقریباً ۲؍ ماہ قبل اس اسکیم کو منظوری دی تھی۔ مرکزی حکومت کو امید ہے کہ ریاستی حکومتیں صنعتی ترقی کو فروغ دینے کیلئے سازگار ماحول فراہم کریں گی۔ پیوش گوئل نے بتایا کہ ابتدائی  ۲؍ مہینوں میں۲۰؍صنعتی پارکوں کیلئے  درخواستیں طلب کی جائیں گی۔ اس کے بعد اگلے ۲؍مہینوں میں مزید۳۰؍پارکوں کیلئے  درخواستیں لی جائیں گی۔ باقی ۵۰؍پارکوں کو اگلے مرحلہ میں شامل کیا جائے گا۔
۴؍ مہینوں میں ۵۰؍ پارکوں کیلئے درخواستیں
حکومت اگلے ۴؍مہینوں میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں (یونین ٹیریٹری، یوٹی) سے درخواستیں طلب کر رہی ہے۔ مرکزی حکومت کا منصوبہ ابتدا میں۵۰؍صنعتی پارکوں کیلئے  درخواستیں حاصل کرنے کا ہے تاکہ ملک بھر میں اس اسکیم کو تیزی سے نافذ کیا جا سکے۔
صنعتوں کیلئے سہولت کی فراہمی 
مرکزی حکومت کی اس اسکیم کا مقصد پہلے سے منظور شدہ زمین، تیار انفرااسٹرکچر اور مربوط خدمات کے ساتھ سرمایہ کاریکیلئے  تیار صنعتی ماحولیاتی نظام فراہم کرنا  ہے۔ اس سے صنعتوں کو اپنا کام جلد شروع کرنے میں مدد ملے گی۔ان پارکوں کی  تیاری نیشنل انڈسٹریل کوریڈور ڈیولپمنٹ پروگرام (این آئی سی ڈی پی) کے ڈھانچے کے تحت ریاستوں اور نجی شعبے کے اداروں کے اشتراک سے کی جائے گی۔
انفرااسٹرکچر کیلئے فی ایکڑ ایک کروڑ روپے تک مالی مدد
حکومت کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق ان صنعتی پارکوں کا سائز۱۰۰؍  سے ایک ہزارایکڑ کے درمیان ہوگا۔ انفرااسٹرکچر کی تیاری کیلئے حکومت فی ایکڑ ایک کروڑ روپے تک مالی امداد دے گی۔اس امداد کے تحت اندرونی سڑکیں، زیر زمین یوٹی لِیٹیز، مشترکہ ٹریٹمنٹ سہولیات، ویئر ہاؤسنگ، ٹیسٹنگ لیب اور مزدوروں کیلئے  رہائش کی سہولیات تیار کی جائیں گی۔ پہاڑی ریاستوں کیلئے ۲۵؍ایکڑ زمین پر بھی صنعتی پارک کی منظوری دی جا سکتی ہے۔مرکزی حکومت نے موجودہ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک نیٹ ورک کے ساتھ رابطے کو بہتر بنانے کیلئے ۲۵؍ فیصد تک بیرونی انفرااسٹرکچر سپورٹ کی تجویز بھی دی ہے۔
 
 
پروجیکٹ کے انتخاب کا طریقہ کار
اس اسکیم کے تحت پروجیکٹس کا انتخاب ایک چیلنج پر مبنی  عمل کے ذریعہ کیا جائے گا جو سرمایہ کاری کیلئے  تیار اور اصلاحات پر مبنی تجاویز پر توجہ مرکوز کرے گا۔مرکزی وزیر نےبتایا کہ جو ریاستیں زمین، پانی اور بجلی جیسی بہتر سہولیات فراہم کریں گی، وہ سرمایہ کاروں کو زیادہ متوجہ کر سکیں گی۔ راجستھان، مہاراشٹر، مغربی بنگال اور ہریانہ نے اس اسکیم میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ریاستوں کو نجی شعبے کے اداروں کے ساتھ شراکت داری کرکے تجاویز پیش کرنے کی بھی اجازت ہوگی، جس کے تحت مرکزی حکومت فی ایکڑ۵۰؍لاکھ روپے کی امداد فراہم کرے گی۔
 
 
’’سنگل ونڈو کلیئرنس سسٹم ‘‘بنانے کی ہدایت
تیز منظوری کو یقینی بنانے کیلئے  ریاستوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اسپیشل پرپز وہیکلز (ایس پی ویز) قائم کریں، پلاننگ اتھارٹیز کو مطلع کریں اور سنگل ونڈو کلیئرنس سسٹم تیار کریں۔مرکزی وزیر تجارت نے امید ظاہر کی ہے کہ اگلے ۳؍ برسوں میں یہ۵۰؍ صنعتی پارک مکمل طور پر فعال ہو جائیں گے۔یہ صنعتی پارک پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے مطابق تیار کئے جا رہے ہیں۔ ان کا فوکس ملٹی ماڈل کنیکٹیویٹی،  آخری میل تک آسان رسائی اور مربوط زیر زمین یوٹیلیٹی کوریڈور پر ہوگا تاکہ دیکھ بھال سے متعلق رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے۔   ان پارکوں میں گرین انرجی اور پائیدار وسائل کے استعمال کو ترجیح دی جائے گی۔ ڈپارٹمنٹ فار پروموشن آف انڈسٹری اینڈ انٹرنل ٹریڈ (ڈی پی آئی آئی ٹی) کے تحت نیشنل انڈسٹریل کوریڈور ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این آئی سی ڈی سی) اس اسکیم کے نفاذ کی ذمہ داری سنبھالے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK