Inquilab Logo Happiest Places to Work

’اے آئی‘ کی ترقی کے درمیان انسانیت اپنی ہی ایجادات کا شکار بن سکتی ہے: پوپ لیو

Updated: August 28, 2026, 9:01 PM IST | Vatican City

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی جہاں انسان کیلئے بے شمار سہولتیں پیدا کر رہی ہے، وہیں اس کے ممکنہ خطرات بھی تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ پوپ لیو چہاردہم نے خبردار کیا ہے کہ انسان کو اے آئی کے بڑھتے اثرات کے درمیان فیصلہ سازی میں اپنی مرکزی حیثیت برقرار رکھنی ہوگی۔

Pop Leo. Photo: INN.
پاپ لیو۔ تصویر: آئی این این۔

پوپ لیوچہاردہم نے متنبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت(اے آئی)کی تیزی سے ترقی کے باعث انسانیت کو ’’اپنی ہی ایجادات کا شکار‘‘ ہونے کا خطرہ ہے۔ ویٹیکن نیوز کے مطابق، انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایڈمنسٹریٹو سائنسیز کے اراکین سے بات کرتے ہوئے، پوپ نے محققین کو متوجہ کیا کہ وہ معاشرے پر ڈجیٹل ٹیکنالوجیز کے بڑھتے اثرات سے نمٹنے میں عوامی حکام کا تعاون کریں۔ انہوں نے کہا، ’’جس رفتار سے مصنوعی ذہانت میں، نئی نئی ایجادات ہو رہی ہیں، وہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ کیا مستقبل میں ہم ان مشینوں کو کنٹرول کر سکیں گے، کیا انسانیت اپنی ہی ایجادات کا شکار ہونے کا خطرہ مول لے رہی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: دنیا کے سب سے کم عمر بادشاہ اویوکا ۳۴؍ برس کی عمر میں انتقال، یوگنڈا میں سوگ

انہوں نےمزید کہا کہ یہ مسئلہ سماجی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کر سکتا ہےاور فیصلہ سازی میں انسانوں کے کردار کو محفوظ رکھنے پر زیادہ توجہ دینے پر زور دیا۔ پوپ لیو نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ’’آج کے سنگین مسائل میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ انسانی زندگی سے متعلق فیصلے مشینوں کے سپرد کئے جا رہے ہیں۔ ‘‘پوپ نے ’ان تکنیکی آلات کے سامنے انسانی ذہانت کی ناقابل تلافی نوعیت‘ کی تصدیق کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کی امریکہ کو سخت دھمکی، محسن رضائی کانیتن یاہو کو جہنم بھیجنے کا انتباہ

انہوں نے’اے آئی ‘اور دیگر ڈجیٹل ٹیکنالوجیز کی ترقی اوراس کے استعمال کیلئے اخلاقی بنیادوں پر بھی زور دیا۔ پوپ لیو نے کہا کہ اس طرح کی ٹیکنالوجیز تیزی سے بڑے معاشی اور تکنیکی اداکاروں کے ہاتھوں میں مرکوز ہو رہی ہیں، جب کہ حکومتیں موثر نگرانی کیلئے جدوجہد کر رہی ہیں۔ انہوں نے ادارے کے ممبران کو زور دے کرکہا کہ ڈجیٹل ٹیکنالوجیز کی انسانیت سازی میں تعاون کرنے کے طریقے اور ذرائع تلاش کرنے کی غرض سے وہ اپنی تحقیق کو جاری رکھیں۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی طرف سے درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ’ہمارے طرز زندگی کو قریب سے متاثر کرتے ہیں اور سماجی زندگی کے ہر پہلو میں اثرانداز ہوتے ہیں۔ ـ‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK