ایشا عمران خان شیوسینا (شندے ) کی امیدوار اسمیتا پربھوداس نائک کو۴؍ ووٹوں سےہراکر اسٹینڈنگ کمیٹی کی چیئرمین بن گئیں، بی جےپی کی غیر حاضری سے بازی پلٹ گئی
EPAPER
Updated: May 15, 2026, 10:07 PM IST | Mumbai
ایشا عمران خان شیوسینا (شندے ) کی امیدوار اسمیتا پربھوداس نائک کو۴؍ ووٹوں سےہراکر اسٹینڈنگ کمیٹی کی چیئرمین بن گئیں، بی جےپی کی غیر حاضری سے بازی پلٹ گئی
یہاں جمعرات کو اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کے انتخاب میں سیکولر فرنٹ کی کارپوریٹر ایڈوکیٹ ایشا عمران خان نے شیوسینا (شندے گروپ) کی امیدوار اسمیتا پربھوداس نائک کو۴؍ ووٹوں سے شکست دیکر اسٹینڈنگ کمیٹی کی چیئرمین بن گئیں۔ انتخاب میں حیرت انگیز طور پر بی جے پی اراکین نے شیوسینا کو حمایت دینے کے بجائے ایوان سے غیر حاضر رہے۔ اس غیر حاضری نے انتخاب کا رخ بدل دیا۔یہ انتخاب تھانہ ضلع پریشد کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر رنجیت یادو کی زیر نگرانی منعقد ہوا۔ اسٹینڈنگ کمیٹی چیئرمین کے عہدے کیلئے این سی پی (ایس پی) کی ایڈوکیٹ ایشا عمران خان، بی جے پی کی گیتا وٹھوبا نائک اور شیوسینا (شندے گروپ) کی اسمیتا نائک نے کاغذاتِ نامزدگی داخل کئے تھے۔ تاہم نامزدگی واپس لینے کی مقررہ مدت کے دوران بی جے پی گروپ لیڈر سنتوش شیٹی کے ساتھ گیتا نائک نے اپنا فارم واپس لے لیا۔اس کے بعد ہاتھ اٹھاکر ہونے والی رائے شماری میں ایڈوکیٹ ایشا خان کو کانگریس، این سی پی (ایس پی) اور بھیونڈی وکاس اگھاڑی کے جاوید دلوی سمیت ۸؍ اراکین کی حمایت حاصل ہوئی، جبکہ شیوسینا (شندے )، سماجوادی پارٹی اور کونارک وکاس اگھاڑی کے میوریش پاٹل سمیت اسمیتا نائک کو صرف ۴؍ ووٹ مل سکے۔ بی جے پی امیدو ار کے دستبردار ہونے کے بعد گیتا نائک اور سنتوش شیٹی اجلاس گاہ سے باہر چلے گئے، جبکہ بی جے پی کے دیگر۴؍ اراکین سُمیت پاٹل اور سہاس نکاتے اجلاس میں شریک ہی نہیں ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے : سبھی اسپتالوں کیلئے نئے قانون کو نافذ کرنے کا منصوبہ
بی جے پی کے چاروں اراکین کی غیر حاضری نے سیکولر فرنٹ کی راہ مزید آسان کر دی۔منتخب ہونے کے بعد ایڈوکیٹ ایشا خان نے کہا کہ پارٹی قیادت نے ایک نئی رکن پر اعتماد ظاہر کیا ہے، جس پر وہ پورا اُترنے کی کوشش کریں گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ شہر کی ترقیاتی اسکیموں میں تیزی لانا ان کی اولین ترجیح ہوگی اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے ذریعے ترقیاتی کاموں کو رفتار دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کامیابی کے پیچھے رکن پارلیمان سریش مہاترے، رکن اسمبلی رئیس شیخ، شعیب خان گڈو، میئر نارائن چودھری اور سابق ڈپٹی میئر عمران خان کی مشترکہ سیاسی حکمت عملی کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔دوسری جانب بی جے پی کے گروپ لیڈر سنتوش شیٹی نے وضاحت کی کہ کسی بھی سیاسی جماعت نے حمایت کیلئے ان سے رابطہ نہیں کیا، اسی لئے پارٹی نے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم سیاسی حلقوں میں بی جے پی کے اس موقف کو مستقبل کی سیاسی حکمت عملی سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔تجزیہ نگاروں کے مطابق اس انتخاب نے نہ صرف بلدیاتی سیاست کا رخ بدل دیا بلکہ آئندہ سیاسی صف بندیوں کے بھی واضح اشارے دیے ہیں۔