• Thu, 12 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ضلع پریشد نتائج میں بڑے لیڈروں کے رشتہ داروں کوبڑا جھٹکا

Updated: February 10, 2026, 12:03 PM IST | Agency | Mumbai

متعدد اضلاع میں وزراء، سابق وزراء اور اثر و رسوخ رکھنے والے خاندانوں کی شکست

Suresh Varpodkar.Photo:INN
سریش ورپوڈکر- تصویر:آئی این این

ریاست میں۹؍ فروری۲۰۲۶ء کو۱۲؍ ضلع پریشد اور۱۲۵؍ پنچایت سمیتیوں کے نتائج کا اعلان کیا گیا، جن میں کئی بڑے سیاسی لیڈروں، ان کے رشتہ داروں اور خاندان کے افراد کو غیر متوقع شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پیر کو جاری ہونے والے نتائج سے یہ واضح ہوا کہ ووٹروں نے براہِ راست قیادت کو بھی پیغام دیتے ہوئے خاندانی سیاست پر سوال کھڑے کیے ہیں، جس کے باعث سیاسی حلقوں میں زبردست ہلچل مچ گئی ہے۔ 
شولاپور، پربھنی، ستارا، سانگلی اور لاتور سمیت کئی اضلاع میں اراکین اسمبلی، سابق اراکین پارلیمان اور بااثر لیڈروں کے قریبی رشتہ دار انتخابی میدان میں ناکام رہے۔ پربھنی ضلع میں سابق وزیر سریش ورپودکر نے اپنے پانچ رشتہ داروں کو میدان میں اتارا تھا، تاہم ان میں سے چار کو شکست ہوئی جبکہ صرف ایک بھتیجا کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہوا۔ ان کی بیٹی سونل ورپودکر زری گروپ سے مشعل نشان پر مقابلہ کر رہی تھیں، لیکن بی جے پی کے دلیپ دیشمکھ نے انہیں شکست دی۔ بیٹے شمشیر ورپودکر شنگناپور گروپ سے ہار گئے، جبکہ بہو پریرنا ورپودکر کو دیتھنا گروپ سے کانگریس کی جیوستنہ گھاڈگے نے شکست دی۔
ستارا ضلع میں بی جے پی کے لیڈر اور وزیر جے کمار گورے کو بھی بڑا دھچکا لگا۔ مان تعلقہ کے کوکڈواد گروپ سے ان کے بھائی ارون گورے کو این سی پی کے انل دیسائی نے ہرایا۔ اوندھ گروپ میں ان کے ایک اور بھائی انکوش گورے کی اہلیہ بھارتی گورے کو محض۴۰؍ ووٹوں سے این سی پی کی منیشا فڈترے کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ تاہم ان کے بھائی شیکھر گورے کی اہلیہ سونل گورے نے آندھلی ضلع پریشد گروپ سے کامیابی حاصل کی اور این سی پی کی دیپالی جگدالے کو شکست دی۔

یہ بھی پڑھئے:نادرہ بالی ووڈ کی بےخوف اور خودمختار کرداروں کی علامت تھیں

لاتور ضلع میں بی جے پی کے سابق رکن پارلیمان سدھاکر شرنگارے کی بیٹی سپریا شرنگارے پائیال روہینا گروپ سے ہار گئیں، جبکہ این سی پی کی اوشا کامبلے کامیاب ہوئیں۔ سابق رکن اسمبلی تریَمبک بھیسے کو بھی سیاسی دھچکا لگا، جہاں کامکھیڑا گروپ سے کانگریس کی آشا تائی بھیسے کامیاب ہوئیں اور بی جے پی کی سریتا بھیسے کو شکست ہوئی، جو تریَمبک بھیسے کی بھابھی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:بینک عوام کے پیسے کے ٹرسٹی ہیں: سپریم کورٹ

اس کے علاوہ ماتھاڑی کامگار یونین کے لیڈر  نریندر پاٹل کی اہلیہ کو بھی شکست ہوئی، جنہیں شیو سینا کی محض۲۲؍سالہ مرنال مہیش پاٹل نے ہرایا اور وہ ضلع کی سب سے کم عمر ضلع پریشد رکن بن گئیں۔ شولاپور ضلع میں سابق رکن اسمبلی دنکر مانے کو بھی جھٹکا لگا، جہاں آشیو گروپ سے بی جے پی کی سدچھا ونود مانے کو کانگریس کی ونیتا مانے نے۵۹۵؍ ووٹوں سے شکست دی۔ تاہم چند مقامات پر لیڈروں کے رشتہ داروں نے کامیابی بھی حاصل کی، جس سے مجموعی نتائج نے ریاستی سیاست میں ایک نیا پیغام دیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK