• Fri, 16 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

میرابھائندر میونسپل الیکشن کیلئے پولنگ افراتفری اور بدانتظامی کا شکار

Updated: January 16, 2026, 12:18 PM IST | Sajid Mahmood Sheikh | Mira Road

رائے دہندگان کو سخت دشواریوں کا سامنا۔ایک ہی گھر کے لوگوں کے نام الگ الگ پولنگ سینٹروں میں ڈالے گئے۔ بوگس ووٹنگ کے معاملات۔ کانگریس اور بی جے پی کے لیڈران کا بھی الیکشن کمیشن پر عدم اطمینان کا اظہار۔

Voters cast their votes at a polling station in Nayanagar. Picture: Inquilab
نیانگرکے ایک پولنگ اسٹیشن پررائے دہندگان ووٹ دیتے ہوئے۔ تصویر: انقلاب
جمعرات کو میرابھائندر میونسپل کارپوریشن کا الیکشن افراتفری اور بدانتظامی کا شکار رہا۔ بوگس ووٹنگ کے معاملات سامنے آئے اور رائے دہندگان کو بھی سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وارڈ نمبر ۱۲ ؍میں بی جے پی کارکن کو پولنگ اسٹیشن کے باہر پیسہ بانٹتے ہوئے لوگوں نے رنگے ہاتھوں پکڑا اور پولیس کے حوالے کیا ۔ ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑانے کے الزامات لگائے گئے ۔رائے دہندگان کو نام تلاش کرنے میں دشواری پیش آ رہی تھی۔   ووٹر سلپ نہ ملنے سے رائے دہندگان پریشان دکھائی دیئے۔
مشہور عالمِ دین مولانا عبداللہ بدرالدین اصلاحی نے بتایا کہ ان کے گھر ووٹر سلپ نہیں پہنچی ۔جب وہ آن لائن سلپ لے کر پہنچے تو بوتھ کے اندر انہیں بتایا گیا کہ ان کا نام نہیں ہے۔ بہت دیر بعد انہیں ووٹ ڈالنے ملا ۔  پوجا نگر میں انور شیخ نامی شخص نے بتایا کہ ان کے گھر میں ان کا نام ایک پولنگ اسٹیشن میں تھا ،ان کی اہلیہ کا نام دوسرے پولنگ اسٹیشن میں تھا جبکہ بیٹی کا نام تیسرے پولنگ اسٹیشن میں تھا ۔شانتی نگر کے ایک بزرگ شخص نے بتایا کہ ووٹر لسٹ میں ان کے خاندان کے تین افراد کے نام دو دو جگہوں پر آئے ہیں ۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیاکہ کہیں دانستہ طور پر ایسا گیا ہوگا تاکہ بوگس ووٹنگ کی جا سکے ۔ انتخابی عمل کے دوران رائے دہندگان کو انگلی پر لگائی جانے والی    سیاہی کے بجائے   مارکر پین کا استعمال کیا گیا۔  یوٹیوبر شکیل شیخ نے کہا کہ ایسی شکایات موصول ہوئی ہیں کہ مارکر پین سے لگایا گیا نشان صابن سے دھونے پر نکل   رہا ہے۔  لوگوں نے یہ تشویش ظاہر کی اگر سیاہی اتنی آسانی سے مٹ گئی تو بوگس ووٹنگ کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ۔
مہاراشٹر کانگریس کے کارگزار صدر اور سابق رکن اسمبلی سید مظفر حسین نے الیکشن کمیشن پر سخت تنقید کی اوراس  کے کام کو غیر متوازن ،بے ترتیب اور بے ہنگم طریقے سے کیا گیا کام قرار دیا۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا الیکشن کمیشن کا کام  انتہائی ناقص اور بہت بھدا ہے جس کی وجہ سے مسلم علاقوں کے رائے دہندگان کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔  ووٹر لسٹ میں جان بوجھ کر غلطیاں کی گئیں ۔ والدین ، شوہر   اور بیوی کے نام الگ الگ پولنگ سینٹرس میں ڈال دیئے گئے  جو کہ ان کے گھروں سے دو دو کلومیٹر دور ہیں۔ ا نہوں نے مزیدکہا کہ خود ان کا اور ان کی اہلیہ کا نام بھی الگ الگ جگہوں پر درج ہے ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ خاص طور پر ان وارڈوں میں جہاں کانگریس کی پوزیشن مضبوط ہے جیسے وارڈ نمبر۹، ۱۹؍ اور۲۲، وہاں جان بوجھ کر انتخابی عمل کو متاثر کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ ووٹ نہ ڈال سکیں۔ ووٹر کے پاس صحیح ووٹر سلپ ہونے کے باوجود انہیں یہ کہہ کر واپس بھیجا جا رہا ہے کہ یہ ان کا وارڈ نہیں ہے ۔  مظفر حسین  کے بقول   بوگس ووٹنگ کے معاملات بھی سامنے آئے۔ وارڈ نمبر۱۶؍ میں ایک ووٹر جب اپنی اصل شناختی کارڈ کے ساتھ ووٹ ڈالنے پہنچا تو معلوم ہوا کہ اس کا ووٹ پہلے ہی کوئی اور ڈال چکا ہے۔ بوگس ووٹنگ کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ ضابطہ اخلاق کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے۔ بی جے پی کے کارکن جھنڈے ،بیج اور پٹیاں لگا کر بیٹھے ہیں لیکن نہ تو پولیس اور نہ ہی الیکشن کمیشن انہیں روک رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن نے ایپ اور بار کوڈ بنانے کے دعوے کئے تھے لیکن ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں اور بی ایل او کو کچھ معلوم نہیں ہے۔
  بی جے پی کے رکن اسمبلی نریندر مہتا نے بھی الیکشن کمیشن اور انتظامیہ کے کام پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بہت سی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ووٹرس کو آدھے آدھے گھنٹے تک قطار میں کھڑے رہنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ان کا نام نہیں ہے۔ آن لائن نظام اور میونسپل کارپوریشن کی ویب سائٹ بند ہونے کی وجہ سے لوگوں کو اپنے نام تلاش کرنے میں شدید دشواریاں ہوئیں۔
   وارڈ نمبر ۱۴ ؍سے ونچت بہوجن اگھاڑی کے امیدوار وامق شہود انور نقوی نے الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا کہ سینٹ زیویئر اسکول جو کہ ووٹنگ کا سب سے بڑا مرکز ہے، وہاں کسی بھی بوتھ پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہیں تھے۔ نہ صرف اس سینٹر پر بلکہ پورے وارڈ نمبر  ۱۴ ؍میں کسی بھی پولنگ اسٹیشن پر کیمرے نہیں تھے ۔ وامق نے دعویٰ کیا کہ انہیں ووٹرس سے پتہ چلا ہے کہ ووٹنگ مشینوں میں اُمیدواروں کے ناموں کی ترتیب بدل دی گئی ہے ۔ اس سے اُمیدواروں کی محنت ضائع ہو جائے گی کیونکہ ووٹرس کو غلط فہمی ہو سکتی ہے۔
    میراروڈ کے انجمن اسکول میں بطور پریسائیڈنگ افسر تعینات ڈاکٹر شیواجی کلولے نے انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے شکایت کی کہ اسکول کے گراؤنڈ فلور پر پولنگ بوتھ بنایا گیا ہے مگر یہاں کسی قسم کا کوئی انتظام نہیں ہے ،کمرہ بہت گندہ تھا ،واش روم اور پانی کا معقول انتظام نہیں تھا ،کمرے میں پنکھا بھی نہیں تھا۔ رات انہوں نے یہاں قیام کیا تھا مگر رات بڑی مشکل سے گزری۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK