Updated: July 26, 2026, 2:04 PM IST
| New Delhi
مرکزی وزیر پرہلاد جوشی کو دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد ہندوستان کا نیا مرکزی وزیرِ تعلیم مقرر کر دیا گیا ہے۔ انہیں وزارتِ صارفین کے امور کے ساتھ ساتھ وزارتِ تعلیم کا اضافی چارج بھی سونپا گیا ہے۔ طلبہ کے احتجاج کے بعد دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
پرہلاد جوشی۔ تصویر:آئی این این
نومقرر مرکزی وزیرِ تعلیم پرہلاد جوشی نے ہفتہ کو کہا کہ انہوں نے اس ذمہ داری کو فرض شناسی اور عاجزی کے جذبے کے ساتھ قبول کیا ہے۔ دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد انہیں وزارتِ تعلیم کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جبکہ وہ بدستور وزارتِ صارفین کے امور بھی سنبھالیں گے۔ انہوں نے کہا’’مجھے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے اور میں اسے اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ نبھانے کی کوشش کروں گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:’ٹھکراکے میرا پیار۲؍‘پہلے سیزن سے آگے کی کہانی پیش کرتی ہے
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرہلاد جوشی نے کہا’’ وزیراعظم نے مجھے ایک اہم ذمہ داری دی ہے۔ میں اسے فرض شناسی اور انکساری کے ساتھ قبول کرتا ہوں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا’’وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ ۱۲؍ برسوں کے دوران حکومت نے کئی تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ گزشتہ چار سے پانچ برسوں میں دھرمیندر پردھان نے بھی قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) کے نفاذ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم کی رہنمائی میں میں اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ بہترین کارکردگی دکھانے کی کوشش کروں گا۔‘‘
اس سے قبل، ملک بھر میں سی جے پی کی قیادت میں نیٹ (NEET) پرچہ لیک معاملے پر طلبہ کے احتجاج کے بعد دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ پردھان نے کہا تھا کہ یہ ان کے لیے ذاتی وقار کا معاملہ نہیں ہے، تاہم گزشتہ دس دنوں میں پیش آنے والے واقعات نے انہیں شدید پریشان کیا۔
یہ بھی پڑھئے:سری کانت نے محمد سمیع کو نظر انداز کرنے پر حیرانی کا اظہار کیا
احتجاج کرنے والے طلبہ کی نئے وزیرِ تعلیم سے تین بڑی توقعات
نیٹ پرچہ لیک کے خلاف تقریباً ایک ماہ تک جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ دھرمیندر پردھان کے استعفے سے ان کا ایک اہم مطالبہ پورا ہو گیا ہے، لیکن وہ توقع رکھتے ہیں کہ نئے وزیرِ تعلیم تعلیمی نظام میں حقیقی اور مؤثر اصلاحات کریں گے۔پردھان کے استعفے کے بعد جشن منانے والے طلبہ سے جب پی ٹی آئی نے پوچھا کہ انہیں نئے وزیرِ تعلیم سے کیا امیدیں ہیں تو مختلف ریاستوں سے آئے مظاہرین نے تین اہم مطالبات بار بار دہرائے:امتحانی نظام میں مکمل شفافیت، سستی اور معیاری تعلیم اور سرکاری اسکولوں اور ابتدائی تعلیم کو مضبوط بنانا۔