• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مرغی کی غذا مہنگی ہونے سے انڈے اور مرغی کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

Updated: November 06, 2026, 6:13 PM IST | New Delhi

مرغیوں کی خوراک میں استعمال ہونے والی مکئی اور ٹوٹے ہوئے چاول کی قیمتوں میں ایک سال کے دوران تقریباً دُگنا اضافہ ہونے سے پولٹری صنعت پر مالی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خام مال کی مہنگائی اور پیداوار میں کمی کے باعث دسمبر ۲۰۲۶ء تک انڈے اور مرغی کا گوشت ۲۵؍ سے ۳۰؍ فیصد تک مہنگا ہوسکتا ہے، جس سے عام صارفین کا گھریلو بجٹ متاثر ہوگا۔

Eggs.Photo:INN
انڈے۔ تصویر:آئی این این

ملک میں مرغی کی غذا کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث انڈے اور مرغی کا گوشت مہنگا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ صنعت سے وابستہ ماہرین اور کاروباری حلقوں کے مطابق دسمبر ۲۰۲۶ء تک انڈوں اور مرغی کی قیمتوں میں ۲۵ ؍سے ۳۰ ؍فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ مرغیوں کی خوراک میں استعمال ہونے والی اہم اشیا، خصوصاً مکئی اور ٹوٹے ہوئے چاول کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ان دونوں اجناس کی قیمتیں تقریباً دُگنی ہوچکی ہیں، جبکہ گزشتہ ایک ماہ میں بھی ان کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس صورت حال نے پولٹری فارمز کے پیداواری اخراجات بڑھا دیے ہیں، جس کا اثر بالآخر صارفین کو ادا کرنا پڑسکتا ہے۔ 
پولٹری فیڈ میں مکئی بنیادی اجزا میں شامل ہے، جس کی قیمتوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران زبردست اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سال مکئی تقریباً ۱۸؍ روپے فی کلو دستیاب تھی، جو اب بڑھ کر ۳۴ ؍روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ صرف ایک ماہ قبل اس کی قیمت ۲۶ ؍سے ۲۷ ؍روپے فی کلو کے درمیان تھی۔ صنعت سے وابستہ حلقوں کا خدشہ ہے کہ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو دسمبر تک مکئی کی قیمت ۴۰ ؍روپے فی کلو تک پہنچ سکتی ہے۔ اس اضافے کی ایک بڑی وجہ سپلائی چین میں ذخیرہ اندوزی بتائی جارہی ہے، کیونکہ بعض تاجروں اور کسانوں کو توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں مکئی مزید مہنگی ہوگی۔

یہ بھی پڑھئے:رونالڈو کے بین الاقوامی ریٹائرمنٹ کے بعد آر سی بی کو وراٹ کا ’گوٹ‘ خراجِ تحسین یاد آیا

پولٹری فیڈ میں استعمال ہونے والے ٹوٹے ہوئے چاول  کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ نومبر ۲۰۲۵ء میں یہ تقریباً ۱۴؍ سے ۱۵؍ روپے فی کلو فروخت ہورہے تھے، جو اب بڑھ کر ۳۱ ؍سے ۳۲؍ روپے فی کلو تک پہنچ گئے ہیں۔ ایک ماہ قبل ان کی قیمت تقریباً ۲۲ ؍سے ۲۳؍روپے فی کلو تھی۔ اس طرح مرغیوں کی خوراک میں استعمال ہونے والے دونوں اہم اجزا مہنگے ہونے سے پولٹری فارمرز پر اضافی مالی دباؤ پڑ رہا ہے۔ صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ پہلے مکئی اور چاول مہنگے ہونے پر جوار، باجرہ اور راگی جیسے متبادل اناج استعمال کیے جاتے تھے، لیکن اب ان کی قیمتیں بھی زیادہ ہونے کے باعث متبادل خوراک سے خاطر خواہ راحت ملنا مشکل ہوگیا ہے۔ 
مکئی کی قیمتوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ ملک کے اہم مکئی پیدا کرنے والے علاقوں میں کمزور مانسون بھی ہے۔ مہاراشٹر اور کرناٹک جیسی ریاستوں میں بارش کی کمی کے باعث خریف سیزن میں مکئی کی پیداوار ۱۵ ؍سے ۱۶؍ فیصد تک کم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ ایتھنول کی تیاری کے لیے مکئی کی بڑھتی ہوئی طلب نے بھی اس کی دستیابی اور قیمتوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ مکئی کی محدود سپلائی اور صنعتی استعمال میں اضافے کے باعث پولٹری فیڈ تیار کرنے والی کمپنیوں کو خام مال مہنگے داموں خریدنا پڑرہا ہے، جس سے مرغی اور انڈوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہورہا ہے۔ 
پولٹری صنعت کے اندازوں کے مطابق اس وقت تھوک بازار میں ایک انڈے کی قیمت تقریباً ۶ ؍سے ۷ ؍ روپے ہے، جو دسمبر تک بڑھ کر ۷ سے ۸ روپے ہوسکتی ہے۔ اسی طرح بغیر کھال والے مرغی کے صاف گوشت (  کی تھوک قیمت فی کلو ۲۲۵ ؍سے ۲۵۰ ؍روپے کے درمیان ہے، جس کے بڑھ کر ۲۶۰ ؍سے ۲۷۵ ؍ روپے فی کلو ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ تاہم یہ تھوک بازار کی متوقع قیمتیں ہیں، جبکہ مختلف شہروں اور علاقوں میں خردہ قیمتیں دکانداروں، سپلائی اور مقامی طلب کے مطابق مختلف ہوسکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:رنبیر کپور اور یش کی فلم ’’رامائن‘‘ کی باکس آفس پر شاندار شروعات

پولٹری صنعت کے لیے دسمبر اور جنوری عام طور پر زیادہ کھپت کے مہینے ہوتے ہیں۔ کرسمس اور نئے سال کی تقریبات کے دوران مرغی کے گوشت کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر خوراک کی قیمتیں بلند رہیں اور پیداوار متاثر ہوئی تو بازار میں قیمتوں پر مزید دباؤ پڑسکتا ہے۔ صنعت سے وابستہ بعض افراد کے مطابق زیادہ خوراک کے اخراجات سے بچنے کے لیے کسان کم عمر مرغیاں فروخت کرسکتے ہیں، جس کے نتیجے میں دسمبر اور جنوری کے دوران پولٹری کی پیداوار میں بھی کمی کا خدشہ ہے۔ وینکٹیشورا ہیچریز کے جنرل منیجر کے جی آنند کے مطابق کسانوں کے لیے خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا پورا بوجھ صارفین تک منتقل کرنا بھی آسان نہیں ہوگا ۔
پولٹری فارمنگ میں خوراک پیداواری لاگت کا سب سے بڑا حصہ ہوتی ہے۔ خاص طور پر مرغی کے گوشت کی پیداوار میں مکئی اور دیگر غذائی اجزا کی قیمتیں براہ راست منافع اور کاروباری لاگت کو متاثر کرتی ہیں۔ پولٹری فیڈ کی قیمتوں میں اضافے سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے فارمرز زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں، کیونکہ ان کے لیے بڑھتے اخراجات برداشت کرنا نسبتاً مشکل ہوتا ہے۔ اس سے پہلے بھی پولٹری صنعت کی جانب سے مکئی اور دیگر خام مال کی مسلسل بڑھتی قیمتوں پر تشویش ظاہر کی جاچکی ہے اور حکومت سے سپلائی کی صورت حال پر نظر رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ 
مجموعی طور پر مکئی اور ٹوٹے ہوئے چاول کی مہنگائی، کمزور مانسون کے باعث پیداوارمیں کمی کے خدشات اور ایتھنول صنعت کی بڑھتی ہوئی طلب نے پولٹری سیکٹر کے لیے مشکلات پیدا کردی ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں خام مال کی قیمتوں میں کمی نہیں آتی تو دسمبر تک انڈے اور مرغی کا گوشت ۲۵؍ سے ۳۰ ؍فیصد تک مہنگا ہوسکتا ہے۔ اس کا اثر نہ صرف صارفین کے گھریلو بجٹ پر پڑے گا بلکہ عام لوگوں کے لیے پروٹین کے نسبتاً سستے ذرائع تک رسائی بھی مشکل ہوسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK