سعودی حکومت کی مثالی سہولیات، والدین کی دعائیں، ٹور والوں کی فکرمندی اور ساتھی حجاج کے تعاون سے یہ یاد گار اور روحانی سفر نہایت آسان ہو گیا۔
EPAPER
Updated: June 26, 2026, 1:43 PM IST | Mecca
سعودی حکومت کی مثالی سہولیات، والدین کی دعائیں، ٹور والوں کی فکرمندی اور ساتھی حجاج کے تعاون سے یہ یاد گار اور روحانی سفر نہایت آسان ہو گیا۔
اللہ ربّ العزت کے بیکراں فضل و کرم اور خصوصی عنایتوں پر دل شکر سے لبریز ہے کہ اس نے مجھے اپنے مقدس گھر کی حاضری اور فریضۂ حج کی ادائیگی کی سعادت عطا فرمائی۔ اس نے مجھے بیت اللہ کے دیدار، روضۂ رسولؐ کی حاضری اور حج جیسی عظیم عبادت کی توفیق عطا فرمائی۔ ایک وہیل چیئر استعمال کرنے والے حاجی کے طور پر یہ سفر میرے لئے ایک منفرد اور یادگار تجربہ ثابت ہوا۔میں اپنے والدین کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے نہ صرف اپنی دعاؤں سے میری حوصلہ افزائی کی بلکہ پورے سفرِ حج میں میرے ساتھ رہ کر میری عملی مدد بھی کی۔ میرے والدین نے میرے ساتھ حج ادا کیا اور ہر مرحلے پر میرا سہارا بنے رہے۔ اللہ کے فضل کے بعد ان کی دعاؤں، محبت اور تعاون نے اس سفر کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔برسوں سے میرے دل میں بیت اللہ کی حاضری کی آرزو تھی جو اللہ نے اپنے فضل سے پوری فرمائی۔
یہ بھی پڑھئے: نیٹومخالف ٹرمپ اگلے ماہ اسکے اجلاس میں شریک ہونگے!
مکہ مکرمہ پہنچ کر جب پہلی مرتبہ خانہ کعبہ پر نظر پڑی تو دل جذبات سے بھر گیا اور آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہوگئے۔ وہ لمحہ میری زندگی کے خوبصورت ترین اور دل کو خدا کی محبت سے بھردینے والے لمحات میں سے ایک تھا۔ سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے حجاج کرام کے لیے فراہم کی گئی سہولیات واقعی قابلِ تعریف ہیں۔ خصوصاً وہیل چیئر استعمال کرنے والے اور خصوصی ضرورتوں کے حامل حجاج کے لیے بہترین انتظامات کئے گئے تھے۔ معذور حجاج کیلئے مسجد الحرام میں خصوصی راستے، لفٹ، برقی گاڑیاں اور رضاکاروں کی خدمات نے عبادات کی ادائیگی کو کافی آسان بنا دیا۔ میرے سفر کی ایک اہم خصوصیت جدید الیکٹرک وہیل چیئر تھی، جو میرے لیے بڑی سہولت ثابت ہوئی۔ اِس سہولت کی بدولت مجھے حج کے بیشتر ارکان خود ادا کرنے کا موقع ملا۔ منیٰ، عرفات، مزدلفہ اور جمرات کے مراحل میں میں اپنی الیکٹرک وہیل چیئر کے ذریعے خود حرکت کر سکا اور عبادات میں بھرپور انداز سے شریک رہا۔ اس سے مجھے اعتماد اور روحانی اطمینان حاصل ہوا۔میرے سفرِ حج کی کامیابی میں علوی ٹورز اینڈ ٹریولز کا کردار انتہائی اہم رہا۔ میں اس ادارے کے بانیان عمران علوی اور عمار علوی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے حجاج کرام کی خدمت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے بہترین انتظامات کئے۔ ان کی قیادت میں تقریباً ۱۸۰؍حجاج کرام پر مشتمل قافلے نے حج کے تمام ارکان نہایت منظم انداز میں ادا کیے۔ان کی ٹیم نے منیٰ، عرفات، مزدلفہ اور تینوں دن جمرات کی رمی کے دوران بہترین رہنمائی اور معاونت فراہم کی۔ بطور وہیل چیئر استعمال کرنے والے حاجی مجھے خصوصی توجہ دی گئی اور ہر مرحلے پر میری ضروریات کا خیال رکھا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی یورپ میں شدید گرمی، کئی ممالک میں درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر پہنچا
میدانِ عرفات میں وقوف میری زندگی کے یادگار ترین لمحات میں شامل ہے۔ لاکھوں مسلمانوں کو ایک ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتے دیکھنا ایک روح پرور منظر تھا۔ وقوفِ عرفات کے بعد ہمارا قافلہ مزدلفہ روانہ ہوا جہاں رات گزاری گئی۔ اس کے بعد منیٰ واپسی اور جمرات کی رمی کے مراحل مکمل کئے گئے۔ میرے ساتھ حج پر آئےتمام ۱۸۰؍ حجاج کرام نے نظم و ضبط اور روحانی جذبے کے ساتھ حج کے ارکان ادا کیے۔میں اپنے تمام ساتھی حجاج کرام کا بھی تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے پورے سفر کے دوران میرا بھرپور ساتھ دیا۔ کئی مواقع پر انہوں نے میری وہیل چیئر سنبھالنے، راستہ بنانے اور حوصلہ افزائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔اس مبارک سفر کی کامیابی میں مفتی اشفاق قاضی اور مفتی سعود کی تربیت اور رہنمائی بھی اہم رہی۔ حج سے قبل ان کی تربیتی نشستوں نے مناسکِ حج کو سمجھنے اور صحیح انداز میں ادا کرنے میں بہت مدد فراہم کی۔ بیت اللہ کیسامنے دعاؤں کے لمحات، صفا و مروہ کی سعی، میدانِ عرفات میں وقوف، مزدلفہ میں قیام اور منیٰ میں عبادات میری زندگی کے وہ روحانی لمحات ہیں جو ہمیشہ میرے دل میں محفوظ رہیں گے۔ ان تجربات نے میرے ایمان کو مزید مضبوط کیا اور زندگی کو ایک نئی روحانی سمت عطا کی۔میں ایک مرتبہ پھر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے اس عظیم عبادت کی توفیق عطا فرمائی۔ ساتھ ہی اپنے والدین، سعودی حکومت، علوی ٹورز، مفتی اشفاق قاضی ، مفتی سعود اور اپنے تمام ساتھی حجاج کا تہہ دل سے ممنون ہوں۔