• Thu, 12 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چندر پورمیئر الیکشن کے معاملے پر سیاسی ماحول گرم

Updated: February 12, 2026, 5:56 AM IST | Chandrapur

الیکشن میں بی جے پی کی حمایت پر ادھوشیوسینا نے اس کیلئے کانگریس کو ہی مورد الزام ٹھہرایا، بی جے پی نےمقامی کانگریس میں پھوٹ کا دعویٰ کیا

Chandrapur Municipal Corporation building, where the Congress lost its chance to power. File photo
چندر پور میونسپل کارپوریشن کی عمارت ، جہاں کانگریس کے ہاتھ سے اقتدارکا موقع پھسل گیا ۔فائل فوٹو

چندر پور میونسپل کارپوریشن کے میئر اور ڈپٹی میئر الیکشن کے بعدمقامی سطح سے لے کر ریاستی لیول تک سیاسی ماحول گرم ہوگیا ہے۔ اس الیکشن میں حیرت انگیز طور پر شیوسینا (ادھو) کے کارپوریٹروں نے بی جے پی کی حمایت کردی۔ یہاں کانگریس ۲۷؍ کارپوریٹرز کے ساتھ بڑی پارٹی بن کر بھی محض ایک ووٹ کے فرق سے میئر الیکشن ہارگئی۔اس معاملے پر شیوسینا یوبی ٹی نے کانگریس کی مقامی لیڈر شپ کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ جبکہ بی جے پی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ہار کا سبب کانگریس پارٹی کی مقامی لیڈر شپ کا اندرونی خلفشار ہے۔
کانگریس لیڈر نے ہمارا ساتھ دیا: سدھیر منگنٹیوار
 چندرپور میں کانگریس کے دو گروپ آپس میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف تھے، اسی دوران بی جے پی نے چال چل دی۔ اُدھو سینا کو ساتھ ملا کر کانگریس کو شکست دی۔ بی جے پی کی سنگیتا کھانڈیکر میئر اور اُدھو ٹھاکرے شیوسینا کے پرشانت داناو ڈپٹی میئر بنے۔ تاہم اس سیاسی کھیل میں کانگریس کے ایک لیڈر کا اہم کردار تھا، ایسا دعویٰ بی جے پی لیڈر سدھیر منگنٹیوار نے کیا ہے۔ بی جے پی کی اس حکمت عملی کے پیچھے سینئر لیڈر سدھیر منگنٹیوار اور ایم ایل اے کشور جورگےوار کو اہم مانا جاتا ہے۔ اس سیاسی چال کے متعلق سدھیر منگنٹیوار نے کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ نہ کانگریس کے پاس اکثریت تھی اور نہ بی جے پی کے پاس، اسلئے ہم نے موقع کا فائدہ اٹھایا۔ نندو دھاگرکر اور پرشانت ناناوکے ساتھ انہوں نے خاص طور پر کانگریس لیڈر راہول پگلیا کا بھی عوامی طور پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ راہول پگلیا نے ہماری مدد کی اور پہلی میٹنگ اپنے گھر پر ہی کروائی۔ 
کانگریس ہمیں قصوروار نہ ٹھہرائے: سنجے راؤت
 ممبئی میں صحافیوں سے بات چیت میں سنجے راؤت نے کہا کہ چندرپور میونسپل کارپوریشن میں۲۷؍ کونسلرز منتخب کروا لینے کے باوجود اقتدار حاصل نہ کر پانا کانگریس کے لئے  شرم کی بات ہونی چاہیے۔ اُدھو ٹھاکرے نے واضح ہدایات دی تھیں کہ کسی بھی صورت میں بی جے پی کی مدد نہیں کرنی ہے۔ ہم ایک الگ مؤقف پر ہیں، اور اگر اپوزیشن میں بیٹھنا پڑے تو بھی کوئی حرج نہیں۔ اسکے باوجود کانگریس کی گڑبڑیوں کے باعث مقامی سطح پر فیصلہ لیا گیا۔ اس معاملے پر ممبئی میں بھی بات چیت کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK