• Thu, 10 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مدنپورہ، مومن پورہ اور آگری پاڑہ کے کھیل کے میدان

Updated: September 10, 2026, 9:06 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

مدنپورہ کے وائی ایم سی اے اور جھولا میدان کی شہرت دور دور تک ہے۔ یہاں فٹبال، باسکٹ بال، کُشتی اور کراٹے کلب کےسینئر کھلاڑیوں اور کوچیز ہی نہیں بلکہ ان کلبوں سے وابستہ سیکھنے اور کھیلنے والے جونیئر کھلاڑیوں نے بھی ریاستی ،ملکی اور عالمی سطح پر مدنپورہ کا نام روشن کیا ہے۔

Muhammad Hussain Playground and Jhoola Maidan, where local athletes and youths play various sports and hone their skills. Photo: Inquilab.
محمدحسین پلے گراؤنڈ او رجھولا میدان جہاں علاقے کے کھلاڑی اور نوجوان مختلف کھیل کھیلتے اور مہارت حاصل کرتے ہیں۔ تصویر: انقلاب

مورلینڈ روڈ مدنپورہ میں واقع ولنگٹن گراؤنڈ جسے اب ’’عبدالرحمٰن صوفی میدان‘‘  کے نام سے جانا جاتا ہے،کسی تعارف کا محتاج نہیں۔اسے جھولا میدان کے نام سے بھی شہرت حاصل  ہے۔ یہاں ڈسٹرکٹ اور نیشنل سطح پر کُشتی، باسکٹ بال اور والی بال کے پلیئرس کھیلتے رہے ہیں۔ اس میدان کو کبھی عید گاہ ، کبھی سیاسی سرگرمیاں تو کبھی شعر و ادب کا ذوق رکھنے والوں کی تسکین کے لئے چھوٹے بڑے شعراء کی سجائی جانے والی محفلوں سے بھی جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ کھیل کودکے مقابلوں میں حصہ لینے والے ۵؍ سال سے ۱۸؍ سال کے سبھی بچوں اور بالغ کھلاڑیوں کو ولنگٹن وائی ایم سی اے اکیڈمی کے زیر اہتمام نہ صرف مفت باسکٹ بال، والی بال سیکھنے کی ٹریننگ دی جاتی ہے بلکہ شہری ،ریاستی یا ملکی سطح پر ہونے والے ٹورنامنٹ کے آمد و رفت اور  رہنے، کھانے پینے کا بھی مفت انتظام کیا جاتا ہے  البتہ جمنازیم اور کُشتی سیکھنے والوں سے معمولی فیس لی جاتی ہے۔

جھولا میدان کل اور آج 

جھولا میدان کے تعلق سے کہا جاتا ہے کہ یہ گھوڑوں کا اصطبل ہوا کرتا تھا۔ بی ایم سی میں موجودہ ریکارڈ کے مطابق۱۹؍ مارچ ۱۹۲۸ء کو شہری انتظامیہ نے یہ جگہ ولنگٹن وائی ایم سی اے اکیڈمی کو کرایہ پر دے دی تھی ۔ تاہم اسی دوران وائی ایم سی اے اکیڈمی نے اس میدان میں کشتی کے اکھاڑے اور جمنازیم کی بنیاد رکھی ۔ اس اکھاڑے اور جمنازیم میں بطور کوچ سب سے پہلے حسن پہلوان نے کئی برسوں تک خدمات انجام دیں۔ اس زمانہ میں اس اکھاڑے میں ریاستی سطح پر کُشتی کا مقابلہ منعقد کیا جاتا تھا ۔ باسکٹ بال کے موجودہ کوچ رضوان انصاری کے بقول یہاں ہونے والے مقابلوں میں دارا سنگھ اور گاما پہلوان نے بھی حصہ لیا تھا۔ اس اکھاڑے کے موجودہ کوچ اور مشہور پہلوان اصحاب ملک ہیں جنہوں نے ڈسٹرکٹ اور نیشنل لیول پر کئی خطاب اور ٹائٹل جیتے ہیں۔

باسکٹ بال اور والی بال کی شروعات

۱۹۶۵ء میں باسکٹ اور والی بال کا بھی کلب بنایا گیا۔ اس کے اولین کوچیز میں عبدالستار ماسٹر ، امین انصاری اور یوسف سہانی تھے۔ ۱۹۹۳ء سے اب تک مذکورہ اکیڈمی میں رضوان انصاری جو نیشنل گولڈ میڈلسٹ اور باسکٹ بال فیڈریشن آف انڈیا(اے کٹیگری) کے ریفری بھی ہیں، بطور کوچ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کوچ رضوان کے بقول والی بال اور باسکٹ بال یا کُشتی کے اکھاڑے میں شہری ، مقامی ،یا نیشنل سطح پر ہونے والے بے شمار مقابلوں میں جو کھلاڑی حصہ لیتے تھے یا لیتےہیں اور بے شمار ٹرافیاں اور خطابات جیتے ہیں، اس میں حصہ لینے، آنے جانے، رہنے کھانے کے تمام اخراجات اکیڈمی برداشت کرتی ہے نیز کھلاڑیوں کوٹریننگ اور تمام کِٹ بالکل مفت فراہم کرتی ہے ۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ یہاں سے باسکٹ بال اور والی بال میں ڈسٹرکٹ  اور نیشنل لیول پر نمایاں کارکردگی انجام دینے والے بے شمار سینئر کھلاڑی آج  اسپورٹس کوٹہ میں پولیس ، انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ،  سرکاری اور غیر سرکاری بینکوں یا دیگر سرکاری اداروں میں ملازمت کررہے ہیں ۔

 دینی ، سماجی ، ادابی اور سیاسی سرگرمیاں :

  یہ میدان تاریخ اور کھیل کو د کی سرگرمیوں کے حوالہ سے جتنا مشہور ہے اُتنا ہی  دیگر اہم سرگرمیاں بھی اس میدان کو ایک الگ پہچان عطا کرتی ہیں۔ اس کوبطورعید گاہ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ادارہ بائیکلہ اہلحدیث جماعت کے سابق ٹرسٹی عبدالجلیل انصاری کے بقول آزادی کے پہلے سے خواتین و مرد عیدین کی نماز یہاں ادا کرتے ہیںاور اس  میں جماعت کا سالانہ جلسہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سال میں ایک یا دو بار ادبی محفل بھی سجائی جاتی ہے جس میں عالمی سطح پر مشاعرہ بھی شامل ہے۔ ملک کی الگ الگ ریاستوں حتیٰ کہ بیرون ملک سے بھی شعراء مدعو کئے جاتے ہیں۔ یہی نہیں یہ میدان بعض اوقات سیاسی جلسوں کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے جہاںاپوزیشن اور سیکولر ذہن کے لیڈران عوام سے خطاب کرتے ہیں ۔ متنوع مقاصد کیلئے استعمال اس کا طرۂ امتیاز ہے۔ 

اگری پاڑہ میں واقع وائی ایم سی اے پلے گراؤنڈاپنی متنوع سرگرمیوں کے علاوہ فٹ بال اور کراٹے کی شہری ، ضلعی ،نیشنل اور انٹر نیشنل سطح پر ہونے والے مقابلوں میں شاندار کھیل پیش کرنے اوربے شمار مقابلہ جیتنے کے حوالے سے ملکی ہی نہیںبلکہ عالمی شہرت کا حامل ہے۔ یہ میدان بھی کئی اہم مقاصد کیلئے استعمال ہوتا ہے ۔ اس میدان کا تاریخی پس منظر جتنا وسیع ہے اتنا ہی موجودہ پس منظر بھی انتہائی روشن اور تابناک ہے۔

منی برازیل ہے یہ!

ممبئی سینٹرل ریلوے اسٹیشن ، آگری پاڑہ اور مدنپورہ کے درمیان ۱۰؍ ہزار ۲۱۴؍ مربع میٹر پر محیط  محمد حسین پلے گراؤنڈ کا پرانا نام وانسی میدان تھا جس سے بہت کم لوگ ہی واقف ہیں ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس  کے اطراف ،اگری پاڑہ ، کالا پانی ، مدنپورہ ، مومن پورہ اور دیگر علاقوں کے فٹ بال کے بہترین کھلاڑیوں کی بہترین کارکردگی کے سبب اسے منی برازیل بھی کہا جاتا تھا۔ پرانے سینئر و مایا ناز کھلاڑینے قومی اور عالمی سطح پر فٹ بال اور اس کے دیگر شعبوں میں خدمات انجام دی ہیں ۔ان کھلاڑیوں میں محمد یوسف انصاری  شامل ہیں جو ۱۹۹۰ء سے ۱۹۹۷ء تک ہندوستانی قومی ٹیم میں بطور گول کیپر رہے۔ یہی نہیں انہوںنے اولمپکس ،ورلڈ کپ کوالیفائزر اور دیگر بین الاقوامی مقابلہ میں ہندوستان کی نمائندگی کی ۔ وائی ایم سی اے فٹ بال گراؤنڈ کے مختلف کلبوں سے قومی یا عالمی سطح پر کھیلنے والوں میںعقیل انصاری، توصیف، یوسف انصاری، جمال انصاری ، نوشاد موسیٰ، خالد جمیل  و دیگر کھلاڑی شامل ہیں ۔

وائی ایم سی کی فٹ بال اکیڈمی اور کلب 

وائی ایم سی اے فٹ بال گراؤنڈ میں اس وقت ۲۰؍ سے زائد فٹ بال اکیڈمی اور کلب موجود ہیں جن میں ٹیپو سلطان اکیڈمی ، جس کے روح رواں سابق ایم ایل اے فیاض احمد خان ہیں، کے علاوہ نو نہال کلب ، مومن پور فٹ بال کلب ، مدنپورہ فٹ بال کلب،میلان فٹ بال اکیڈمی، ممبئی ساکر اکیڈمی اور ینگ بوائز فٹ بال کلب و دیگر شامل ہیں۔ ٹیپو سلطان کے ایک کوچ شمس الدین شاہ، ساکر اکیڈمی کے منیر انصاری اور انس خان نے بتایا کہ ۳؍ سال سے ۱۸؍ سال اور اس سے زائد عمر کے کھلاڑی وائی ایم سی اے میں موجود مختلف کلب سے ٹریننگ حاصل کرتے ہیں ۔ ان کلبوں سے کھیلنے والے بچے ڈسٹرکٹ اور قومی سطح پر آج بھی اس میدان کی سابقہ تاریخ کو برقرار رکھتے ہوئے بے شمار ٹرافی اور میڈل اپنے نام کر رہے ہیں۔ اس کلب میں کوچنگ کے فرائض انجام دینے والے بیشتر کوچیز نے ریاستی اور ملکی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں کارکردگی کی اور مہیندر اینڈ مہیندرا ،ٹاٹا ، ممبئی و مہاراشٹر پولیس، ریلوے اور دیگر سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں ملازمت کررہے ہیں۔ کوچ شمس کے بقول فیاض احمد کی کوششوں اور کاوشوں کے سبب آج ٹیپو سلطان کلب اور دیگر کلب سے ۸؍ تا ۱۶؍ سال عمر کی لڑکیاں فٹ بال کھیل رہی ہیں اور ملک کا نام روشن کررہی ہیں۔

کراٹے اسپورٹس اکیڈمی 

۹؍ سال قبل وائی ایم سی اے میں صفا مروہ کراٹے اسپورٹس اکیڈمی کا بھی قیام عمل میں آیا جہاں ۴؍ تا ۱۸؍ سال کے کھلاڑی جس میں بچیاں بھی شامل ہیں کراٹے کا فن سیکھتے ہیں۔اس اکیڈمی کے کوچ ہارون رشید شاہ جو خود بلیک بلٹ ہولڈر ہیں اور کراٹے انڈیا آر گنائزیشن کے جج اور ریفری ہیں، نے بتایا کہ ان کے کلب سے کھیلنے والے بچوںنے ۴؍ نیشنل ، ۶ انٹر نیشنل اور ۵؍ ڈسٹرکٹ لیول مقابلوں میں حصہ لیا اور ڈھیر ساری ٹرافیوں کے علاوہ کئی میڈل جیتنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

دیگر سر گرمیاں 

وائی ایم سی اے گراؤنڈ میں نہ صرف فٹ بال بلکہ کرکٹ ٹورنامنٹ کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے۔ یہی نہیں  سیاسی سرگرمیوں کے علاوہ سماجی، ملی اور مذہبی پروگرام کے ساتھ ساتھ یہ میدان عید گاہ بھی  ہے اور یہاں عیدین کی نمازوں کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔یہ جاننا بھی اہم ہے کہ یہاں گزشتہ ۲۰ ،۲۲؍ برس سے اجتماعی نکاح کی تقریب کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے ۔یہ اجتماعی نکاح کی تقریب حضرت شاہ ثقلین اکیڈمی آف انڈیا کی جانب سے ہوتی ہےجس میں  ہر سال ۵۰ سے ۵۵؍ جوڑے رشتہ ازدواج میں بندھتے ہیں۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK