کاکروچ جنتا پارٹی کی ’اسکول ٹھیک کرو مہم‘کے دوران پتہ چلنے پر انہیں فوراً ہٹادیا گیا۔ مہم سے وابستہ خاتون رضاکارنے اسکول کا دورہ کیا تھا۔
EPAPER
Updated: September 05, 2026, 3:37 PM IST | Owais Siddiqui | Mumbai
کاکروچ جنتا پارٹی کی ’اسکول ٹھیک کرو مہم‘کے دوران پتہ چلنے پر انہیں فوراً ہٹادیا گیا۔ مہم سے وابستہ خاتون رضاکارنے اسکول کا دورہ کیا تھا۔
یہاں کی گلال واڑی میں واقع بی ایم سی کے ایک اسکول میں تقریباً ۵ ؍برس سے پولیس اہلکار کمروں میںمقیم تھے، جنہیں اسکول سے ہٹادیا گیا ہے۔ یہ معاملہ تب سامنے آیا جب ایک تعلیمی رضاکار اور ایس این ڈی ٹی یونیورسٹی سے گجراتی ادب میں ماسٹرس کرنے والی چیتالی دوشی، جوتعلیم سے جڑے معاملات پر کام کرتی ہیں اور اب کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی ) سے وابستہ ہیں ، نے اسکول کاآڈٹ کیا۔ اس دوران معلوم ہو اکہ بی ایم سی کے زیر نگرانی جاری اس اسکول کے کچھ کمروں میں گزشتہ ۵؍برس سے پولیس اہلکار مقیم ہیں۔ اسی کے ساتھ اسکول کی حالت بھی خستہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کے ۸۳؍ فیصد جین زی پروفیشنلز سے رابطہ کرنے میں گھبراتے ہیں: لنکڈ اِن
ایس آرپی ایف کا اہلکار اسکول کے کمرے میں سوتا نظر آرہا ہے۔
تصویر میں ایک کمرہ جس کی حالت خستہ ہے۔
چیتالی دوشی نے انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ جب اسکول کا سروے کرنے گئی تو اسے معلوم ہوا کہ اسکول پہلے ہی سے کافی خستہ حال ہے۔ بینچیں، دروازے ٹوٹے ہوئے ہیں ، لائبریری اور کتابیں وغیرہ بھی ٹھیک سے موجود نہیں ہیں۔ دیگر بنیادی تعلیمی لوازمات کا بھی فقدان ہے۔ حالانکہ اسکول چار منزلہ عمارت پر مشتمل ہے اور ہر منزل پر تقریباً ۱۰؍ کلاس روم موجود ہیں لیکن اوپر کی دو منزلوں کوخستہ حال ہونے کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ بی ایم سی کا اسکول ہے لیکن شہری انتظا میہ کی جانب سے کسی بھی طرح کی کوئی دیکھ ریکھ نہیں کی جاتی ۔ اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی کل تعداد صرف ۴۷ ؍ ہے جبکہ یہ بچے پہلی تا ساتویں جماعت میں زیر تعلیم ہیں ۔ چیتالی دوشی نے یہ بھی بتایا کہ اسکول میں زیادہ تر انتظامات ایک این جی او کے ذریعے کئے جاتے ہیں ۔طلبہ کو اسکول سے لانے لے جانے کیلئے ایک وین کی سہولت سمیت مڈ ڈے میل کا انتظام بھی این جی او کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ اسکول کے پرنسپل سے ان کی براہ راست بات ہوئی تو پرنسپل نے بتایاتھا کہ ہم صرف طلبہ کو پڑھاتے ہیں لیکن باقی سہولیات این جی اوفراہم کرتی ہے۔ اسکول میں وہ طلبہ تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں جو مالی طور پر کمزور گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کھانے کی کوالیٹی اور صاف صفائی پر توجہ نہ دینے پر مرکزی وزیر ریل کا انتباہ
چیتالی سے جب اسکول میں پولیس اہلکاروں کے مقیم ہونے سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اسکول کی اوپری دو منزلوںکو ایس آر پی ایف (اسٹیٹ ریزروپولیس فورس) کے جوانوں کوعارضی رہائش کیلئے دیا گیا تھا لیکن ان منزلوں کے زیادہ خستہ حال ہونے کے باعث پولیس اہلکار سب سےنچلی منزل پر رہنے لگےجہاں طلبہ تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں ۔ انہوں نےیہ بھی بتایا کہ جب وہ اسکول کا سروے کرنے پہنچی تو دیکھا کہ ایک جانب طلبہ کی کلا س چل رہی اور دوسری طرف بازو کے کمرے میں پولیس اہلکاربے تکلفانہ انداز میں سو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کے بعد انہوں نے سی جے پی کے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر بی ایم سی کمشنر اشوینی بھیڈے سے ملاقات کرنے کی کوشش کی لیکن گھنٹوں انتظار کرنے کے بعد ان کی ملاقات نہیں ہوپائی۔
چیتالی دوشی نے الزام عائد کیا کہ بی ایم سی کمشنر نے جان بوجھ کر ان سے ملاقات نہیں کی۔اس معاملے سے متعلق کئی پوسٹ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ اسی دوران معاملے کے طول پکڑنے کے فوراً بعدبی ایم سی کی جانب سے جگہ کو خالی کروا تے ہوئے پولیس اہلکاروں کو وہاں سے منتقل کر دیا گیاہے۔