Inquilab Logo Happiest Places to Work

پوپ لیو کا اسرائیل سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور اجتماعی سزا کے خاتمےکامطالبہ

Updated: August 28, 2025, 10:11 AM IST

کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی رہنما پوپ لیو نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف اجتماعی سزا اور جبری بے دخلی کو روکے اور فوری و مستقل جنگ بندی کیلئے اقدامات کرے۔

Pop Leo. Photo: INN.
پاپ لیو۔ تصویر: آئی این این۔

کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی رہنما پوپ لیو نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف اجتماعی سزا اور جبری بے دخلی کو روکے اور فوری و مستقل جنگ بندی کیلئے اقدامات کرے۔ ویٹیکن کے آڈیٹوریم میں ہزاروں افراد کی موجودگی میں ہفتہ وار خطاب کے دوران پوپ لیو نے ۲۲؍ماہ سے جاری جنگ کے خاتمےکیلئے زور دیا، جس پر شرکاء نے دو بار بھرپور تالیاں بجا کر ان کا ساتھ دیا۔ یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے غزہ میں نئی فوجی کارروائی کی تیاریوں کا عندیہ دیا ہے۔ تاریخ کے پہلے امریکی پوپ نے حماس کے قبضے میں موجود ۵۰؍یرغمالوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا اور عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ اس جنگ کو ختم کریں جس نے دہشت، تباہی اور موت کو جنم دیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں قحط پر عالمی برادری کو تشویش

پوپ نے کہا کہ میں مستقل جنگ بندی کی اپیل کرتا ہوں، انسانی امداد کے محفوظ داخلے کو یقینی بنانے اور بین الاقوامی انسانی قوانین کا احترام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق شہریوں کے تحفظ، اجتماعی سزا کے خاتمے، طاقت کے اندھا دھند استعمال اور آبادی کی جبری بے دخلی پر پابندی عائد ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیرِاعظم بنجامن نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ غزہ سٹی میں کارروائی شروع کی جائے گی، جہاں قحط اور بھوک کی صورتحال پہلے ہی بدترین شکل اختیار کر چکی ہے۔ تاہم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ یہ اقدام حماس کو کمزور کرنے اور یرغمالیوں کی واپسی کیلئے ضروری ہے، جس پر یرغمالیوں کے خاندانوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: فلوریڈا میں حادثے کے بعد امریکہ میں ہندوستانی ٹرک ڈرائیوروں کے خلاف نفرت میں اضافہ

اسی دوران یروشلم کے لاطینی اور یونانی آرتھوڈوکس پادریوں نے اعلان کیا ہے کہ غزہ سٹی میں موجود پادری اور راہبائیں اسرائیلی انخلاء کے احکامات کے باوجود اپنے مقامات پر رہیں گے کیونکہ وہاں پناہ لینے والے کمزور اور بیمار شہری کسی صورت نقل مکانی کے قابل نہیں ہیں۔ انہوں نے اسے ‘موت کا حکم نامہ’ قرار دیا۔ غزہ کی ہولی فیملی کیتھولک چرچ اور سینٹ پرفیریئس آرتھوڈوکس چرچ میں سیکڑوں فلسطینی شہری، بشمول خواتین، بچے، بزرگ اور معذور افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔ پوپ فرانسس نے اپنی بیماری کے آخری دنوں تک بھی ہولی فیملی چرچ کے پادری سے روزانہ رابطہ رکھ کر یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔ 
ادھر گزشتہ ہفتے پوپ لیو نے زبردستی بے دخل کیے گئے افراد کے ایک گروہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمام اقوام، خواہ وہ کتنی ہی کمزور یا چھوٹی کیوں نہ ہوں، ان کے شناختی حقوق اور اپنی سرزمین پر رہنے کا حق محفوظ رہنا چاہئے، اور کسی کو بھی جلاوطنی پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے حالیہ بیانات میں کہا ہے کہ غزہ کے عوام کو دیگر ممالک میں ’رضاکارانہ ہجرت ‘کے ذریعے منتقل کیا جانا چاہئے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلسطینی عوام نے اس منصوبے کو جلاوطنی کی سازش قرار دیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK