Inquilab Logo Happiest Places to Work

وینزویلا میں زلزلے کے بعد لوگ اپنوں کو تلاش کرنے کیلئے خود سے ملبہ ہٹا رہے ہیں

Updated: June 27, 2026, 2:51 PM IST | Caracas

کراکس میں امپارو ڈیل جیوڈیس نے اپنے بیٹے کی تلاش میں ملبے کے بہت بڑے ڈھیر کو ہاتھوں سے کھودنا شروع کر دیا۔ان کے پوتے نے تلاش کی مہم میںحصہ لیا۔

A woman looks sad in Lagoaeira. (AP/PTI)
لاگوایرا میں ایک خاتون غم سے نڈھال نظر آرہی ہے۔ (اےپی/ پی ٹی آئی)

وینزویلا میں آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے نتیجے میں ہونے والی شدید تباہی کے بعد غیر ملکی امدادی اور ریسکیو ٹیموں کی آمد شروع ہوگئی ہے۔ ان زلزلوں نے دارالحکومت کراکس اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔ لوگ اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور پڑوسیوں کو تلاش کرنے کے لئے اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا رہے ہیں۔ حکومت کا اندازہ ہے کہ اب بھی سیکڑوں افراد ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں جبکہ بہت سے افراد کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا۔

کراکس میں امپارو ڈیل جیوڈیس نے اپنے بیٹے کی تلاش میں ملبے کے بہت بڑے ڈھیر کو ہاتھوں سے کھودنا شروع کر دیا۔

وقت گزرتا گیا اور حکومت کی جانب سے کوئی امدادی ٹیم نہ پہنچی  تو ڈیل جیوڈیس مایوس ہو گئیں اور بے بسی کے عالم میں ملبہ ہٹانے کی کوشش کرتی رہیں۔انہوں نے کہا:’’یہ پتھروں کا بہت بڑا ڈھیر ہے اورہاتھوں سے اسے ہٹانا ناممکن ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ڈنمارک: اسلامائزیشن کے خدشات، اذان پر پابندی کی تجویز، قانونی جائزہ دوبارہ شروع

وہ اس جگہ سے کچھ ہی فاصلے پر بیٹھی تھیں جہاں انہیں یقین تھا کہ ان کا بیٹا ملبے تلے پھنسا ہوا ہے۔ان کے۲۳؍ سالہ پوتے الیساندرو نے فائر فائٹر کا ہیلمٹ پہن کر اپنے لاپتہ والد کی تلاش کی مہم  میں حصہ لیا۔انہوں نے روتے ہوئے اس عمارت کے ملبے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:’’وہ یہیں اندر ہیں۔‘‘

  جمعہ کو وزیر صحت کارلوس الواراڈو نے بتایا کہ مختلف طبی مراکز میں تقریباً ۲۳۵؍ لاشیں لائی جا چکی ہیں لیکن انہوں نے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی۔ دوسری جانب خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق مرنے والوں کی تعداد۵۸۹؍ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ شدید متاثرہ عمارتوں میں ۸؍ اسپتال، ریڈ کراس کا مرکزی دفتر اور فرانسیسی سفارتخانہ بھی شامل ہیں۔ 

تارکین وطن سے متعلق بین الاقوامی ادارے ’آئی او ایم‘ کے مطابق زلزلے سے تقریباً ۶۷ ؍لاکھ۶۰؍ ہزار افراد متاثر ہو سکتے ہیں جن میں صرف کراکس میں تقریباً ۲۰؍ لاکھ افراد شامل ہیں۔وینزویلا کے سرکاری ٹی وی پر امدادی کارروائیوں کی دل دہلا دینے والی تصاویر نشر کی جا رہی ہیں جن میں بچوں سمیت زخمیوں کو گرد و غبار اور خون میں لت پت حالت میں ملبے سے نکالتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک خاتون سیمنٹ کی بھاری سل کے نیچے دبی ہوئی تھیں اور ان کی صرف ایک ٹانگ باہر نظر آ رہی تھی لیکن امدادی کارکنوں نے انہیں بحفاظت نکال لیا۔ متعدد عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو چکی ہیں جبکہ سڑکوں میں بڑی بڑی دراڑیں پڑ گئی ہیں۔فون سروس متاثر ہونے کے سبب بیرون ملک مقیم افراد اپنے عزیزوں سے رابطہ کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ خوف کے سبب لوگ اپنے گھروں کو واپس جانے سے گریز کر رہے ہیں جبکہ کراکس میں سیکڑوں افراد نے پارکوں، پارکنگ ایریاز اور دیگر کھلی جگہوں پر رات گزاری۔

یہ بھی پڑھئے: بادشاہ چارلس بکنگھم پیلس منتقل نہیں ہوں گے، ٹیکس ادائیگی پہلی بار ظاہر کی

اسی دوران امدادی ٹیمیں بھیجنے والے ممالک میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جنہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران وینزویلا کی سیاسی اور اقتصادی صورتحال پر سخت تنقید کی تھی۔ میکسیکو نے۲۵۰، ایل سلواڈور نے۱۸۸؍ اور اسپین نے۱۰۰؍امدادی اہلکار روانہ کئے ہیں۔ جمعہ کی صبح کولمبیا کی فضائیہ کا ایک طیارہ ۶۳؍ امدادی کارکنوں کو لے کر روانہ ہوا جبکہ سوئزرلینڈ اور جرمنی نے بھی اپنی امدادی ٹیمیں بھیجی ہیں۔  واشنگٹن نے انسانی امداد کی فراہمی کو آسان بنانے کے لئے وینزویلا پر عائد بعض پابندیوں میں بھی نرمی کر دی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK