Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈیٹا سینٹرز سارا پانی پی جائیں، اس سے پہلے لطف اٹھائیں: پولاروئیڈ کی منفرد مہم

Updated: June 27, 2026, 12:05 PM IST | New York

مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ماحولیاتی اثرات پر بحث تیز ہو گئی ہے، خصوصاً ڈیٹا سینٹرز کے پانی کے زیادہ استعمال کے حوالے سے۔ اسی تناظر میں پولاروئیڈ نے ایک منفرد تشہیری مہم کے ذریعے اے آئی انفراسٹرکچر پر تنقید کرتے ہوئے لوگوں کو فطرت اور اینالاگ طرزِ زندگی کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

Polaroid`s new billboard at Coney Island Beach in Brooklyn. Photo: X
بروکلین میں کونی آئی لینڈ بیچ پر پولاروئیڈ کا نیا بل بورڈ۔ تصویر: ایکس

پولاروئیڈ نے ایک بار پھر مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر تنقید کا نیا انداز اپنایا ہے، اس بار اس نے ان بڑے ڈیٹا سینٹرز کو نشانہ بنایا ہے جو اے آئی کو طاقت فراہم کرتے ہیں۔ ۸۹؍ سال پرانی کیمرہ کمپنی پولاروئیڈ نے حال ہی میں نیویارک کے مشہور کونی آئی لینڈ بیچ پر ایک بڑا بل بورڈ نصب کیا، جس پر لکھا تھا:’’جاؤ، پانی میں چھلانگ لگاؤ، اس سے پہلے کہ ڈیٹا سینٹرز سارا پانی پی جائیں۔ ‘‘پولاروئیڈ ان بڑھتی ہوئی کمپنیوں میں شامل ہو گئی ہے جو اپنی تشہیری مہمات میں اے آئی مخالف پیغام دے رہی ہیں۔ کمپنی کا یہ نیا اشتہار اس کی عالمی مہم ’’گرمیوں کی اصل خوبصورتی اینالاگ ہے‘‘ (The Best of Summer Is Analog) کا حصہ ہے، جو اس کے نئے’’ Go Generation 3 ‘‘کیمرے کی لانچ کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔ 

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Polaroid (@polaroid)

پیر کوانسٹاگرام پر کمپنی نے اسی پیغام کو دہرایا اور کیپشن میں لکھا:’’ایک دن ایسا آئے گا جب وہ چیزیں، جنہیں ہم معمولی سمجھتے تھے، ہمیشہ کیلئے ہم سے چھن جائیں گی۔ یقیناً ہم نے اپنے جملے میں کچھ شرارت کی ہے، لیکن پھر بھی...‘‘ کمپنی نے مزید کہا:’’جاؤ، تیرنے جاؤ۔ جاؤ، چہل قدمی کرو۔ جاؤ، زندگی کی خوبصورت، سادہ، قدرتی اور اینالاگ چیزوں کو اپناؤ۔ گرمیوں کی اصل خوشی، بلکہ زندگی کی اصل خوبصورتی، یہی ہے۔ ‘‘
پولاروئیڈ کی تخلیقی ڈائریکٹر پیٹریشیا واریلا نے ایک بیان میں کہا:’’اگرچہ ہماری مہمات اشتعال انگیز ہیں اور ٹیکنالوجی کے ساتھ ہمارے تعلق پر سوال اٹھاتی ہیں، لیکن ہم ڈجیٹل ٹیکنالوجی کے مخالف نہیں ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں اس کے ساتھ رہنا ہے، مگر ہم انسانیت کے حامی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ انسان ہونے کی کیا اہمیت ہے، اور اگر ہم نے اسے محفوظ نہ رکھا تو ہم کیا کچھ کھو سکتے ہیں۔ یہی وہ جدوجہد ہے جس کیلئے لڑنا چا ہئے۔ ‘‘ پولاروئیڈ کا یہ پیغام اے آئی کے تیزی سے پھیلاؤ کے ماحولیاتی اثرات سے متعلق جاری بحث کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: مائیکرو سافٹ :اے آئی کی وجہ سے ایکس باکس کنسولز مہنگے ہو رہے ہیں

ڈیٹا سینٹرز سرورز کو ٹھنڈا رکھنے کیلئے براہِ راست بڑی مقدار میں پانی استعمال کرتے ہیں، جبکہ بجلی پیدا کرنے کے عمل میں بھی بالواسطہ طور پر پانی خرچ ہوتا ہے۔ بزنس انسائیڈر کی ایک سابقہ تحقیق کے مطابق، امریکہ میں بعض بڑے ڈیٹا سینٹرز کو روزانہ اتنا پانی استعمال کرنے کی اجازت ہے جتنا تقریباً۴۹؍ ہزار امریکی شہری عام طور پر ایک دن میں استعمال کرتے ہیں۔ دوسری جانب، ٹیکنالوجی کی بعض بڑی کمپنیوں کے لیڈران نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جدید کولنگ ٹیکنالوجیز، مثلاً کلوزڈ لوپ کولنگ سسٹمز، ڈیٹا سینٹرز کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مؤثر اور پانی کی بچت کرنے والا بنا رہی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: عزم کی مثال: وہیل چیئر پر حاجی زین اقبال نائک کے سفر حج کی کہانی انہی کی زبانی

اسی سال کے آغاز میں اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین نے ان دعوؤں کو، کہ چیٹ جی پی ٹی چلانے کیلئے بہت زیادہ پانی استعمال ہوتا ہے، ’’بالکل بے بنیاد‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا:’’پانی والی بات بالکل غلط ہے۔ پہلے ایسا ضرور تھا کیونکہ ہم ڈیٹا سینٹرز میں بخارات کے ذریعے ٹھنڈک (Evaporative Cooling) استعمال کرتے تھے، مگر اب ایسا نہیں کرتے۔ پھر بھی انٹرنیٹ پر ایسی باتیں گردش کرتی رہتی ہیں کہ چیٹ جی پی ٹی کا ہر سوال۱۷؍ گیلن پانی استعمال کرتا ہے، یا اس جیسی دوسری باتیں۔ ‘‘
دریں اثنا، اے آئی چپس بنانے والی کمپنی انویڈیا (Nvidia) نے اس ہفتے ایک نیا لیکوئڈ کولنگ سسٹم متعارف کرایا، جس کا مقصد ڈیٹا سینٹرز کو زیادہ درجہ حرارت پر بھی مؤثر طریقے سے چلانا اور پانی کی کھپت کم کرنا ہے۔ انویڈیا میں ڈیٹا سینٹر کولنگ اور انفراسٹرکچر کے ڈائریکٹر علی حیدری نے کہا:’’ہم نے بجلی کے استعمال میں بہت بڑی کمی کی ہے اور تقریباً پورا پانی کا استعمال ختم کر دیا ہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK