قومی میڈیا کی فرقہ پرستی اور زہر افشانی پرکارروائی کا امکان

Updated: August 08, 2020, 4:02 AM IST | New Delhi

مرکز نظام الدین معاملے کوفرقہ وارانہ رنگ دینے پر سپریم کورٹ نے نیشنل براڈ کاسٹرس اسوسی ایشن کو نوٹس جاری کیا، پریس کونسل آف انڈیا سے اب تک کی گئی کارروائی پررپورٹ مانگی، پی سی آئی نے ۵۰؍ ایسے معاملات کا نوٹس لینے کا اعتراف کیا جبکہ این بی اے نے عدالت کو ۱۰۰؍ کے قریب شکایتیں ملنے کی اطلاع دی۔

Members of the Tablighi Jamaat. File photo. Photo: PTI
تبلیغی جماعت کے اراکین۔ فائل فوٹو۔ تصویر: پی ٹی آئی

 مرکز نظام الدین میں  تبلیغی جماعت کی میٹنگ اور لاک ڈاؤن کے سبب وہاں  جماعت کے اراکین کے پھنس جانے کے معاملےکو میڈیا کے ذریعہ فرقہ وارانہ رنگ دینے کے خلاف جمعیۃ علمائے ہند کی جانب سے داخل کی گئی پٹیشن پر سپریم کورٹ نے جمعہ کو نیوز چینلوں  کی تنظیم نیشنل براڈ کاسٹرس اسوسی ایشن کو نوٹس جاری کیا۔اس کے ساتھ ہی پریس کونسل آف انڈیا کے اس اعتراف پر کہ اس نے ایسے ۵۰؍ معاملات کا خود نوٹس لیا ہے، اور جلد ہی کوئی فیصلہ کریگا، سپریم کورٹ نے اس کارروائی کی ایک عمومی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس آف انڈیا نے سماعت کے دوران اپنے مشاہدے میں اس معاملے کو ایکسپرٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کی بات بھی کہی۔ 
پریس کونسل آف انڈیا ( پی سی آئی ) نے ۵۰؍ معاملات کا نوٹس لیا
  پریس کونسل آف انڈیا نے عدالت کو مطلع کیا ہے کہ اس نے ایسے ۵۰؍ معاملات کی شناخت کی ہےا وران پر جلد ہی کوئی فیصلہ کریگی۔ چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڑے ،جسٹس اے ایس بوپنّااور وی راما سبرامنیم کی بنچ نے پریس کونسل آف انڈیا سے اس معاملے میں ایک عمومی رپورٹ طلب کی ہے اور اشارہ دیا ہے کہ اس رپورٹ کی بنیاد پر وہ جمعیۃ کی پٹیشن پر کوئی فیصلہ سناسکتاہے۔ اس سے قبل پریس کونسل آف انڈیا کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ پرتیش کپور نے بتایا کہ ’’ہم نے کم و بیش ۵۰؍ معاملات کا نوٹس لیا ہے اور اس پر جلد ہی فیصلہ کریں  گے۔‘‘کورٹ نے اس پر پی سی آئی کو ایک عمومی رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی بنیاد پر بعد میں  مخصوص معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا جائےگا۔ 
 این بی اے نے ۱۰۰؍ شکایتوں  کا اعتراف کیا
 نیشنل براڈ کاسٹنگ اسوسی ایشن ( این بی اے) کی پیروی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ نشا بامبھانی نے کورٹ کو اطلاع دی کہ اسوسی ایشن کو ۱۰۰؍ کے قریب شکایتیں  ملی ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ہم نے اس معاملے کو دیکھنے کیلئے ۲۵؍ جولائی کو میٹنگ کی ہے۔‘‘ یاد رہے کہ مرکز نظام الدین میں   جماعتیوں کے پھنس جانے کے معاملے کو میڈیا کے ایک بڑے حصے نے مسلمانوں   کے خلاف زہر افشانی کیلئے استعمال کیا اور یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ جماعت کے لوگ خصوصی طور پر اور مسلمان عمومی طو رپر جان بوجھ کر کورونا پھیلا رہے ہیں ۔ 
 ایکسپرٹ کمیٹی کی ضرورت کا اشارہ
  مقدمے کی شنوائی کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا نے منشا ظاہر کی کہ اس معاملے کو ماہرین کی کمیٹی کے حوالے کیا جانا چاہئے۔ ان کی رائے تھی کہ اس پورے معاملے کو یاتو ماہرین کی کمیٹی کے حوالے کردیا جانا چاہئے یا پھرکورٹ کو کسی نتیجے پر پہنچنے کیلئے اس کمیٹی کی رائےلینی چاہئے۔  چیف جسٹس آف انڈیا کے مطابق’’ہمیں   مدعا علیہ اور این بی اے کے حلف نامے ملے ہیں ، ہم این بی اے سے کہہ سکتے ہیں  کہ وہ اس معاملے کو رپورٹنگ کے معیار کے حوالے سے دیکھے...ہم معاملے کو غیر اہم نہیں کررہے ہیں ، مگر مہارت نہ ہونے کی وجہ سے ہم معذور ہیں ۔ اس معاملے کودیکھنے کیلئے ایک ایکسپرٹ باڈی کی ضروت ہے۔‘‘جمعیۃ علمائے ہند کی پیروی کرتے ہوئے سینئر وکیل دشینت دوے نے کہا کہ اس معاملے میں  پہلے ہی بہت تاخیر ہوچکی ہے اور کوئی ایکشن نہیں لیاگیا۔ انہوں   نے نشاندہی کی کہ کورٹ نے مرکز سے (مقدمہ درج ہونے کے بعد) دو ہفتوں  میں  جواب مانگا تھا مگر یہ جواب جمعرات کو ملا ہے۔ دشینت دوے نے کہا کہ ’’۲؍ ہفتے کی مہلت جون میں  ختم ہوگئی تھی، ان کی طرف سے جواب ۶؍ اگست کو داخل کیاگیا ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں  نے مرکز کے جواب پر اپنا جواب داخل کرنے کیلئے کورٹ سے وقت مانگا۔
 مرکز نے میڈیا پر پابندی کی مخالفت کی
 مرکز نظام الدین کے معاملے میں ’’نفرت پھیلانے‘‘ پر میڈیا کے خلاف کارروائی کیلئے جمعیۃ  علمائے ہند کی جانب سے داخل کی گئی پٹیشن پر جواب دیتے ہوئے مرکزی حکومت نے میڈیا کے خلاف کسی بھی طرح کی کارروائی کی مخالفت کی ہے۔ جمعیۃ کی پٹیشن پر کم وبیش دو ماہ کی تاخیر سے داخل کئے گئے جواب میں   مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ پورے میڈیا کے خلاف(تبلیغی جماعت کے معاملےکی رپورٹنگ پر) عمومی پابندی شہریوں  کی اس آزادی کو تباہ کردیگا کہ وہ سماج کے مختلف حصوں  کے بارے میں  جان سکیں ۔ ساتھ ہی سماج کو باخبر رکھنے کا صحافی کا حق بھی متاثر ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK