Inquilab Logo Happiest Places to Work

اختلاف زندگی کا عیب نہیں بلکہ اس کا حسن ہے مگر...

Updated: July 07, 2026, 2:23 PM IST | Dr. Asma Rahmatullah | Mumbai

اگر دنیا کے تمام انسان ایک ہی طرح سوچتے، ایک ہی زاویے سے دیکھتے اور ایک ہی انداز میں جیتے تو شاید زندگی میں نہ تنوع ہوتا، نہ تخلیق جنم لیتی اور نہ ہی ارتقا کا سفر آگے بڑھتا۔

Mutual Differences Can Be Resolved Through Dialogue And Forgiveness.Photo:INN
بات چیت اور معافی سے آپسی اختلاف کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ تصویر:آئی این این
اختلاف کا وجود فطری ہے۔ دو انسان کبھی ایک جیسے نہیں ہوسکتے۔ ایک ہی گھر میں پلنے والے بہن بھائی بھی مختلف مزاج رکھتے ہیں۔ ایک ہی استاد سے پڑھنے والے طلبہ کی سوچیں الگ ہوتی ہیں۔ ایک ہی معاشرہ میں رہنے والے لوگ الگ ترجیحات اور تصورات کے حامل ہوتے ہیں۔ اس لئے اختلاف زندگی کا عیب نہیں بلکہ اس کا حسن ہے۔ مسئلہ اختلاف کا نہیں، اس رویے کا ہے جو اختلاف کے بعد اختیار کیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے اختلافات کو سمجھنے کے بجائے انہیں چھپانا سیکھ لیا ہے۔ ہم مسکرا کر ناراضگی چھپا لیتے ہیں، خاموش رہ کر دکھ دبا لیتے ہیں، اور تعلق نبھانے کے نام پر دل کے زخموں کو اندر ہی اندر بڑھنے دیتے ہیں۔ بظاہر سب کچھ معمول پر دکھائی دیتا ہے مگر اندر ایک ایسی خاموش دراڑ پیدا ہو چکی ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ گہری ہوتی جاتی ہے۔ چھپائے گئے اختلافات کبھی ختم نہیں ہوتے، وہ صرف خاموش ہو جاتے ہیں۔ اور خاموش زخم اکثر سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتے ہیں۔
 
 
رشتے کپڑوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ان پر وقت، حالات، غلط فہمیوں اور توقعات کے سبب شکنیں بھی پڑتی ہیں اور کہیں کہیں شگاف بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ مگر دانا لوگ ان شگافوں کو پھینکتے نہیں، انہیں رفو کرتے ہیں۔ محبت، برداشت، مکالمہ، معافی اور خلوص کے دھاگوں سے انہیں دوبارہ جوڑ لیتے ہیں۔ شاید اسی لئے تعلقات میں سب سے خوبصورت کردار رفوگر کا ہے۔ رفوگر کبھی پھٹے ہوئے کپڑے کو حقارت سے نہیں دیکھتا، وہ جانتا ہے کہ ہر پھٹاؤ کو محبت سے جوڑا جاسکتا ہے۔ اسی طرح زندگی میں بھی کچھ لوگ رفوگر ہوتے ہیں؛ وہ بکھرے دل جوڑتے ہیں، ناراض چہروں پر مسکراہٹ لاتے ہیں اور اختلافات کے درمیان محبت کی راہیں نکالتے ہیں۔
آج انسان ترقی کی بلندیوں پر کھڑا ہے۔ علم، ٹیکنالوجی، سہولت اور آسائش کے دروازے کھل چکے ہیں، مگر تعلقات کمزور ہو رہے ہیں۔ گھر ایک ہیں مگر دل الگ الگ ہیں۔ باتیں موجود ہیں مگر مکالمہ نہیں۔ روابط موجود ہیں مگر قربت نہیں۔ لوگ ساتھ رہتے ہیں مگر ایک دوسرے کو سمجھنے کی فرصت نہیں رکھتے۔
سوشل میڈیا نے ہمیں جوڑا ضرور ہے مگر بہت سی جگہوں پر مکالمہ چھین بھی لیا ہے۔ اختلاف رائے اب برداشت نہیں کیا جاتا بلکہ دشمنی سمجھا جاتا ہے۔ چند جملے، چند نظریات یا چند مختلف خیالات تعلقات ختم کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ حالانکہ اصل خوبصورتی اختلاف ختم کرنے میں نہیں بلکہ اختلاف کے باوجود تعلق برقرار رکھنے میں ہے۔
حضرت علیؓ کا قول ہے: ’’لوگوں کے ساتھ ایسے ملو کہ اگر تم غائب ہو جاؤ تو وہ تمہیں یاد کریں اور اگر دنیا سے چلے جاؤ تو تمہارے لئے دعا کریں۔‘‘
یہ مقام صرف محبت سے نہیں ملتا بلکہ برداشت، وسعت ِ قلب اور رفوگری سے حاصل ہوتا ہے۔ استاد کے کردار میں بھی یہ فلسفہ بہت اہم ہے۔ ایک معلم صرف کتابیں نہیں پڑھاتا بلکہ دلوں کی تعمیر بھی کرتا ہے۔ طلبہ مختلف ذہن، مزاج، رفتار اور صلاحیت رکھتے ہیں۔ کوئی تیز ہوتا ہے، کوئی سست، کوئی حساس، کوئی شوخ، کوئی خاموش، کوئی بے حد متحرک۔ اگر معلم ہر اختلاف کو مسئلہ سمجھ لے تو تعلیم محض تدریس رہ جائیگی، تربیت نہیں بن سکے گی۔ ایک اچھا استاد رفوگر ہوتا ہے۔ وہ طلبہ کی کمزوریوں کو حقارت سے نہیں دیکھتا بلکہ محبت سے سنوارتا ہے۔ وہ اختلاف کو بغاوت نہیں سمجھتا بلکہ سمجھنے کا موقع بناتا ہے۔ وہ دلوں کو توڑنے کے بجائے جوڑنے کا فن جانتا ہے۔ اسی طرح والدین کیلئے بھی یہ سبق اہم ہے۔ نئی نسل کے خیالات، ترجیحات اور طرزِ زندگی بہت حد تک بدل چکے ہیں۔ اگر ہر فرق کو نافرمانی سمجھا جائیگا تو فاصلے بڑھیں گے، مگر اگر مکالمے کا دروازہ کھلا رکھا جائے تو نسلوں کے درمیان محبت باقی رہے گی۔
 
 
مشہور مفکر اسٹیفن کووی نے کہا تھا: ’’پہلے سمجھنے کی کوشش کرو، پھر سمجھے جانے کی خواہش رکھو۔‘‘
یہ جملہ دراصل اختلافات کی سلائی کا پہلا ٹانکا ہے۔ معاشرہ بھی اسی اصول پر مضبوط ہوتے ہیں۔ زبان، ثقافت، مذہب، فکر اور نظریات کا تنوع اگر تصادم میں بدل جائے تو معاشرہ بکھر جاتے ہیں لیکن اگر انہیں قبول کر لیا جائے تو یہی تنوع ترقی کا سبب بنتا ہے۔ تاریخ کی عظیم تہذیبیں اختلافات کے احترام سے پروان چڑھیں اور تعصب سے زوال کا شکار ہوئیں۔ زندگی ہمیں روز ایسے مواقع دیتی ہے جہاں ہم یا تو فاصلے بڑھا سکتے ہیں یا رشتوں کو رفو کرسکتے ہیں۔ ہم خاموشی اختیار کرسکتے ہیں یا بات کرسکتے ہیں۔ ہم انا کو بچا سکتے ہیں یا تعلق کو۔ انتخاب ہمارا ہوتا ہے۔
یاد رکھئے! تعلقات کبھی بڑے حادثے سے نہیں ٹوٹتے، وہ چھوٹی چھوٹی بے اعتنائیوں، ان سنی باتوں، انا کے فیصلوں اور خاموش ناراضگیوں سے بکھرتے ہیں اور اسی طرح وہ چھوٹے چھوٹے رویوں، ایک معافی، ایک گفتگو، ایک مسکراہٹ اور ایک خلوص سے دوبارہ جڑ بھی جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK