• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تلجاپور میں معاشقے پر تنازع، ۱۸؍سالہ نوجوان کا بہیمانہ قتل

Updated: November 05, 2026, 5:13 PM IST | ZA Khan | Osmanabad

الزام ہے کہ لڑکی کے گھروالوں نےنوجوان کے اہل خانہ کو یرغمال بناکرنوجوان کو پیٹا جس سے اس کی موت ہوگئی۔

The injured youth, Arbaz, is undergoing treatment at this government hospital in Osmanabad. Photo: INN
زخمی نوجوان ارباز عثمان آباد کے اس سرکاری اسپتال میں زیرعلاج ہے۔ تصویر: آئی این این

معاشقے کے معاملے میں پیدا ہونے والے تنازع کے بعد ایک ۱۸؍ سالہ نوجوان کے بہیمانہ قتل کا سنسنی خیز معاملہ تلجاپور شہر میں پیش آیا ہے۔ مہلوک نوجوان کا نام امیر پٹیل بتایا جارہاہے۔ اس واقعے سے شہر میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ 

حاصل کردہ اطلاعات کے مطابق  امیر پٹیل پر حملہ کرنے سے قبل اس کے اہلِ خانہ کو یرغمال بناکر اسے زبردستی گھر سے لے جانے کا سنگین الزام رشتہ داروں نے عائد کیا ہے۔ اس حملے میں امیر کے ساتھ موجود اسکے دوست ارباز سید کو بھی بری طرح زدوکوب کیا گیا، جو عثمان آبادکے سرکاری اسپتال میں زیرعلاج ہے۔ 

معاملہ کیاہے؟

موصولہ اطلاعات کے مطابق، امیر پٹیل کا  تلجاپور شہر کی رہنے والی ایک لڑکی کے ساتھ معاشقہ چل رہا تھا، تاہم جب لڑکی کے گھروالوں کو پتہ چلا تو کچھ عرصے بعد اس معاملے کو ختم کردیا گیا۔ الزام ہے کہ اس کے باوجودلڑکی کےاہل خانہ نے  رنجش و پرخاش رکھی اور امیرپٹیل کو نشانہ بنایا۔ اسی تنازع کے دوران امیر کے ساتھ مارپیٹ کی گئی، جس میں وہ شدید زخمی ہوگیا اور بعد ازاں اس کی موت ہوگئی۔اس واقعے نے اس وقت مزید سنگین رخ اختیار کرلیا جب مہلوک کے رشتہ داروں نے الزام لگایا کہ امیر کو مارنے کے لیے آنے والے افراد نے پہلے اس کے افرادِخانہ کو یرغمال بنایا اور اس کے بعد اسے زبردستی گھر سے باہر لے جاکر اس پر حملہ کیا۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:کابینی اجلاس کا انعقاد، ۱۲؍ اہم فیصلے کئے گئے

جس وقت یہ معاملہ پیش آیا ،امیر پٹیل کے ساتھ اس کا دوست ارباز سید نامی نوجوان بھی موجود تھا، جسے حملہ آوروں نے نہیں بخشا اور اسے بھی بری طرح پیٹا۔ اس حملے میں ارباز شدید زخمی ہوگیا، جسے مزید علاج کیلئے عثمان آباد کے سرکاری اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ ارباز اور اس کے رشتہ داروں نے بھی اس معاملے میں حملہ آوروں کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ اب پولیس تحقیقات کے بعد ہی حملے کی اصل وجوہات اور اس میں ملوث افراد کے کردار کا انکشاف ہوسکے گا۔ واقعے کے بعد تلجاپور پولیس نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تحقیقات شروع کردی ہے۔

امیر پٹیل کے قتل کے واقعے کے بعد تلجاپور شہر میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے۔ اس واردات کے بعد مختلف قیاس آرائیاں بھی کی جارہی ہیں اور بعض حلقوں کی جانب سے اس معاملے کو ’لو جہاد‘ سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے، تاہم ان دعوؤں کی تاحال کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ لہٰذا قتل کی اصل وجہ، ملزمین کی تعداد اور اس واردات میں ملوث تمام افراد کے کردار کا پتہ پولیس تحقیقات کے بعد ہی چل سکے گا۔محبت کے معاملے سے شروع ہونے والے تنازع کا انجام ایک نوجوان کے قتل کی صورت میں سامنے آنے سے تولجاپور شہر میں شدید سنسنی پھیل گئی ہے۔

کارروائی کیا ہوئی؟

سنسنی خیز واردات کے بعد علاقے میں ہونے والی چہ میگوئیوں کے مطابق اس واردات میں مجموعی طور پر۱۷؍ افراد  ملوث بتائے جارہے ہیں۔ دریں اثنا، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سچن پاندکر نے اس سلسلے میں معلومات فراہم کی  ہے اوران  کے مطابق اب تک ۴؍ ملزمین کو گرفتار کیا جاچکا ہے، جبکہ دیگر ملزمین کی تلاش جاری ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK