نا معلوم شخص کے ذریعے فون پراہل خانہ سے ۵؍ لاکھ روپے کی مانگ کئے جانے سے اغوا کا شبہ، مسلم کارپوریٹروں اور سماجی کارکنوں کے دباؤ کے بعد پولیس نے کارروائی تیز کردی۔
EPAPER
Updated: February 08, 2026, 10:34 AM IST | Ismail Shaad | Dhule
نا معلوم شخص کے ذریعے فون پراہل خانہ سے ۵؍ لاکھ روپے کی مانگ کئے جانے سے اغوا کا شبہ، مسلم کارپوریٹروں اور سماجی کارکنوں کے دباؤ کے بعد پولیس نے کارروائی تیز کردی۔
’’میرے بیٹے کہاں ہو تم، میرے بیٹے کو کوئی ڈھونڈ کر لادے، میرا بیٹا کس حال میں ہے۔ اے اللّہ میرے معصوم بیٹے کی حفاظت فرما‘‘، یہ درد بھرے اور دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دینے والے الفاظ مولوی گنج علاقے سے ۲۴؍جنوری کی شام گھر کے پاس سے اچانک لا پتہ ہونے والے۷؍سال کے معصوم محمد عمر حافظ محمد سلمان کی والدہ عالیہ پروین کے ہیں۔ ۱۵؍دنوں سے اپنے لخت جگر سے دور عالیہ پروین کا بیٹے کی جدائی میں رو رو کر برا حال ہوگیا ہے۔
محمد عمر کے بڑے ابو محمد نعمان نے اس نمائندہ کے استفسار پر بتایاکہ شکایت درج کرنے کے بعد پولیس کے دستے نے مولوی گنج علاقے کے علاوہ آس پاس کی دکانوں کے سی سی ٹی وی کیمرے کے فوٹیج کی جانچ کی۔ محمد عمر شام۶؍ بجے کے قریب گھر کی طرف آتا ہوا دکھائی دیا لیکن کیمرے کی رینج ختم ہونے کی وجہ سے آگے کے فوٹیج نہیں مل سکے۔ جس سے پولیس کے لیے بچے کو تلاش کرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔
۱۵؍دنوں سے گمشدہ بچے کو تلاش کرنے کے ضمن میں مسلم کارپوریٹرس، سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر فاروق شاہ کے علاوہ سماجی تنظیموں کے سرکردہ افراد نے ضلع پولیس انتظامیہ سے ملاقات کرکے بچے کو تلاش کرنے کی مانگ کی۔ اس ضمن میں تحریری مکتوب بھی پیش کئے گئے۔ مسلم کارپوریٹروں کے وفد نے دو سے تین مرتبہ ضلع ایس پی شری کانت دھیورے سے ملاقات کرکے بچے کو تلاش کرنے کے لیے پولیس کی کارروائی تیز کرنے کی مانگ کی۔ کارپوریٹروں اور سابق رکن اسمبلی فاروق شاہ کے دباؤ کےبعد آزاد نگر، چالیس گاؤں پولیس نے مولوی گنج، دلدار نگر، آزاد نگر و دیگر علاقوں میں دو سے تین دنوں تک ہر گھر کی تلاشی لی۔ ڈاگ اسکواڈ کے ذریعے بچے کو تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کی یہاں تک کہ مولوی گنج اور اس سے متصل علاقوں کے چوک چوراہوں کے سی سی ٹی وی کیمرے کے فوٹیج بھی چیک کئے لیکن پولیس کو کوئی ثبوت ہاتھ نہیں لگا۔
ضیا مسکان مالیگاوں گروپ کی جدوجہد جاری
گمشدہ بچوں کی تلاش کے لیے مالیگاوں کا سرگرم ضیا مسکان گروپ محمد عمر کی گمشدگی کے دن سے مسلسل بچے کی تلاش میں لگا ہوا ہے۔ محمد عمر کے لیے ضیا مسکان گروپ کی اب تک کی گئی کوششوں کے بار ے میں پوچھے جانے پر گروپ کے نمائندوں نے بتایا کہ دھولیہ مالیگاؤں کے علاوہ آس پاس کے دیہاتوں میں جنگلوں، کھیت کھلیانوں میں یہاں تک کے کھیتوں کے کنوؤں میں سب جگہ بچے کو تلاش کیا گیا۔ جمعہ کو دھولیہ، مالیگاؤں کے بیچ للنگ کا قلعہ، گھاٹ اور ریمنڈ کے جنگل میں بہت دور تک ان کی ٹیم نے بچے کو تلاش کیا لیکن محمد عمر نہیں ملا۔ معلوم ہوکہ گمشدہ عمر کے پوسٹر دھولیہ مالیگاوں کے ہر چوک چوراہے ا ور عوامی مقامات پر چسپاں کئے گئے ہیں۔ ضیا مسکان گروپ نے بچے کو صحیح سلامت لانے والے کو ڈیڑھ لاکھ روپئے انعام دینے کا اعلان کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: متھرا میں انتظامیہ کو ہیڈ ماسٹر جان محمد کو بحال کرنا پڑا
بچہ ہمارے قبضے میں ہے، پانچ لاکھ روپئے لگیں گے
گمشدہ بچے کو لانے والے کو ڈیڑھ لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کے پوسٹر جگہ جگہ چسپاں کئے گئے ہیں۔ یہ پوسٹر سوشل میڈیا پر بھی خوب وائرل کئے گئے ہیں۔ اس پوسٹر پر بچے کے بڑے ابو محمد نعمان کا نمبر بھی درج ہے۔ واضح رہے بچہ یتیم ہے۔ تاہم نعمان کو انجان شخص نے۳؍ فروری کو فون کرکے کہا کہ بچہ ہمارے قبضے میں ہے۔ اس کے لیے پانچ لاکھ روپئے لگیں گے۔ محمد نعمان کے مطابق فون کرنے والے کو ویڈیو کال پر بچہ دکھانے کو کہا گیا لیکن انجان شخص نے فون کاٹ دیا۔ نعمان اور رشتے داروں نے فورا چالیس گاوں پولیس کو اس کی اطلاع دی۔
اغوا کرنے والا خود نابالغ، پولیس کا سنسنی خیز دعویٰ
نا معلوم شخص نے فون کرکے بچے کا اغوا کرنے اور اس کے بدلے میں پانچ لاکھ روپئے کی مانگ کی ہے۔ اس پر پولیس کا موقف جاننے کے لیے میڈیا کے نمائندوں نے چالیس گاؤں روڈ پولیس کے نگراں افسر سریش گھوسر سے حقیقت جاننے کی کوشش کی۔ اس پر انہوں نےبتایا کہ جس نمبر سے فون کیا گیا ہے سائبر سیل کی مدد سے اس کی جانچ کرنے پر اس کے لوکیشن سے معلوم ہوا ہے کہ وہ نمبر گجرات ریاست کا ہے۔ فون کالنگ پر آواز سننے پر گھوسر نے اغوا کرنے والے کے خود نابالغ ہونے کا شبہ ظاہر کیا۔ جس کی عمر۱۳؍ سے۱۵؍ سال تک بتائی ہے۔ خاطی پر شکنجہ کسنے کے لیے پولیس کے دستے گجرات کے جام نگر کے لیے روانہ کئے جانے کی اطلاع گھوسر نے دی ہے اوربہت جلد خاطی کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔