• Thu, 05 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈیزائننگ پلیٹ فارم کینوا میں ۲۲؍ فیصد ملازمین کی چھٹنی کا منصوبہ

Updated: November 05, 2026, 4:20 PM IST | New Delhi

معروف آن لائن گرافک ڈیزائننگ پلیٹ فارم کینوا نے اخراجات میں کمی اور کاروباری ڈھانچے کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اپنے تقریباً ۲۲؍ فیصد ملازمین کی چھٹنی کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں کمپنی کے ۱۲۷۱؍ ملازمین متاثر ہوں گے۔

Lay Off.Photo:INN
چھٹنی۔ تصویر:آئی این این

معروف آن لائن گرافک ڈیزائننگ پلیٹ فارم کینوا  نے اخراجات میں کمی اور کاروباری ڈھانچے کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اپنے تقریباً ۲۲؍ فیصد ملازمین کی چھٹنی کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں کمپنی کے ۱۲۷۱؍ ملازمین متاثر ہوں گے۔ اس خبر نے ٹیکنالوجی اور ڈجیٹل ڈیزائننگ کی صنعت میں تشویش پیدا کردی ہے، کیونکہ کینوا دنیا بھر میں لاکھوں صارفین، کاروباری اداروں، تعلیمی تنظیموں اور پیشہ ور ڈیزائنرز کے زیرِ استعمال ایک مقبول پلیٹ فارم ہے۔
ملازمین کی اتنی بڑی تعداد کو فارغ کرنے کا منصوبہ کمپنی کی جانب سے اخراجات پر قابو پانے اور اپنے وسائل کو نئی کاروباری ترجیحات کے مطابق ترتیب دینے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ اس اقدام سے کینوا کے مختلف شعبوں میں کام کرنے والے ملازمین متاثر ہوسکتے ہیں، تاہم چھٹنی کے شعبہ وار تناسب اور متاثرہ ملازمین کے لیے فراہم کی جانے والی سہولتوں سے متعلق مزید تفصیلات کی تصدیق ضروری ہے۔ یہ تعداد کمپنی کی مجموعی افرادی قوت کا تقریباً ۲۲؍ فیصد ہے۔ کمپنی کی شریک بانی اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر میلنی پرکنز نے ملازمین کو بھیجے گئے پیغام میں کہا ہے کہ اس تبدیلی کے تحت کچھ ملازمین کی ملازمتیں ختم ہوں گی، بعض کے عہدوں اور ذمہ داریوں میں تبدیلی کی جائے گی، جبکہ کچھ ملازمین کو مرکزی دفاتر میں منتقل ہونے کے لیے کہا جائے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ کمپنی نے ابھی یہ واضح نہیں کیا ہے کہ متاثر ہونے والے ۱۲۷۱؍ افراد میں سے کتنے ملازمین کو براہِ راست ملازمت سے فارغ کیا جائے گا۔ 
کینوا کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب کمپنی کی ترقی کی رفتار ایک دہائی میں پہلی مرتبہ سست پڑی ہے۔ میلنی پرکنز نے ملازمین کو بھیجے گئے پیغام میں اس سال کو کمپنی کی ۱۳؍ سالہ تاریخ کا مشکل ترین دور قرار دیا۔ ان کے مطابق انتظامی ڈھانچے میں معمولی تبدیلیاں کافی نہیں رہیں، اس لیے کمپنی کو اپنے کام کرنے کے طریقے، ٹیموں کی تشکیل اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق بڑی تبدیلیاں کرنا پڑ رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کینوا نے ۲۰۲۶ء کے لیے اپنی آمدنی میں اضافے کی پیش گوئی بھی پہلے کے ۳۰؍ فیصد سے کم کرکے ۲۰؍ فیصد کردی تھی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی اور صارفین کی ضروریات کے پیش نظر اسے اپنے کاروباری ڈھانچے کو زیادہ مؤثر اور سادہ بنانا ہوگا۔ 

یہ بھی پڑھئے:قندھار واریئرز نے محمد عامر کو ایک لاکھ ڈالر میں خرید لیا

تنظیم نو کے تحت کینوا اپنی پروڈکٹ، گروتھ اور پلیٹ فارم ٹیموں کو ایک مشترکہ پروڈکٹ آرگنائزیشن کے تحت لانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس سے مختلف شعبوں کے درمیان رابطے اور کام کی منتقلی میں وقت ضائع ہونے کا مسئلہ کم ہوگا اور ہر ٹیم کو اپنے کام کی واضح ذمہ داری مل سکے گی۔اس کے علاوہ انتظامی سطحوں کو کم کیا جائے گا، ایک جیسے کام کرنے والے عہدوں اور ذمہ داریوں کو یکجا کیا جائے گا اور ملازمین کو منصوبوں کی ابتدا سے تکمیل تک زیادہ اختیارات دیے جائیں گے۔ کمپنی کا مقصد چھوٹی، خودمختار اور بااختیار ٹیموں کے ذریعے فیصلوں میں تیزی اور کام میں بہتری لانا ہے۔ 
کینوا اپنی تنظیم نو کے تحت آسٹریلیا کے شہر سڈنی کو پروڈکٹ سے متعلق مزید ٹیموں کا بنیادی مرکز بنانے کی تیاری کررہی ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں بعض ملازمین کو دوسرے مقامات سے سڈنی یا دیگر مرکزی دفاتر منتقل ہونے کے لیے کہا جاسکتا ہے۔ کمپنی نے متاثرہ ملازمین کو منتقلی کے عمل میں مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔اس کے علاوہ جنوری ۲۰۲۷ء سے ہائبرڈ نظام کے تحت کام کرنے والے بیشتر ملازمین سے توقع کی جائے گی کہ وہ ہفتے میں دو سے تین دن دفتر میں حاضر ہوں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ان ٹیموں کے درمیان براہِ راست رابطہ بڑھانا ہے جنہیں اپنے کام کے لیے قریبی تعاون اور باہمی مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے۔ 
 کینوا نے ملازمت چھوڑنے والے ملازمین کے لیے مختلف سہولتوں کا اعلان بھی کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق متاثرہ ملازمین کو کم از کم چھ ماہ کی تنخواہ فراہم کی جائے گی۔ جن ممالک میں کمپنی کی جانب سے صحت کی سہولت دستیاب ہے، وہاں ملازمین کو مزید ۱۲؍ ماہ تک ہیلتھ کوریج بھی ملے گی۔ اس کے علاوہ ملازمین کو ایک سال تک کریئر رہنمائی، انٹرویو کی تیاری میں مدد، لنکڈ اِن پریمیم کی رکنیت اور ملازمت کے نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے معاونت فراہم کی جائے گی۔ کمپنی نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ملازمت چھوڑنے والے ملازمین اپنے کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ میک بُک اپنے پاس رکھ سکیں گے۔ کینوا نے ایک خصوصی فنڈ کے تحت ایسے ملازمین کو ۱۰؍ ہزار امریکی ڈالر کی گرانٹ دینے کا منصوبہ بھی بنایا ہے جو اپنی کمپنی یا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں یا سماجی منصوبوں پر کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:رنبیر کپور کی بیٹی راہا بھی فلم’ ’رامائن‘‘ کا حصہ بنیں گی

کینوا کی تنظیم نو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی ٹیکنالوجی صنعت میں مصنوعی ذہانت  (اے آئی ) کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث کاروباری ادارے اپنے کام کرنے کے طریقوں اور ملازمین کی ضروریات کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیزائننگ اور تصویری تخلیق کے نئے آلات نے روایتی ڈیزائننگ سافٹ ویئر کے شعبے میں مسابقت بڑھا دی ہے۔ تاہم، کینوا نے اپنے تنظیم نو کے اعلان میں مصنوعی ذہانت کو براہِ راست ملازمین کی چھٹنی کی وجہ قرار نہیں دیا، بلکہ اس کی بنیادی وجوہات میں ترقی کی سست رفتار، انتظامی ڈھانچے کی پیچیدگیاں اور ٹیموں کے درمیان بہتر تال میل کی ضرورت بتائی ہے۔  کینوا کا یہ فیصلہ عالمی ٹیکنالوجی صنعت میں جاری تنظیمی تبدیلیوں کی ایک اہم مثال ہے۔ کمپنی اب چھوٹی اور خودمختار ٹیموں، کم انتظامی سطحوں اور سڈنی میں زیادہ مرکزی سرگرمیوں کے ذریعے اپنے اگلے کاروباری مرحلے کی تیاری کرنا چاہتی ہے۔ دوسری جانب ۱۲۷۱؍ ملازمین کے متاثر ہونے سے اس فیصلے کے انسانی اور روزگار سے متعلق اثرات بھی نمایاں ہوگئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK