• Mon, 14 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ترکی کی PISA درجہ بندی میں نمایاں بہتری، اردگان کا تینوں شعبوں میں ترقی کا دعویٰ

Updated: September 14, 2026, 10:51 PM IST | Ankara

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے دعویٰ کیا ہے کہ PISA 2025 کے جائزے میں ملک نے مطالعہ، ریاضی اور سائنس تینوں شعبوں میں نمایاں بہتری حاصل کی ہے۔ OECD کے مطابق بھی ترک طلبہ کی کارکردگی میں ۲۰۲۲ءسے ۲۰۲۵ء کے دوران بہتری آئی، جسے ترکی کے تعلیمی نظام کیلئے مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

 ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ ملک نے PISA 2025 کے جائزے میں مطالعہ، ریاضی اور سائنس سمیت تینوں شعبوں میں اپنی بین الاقوامی درجہ بندی میں ۵۰؍ فیصدبہتری حاصل کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ترکی واحد ملک ہے جس نے تینوں شعبوں میں بیک وقت نمایاں پیش رفت کی۔ اردگان نے یہ بات ۲۰۲۶ء۔ ۲۷ءکے تعلیمی سال کے آغاز پر انقرہ کے غازی اناطولین ہائی اسکول میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ 
PISA(Programme for International Student Assessment ) اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (OECD) کا عالمی جائزہ ہے، جس میں عموماً ۱۵؍سالہ طلبہ کی ریاضی، مطالعہ اور سائنس میں صلاحیتوں کا موازنہ کیا جاتا ہے۔ یہ جائزہ ہر۳؍ سال بعد مختلف ممالک کے تعلیمی نظام کی کارکردگی کا تقابلی جائزہ پیش کرتا ہے۔ اردگان نے ان نتائج کو کم اہمیت دینے کی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی کارکردگی میں بہتری ترک قوم کے لیے باعثِ فخر ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق PISA کے تازہ نتائج ترکی کے اسکولی نظام میں کئی برس کی جمود زدہ کارکردگی کے بعد نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ 
OECD کے تعلیم اور مہارت کے ڈائریکٹر آندریاس شلائخر نے بھی ترکی کی پیش رفت کو مثبت قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ۲۰۲۲ءسے۲۰۲۵ء کے درمیان ترکی کے طلبہ نے ریاضی، مطالعہ اور سائنس تینوں میں بہتری دکھائی، جبکہ ۲۰۱۵ءکے بعد کم کارکردگی دکھانے والے طلبہ کے تناسب میں بھی نمایاں کمی آئی۔ شلائخر نے ترکی کے تعلیمی نظام کو ’’واقعی آگے بڑھتا ہوا‘‘ قرار دیا۔ تازہ جائزے میں ترکی کی کارکردگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا کے متعدد تعلیمی نظاموں کو طلبہ کی بنیادی تعلیمی صلاحیتوں میں کمی کا سامنا ہے۔ OECD کے مطابق عالمی سطح پر PISA نتائج میں وبا کے بعد تعلیم میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے اثرات نمایاں رہے ہیں، جس کے باعث ترکی کی تینوں شعبوں میں بہتری خاص توجہ حاصل کررہی ہے۔ 
اردگان نے نئے تعلیمی سال کے آغاز کی تقریب میں تعلیم کو ملک کی طویل مدتی ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کا دفاع بھی کیا۔ ان کے مطابق بین الاقوامی جائزوں میں حاصل ہونے والی بہتری اس بات کا ثبوت ہے کہ تعلیمی معیار بلند کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات نتائج دے رہے ہیں۔ ترکی کی یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک نے حالیہ برسوں میں اسکولی تعلیم کے معیار، طلبہ کی بنیادی مہارتوں اور کم کارکردگی والے طلبہ کی تعداد کم کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ تاہم PISA کے نتائج کسی ایک حکومت یا پالیسی کی براہ راست کامیابی ثابت نہیں کرتے بلکہ طویل مدتی تعلیمی رجحانات کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK