پولینڈ کے قانون ساز جنہوں نے اسرائیل کی نسل کشی کی مذمت کی تھی کا کہنا ہےکہ انہیں اس کی سزا دی جارہی ہے، تاہم انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہ ریاستی حکام کی کوئی جبری کارروائی میرا منہ بند نہیں کر سکے گی۔
EPAPER
Updated: April 19, 2026, 2:03 PM IST | Warsaw
پولینڈ کے قانون ساز جنہوں نے اسرائیل کی نسل کشی کی مذمت کی تھی کا کہنا ہےکہ انہیں اس کی سزا دی جارہی ہے، تاہم انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہ ریاستی حکام کی کوئی جبری کارروائی میرا منہ بند نہیں کر سکے گی۔
پولینڈ کے قانون ساز کونراڈ برکووچ، جنہوں نے حال ہی میں اسرائیلی پرچم پیش کیا تھا جس میں داؤدکے ستارے کی جگہ نازی سواستک کا نشان لگایا گیا تھا، نے جمعہ کو کہا کہ انہیں اسرائیلی نسل کشی کے خلاف آواز اٹھانے پر سزا دی جا رہی ہے۔کونراڈ برکووچ نے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’مجھے ابھی سیم کے مارشل (پارلیمنٹ اسپیکر) ووودزیمیرز چارزاسٹی نے میری حالیہ تقریر پر سزا دی ہے جس میں، میں نے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی نسل کشی پر بات کی تھی۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ، جب انہوں نے سواستک سے تبدیل شدہ اسرائیلی پرچم کے ساتھ پارلیمنٹ میں غم و غصہ کا اظہار کیا تھا، اس کے بعد ان پر مالی جرمانے کے علاوہ، چارزاسٹی نے ان کے خلاف پراسیکیوٹر آفس میں بھی درخواست دائر کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹائم میگزین نے جنگی مجرم نیتن یاہو کو ۱۰۰؍ بااثر شخصیات میں شامل کیا
بعد ازاں برکووچ نے زور دے کر کہا، ’’میں اس سے خوفزدہ نہیں ہوں اور نہ ہی اس سے بچنے کا ارادہ رکھتا ہوں ، میں اپنا دفاع کروں گا۔ریاستی حکام کی کوئی جبری کارروائی میرا منہ بند نہیں کر سکے گی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’آئیے خاموش نہ بیٹھیں اور دکھاوا نہ کریں کہ اسرائیلی آج مظلوم ہیں۔ نہیں، وہ مظلوم نہیں ہیں۔ وہ غزہ میں معصوم بچوں، عورتوں اور مردوں کی نسل کشی کے مرتکب ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا: لبنان جنگ بندی پر شہریوں کامحتاط اظہارخوشی
واضح رہے کہ اس ہفتے کے شروع میں، برکووچ نے پولینڈ کی پارلیمنٹ (سیم) میں تقریر کے دوران ، اسرائیل کا تبدیل شدہ پرچم ، جس میں داؤد کےتارے کے نشان کے بجائے نازی سوستک کا نشان تھا،لہرایا، ساتھ ہی انہوں نے اسرائیلی حکومت پر تنقید کی اور اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف جرائم پر پولینڈ سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا۔