ہیلتھ سروسیز کمشنریٹ میں وزیر صحت کی صدارت میں اہم میٹنگ کا انعقاد، رکن پارلیمان بونڈے، رکن کاؤنسل اور ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کے ساتھ بات چیت۔
EPAPER
Updated: May 18, 2026, 12:40 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
ہیلتھ سروسیز کمشنریٹ میں وزیر صحت کی صدارت میں اہم میٹنگ کا انعقاد، رکن پارلیمان بونڈے، رکن کاؤنسل اور ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کے ساتھ بات چیت۔
صحت عامہ کے وزیر پرکاش ابیتکر نےگولڈن آور‘کے دوران دیہی علاقوں میں فالج کے مریضوں کو فوری اور جدید ترین علاج فراہم کرنے کیلئے ’’ریموٹ روبوٹک نیورو انٹروینشن‘‘ ریموٹ روبوٹک علاج کی سہولیات استعمال کرنے پر زوردیا ہے۔ اس تعلق سے ریاستی وزیر نے ڈاکٹروں سے بات چیت کی اور کہا کہ پائلٹ پروجیکٹ کے نفاذ کیلئے وہ تجویز پیش کریں۔ گزشتہ چند برسوں سے فالج کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایسے مریضوں کافالج کا اثر ہوتے ہی جلد از جلد ’گولڈن آور‘‘ کے دوران علاج کروانا بہت ضروری ہے۔ ایسے میں اگر ماہر ڈاکٹر اور جدید سہولیات بروقت میسر نہ ہوں تو مریض کیلئے مستقل فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس صورت حال کو ذہن میں رکھتے ہوئے، وزیر صحت نے تعلقہ اور ضلعی سطح کے سرکاری اسپتالوں میں مقامی سطح پر جدید ترین ’’ریموٹ روبوٹک نیورو انٹروینشن‘‘ علاج کی سہولیات فراہم کرنے کا ارادہ کیا۔
اس سلسلے میں ہیلتھ سروسز کمشنریٹ میں وزیر صحت کی صدارت میں ایک ابتدائی میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں رکن پارلیمان ڈاکٹر انل بونڈے، رکن کونسل اوما کھاپرے، ہیلتھ سروسز کمشنر ڈاکٹر کادمبری بلکاواڑے، نیشنل اربن ہیلتھ مشن کمشنر ڈاکٹر سنیل بھوکرے، ہیلتھ ڈائریکٹر ڈاکٹر وجے کندیواڑ، کے ای ایم کے سینئر ہائبرڈ نیورو سرجن ڈاکٹر نتن ڈانگے اور دیگر شریک ہوئے۔ روبوٹک ٹیکنالوجی کے ذریعے فالج کے مریضوں کے علاج کی سہولت کا تجربہ۲۰۲۰ءمیں ممبئی کے کے ای ایم اسپتال میں کیا گیا تھا۔ اس اسپتال کے سینئر ہائبرڈ نیورو سرجن ڈاکٹر نتن ڈانگے اور ماہر ڈاکٹروں کی رہنمائی میں دیہی علاقوں میں اس سہولت کو دستیاب کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ اسکیم نافذ ہو جاتی ہے تو دیہی علاقوں میں مریضوں کو ’’ہب اینڈ سپوک‘‘ سسٹم کے ذریعے ’’ریموٹ روبوٹک نیورو انٹروینشن‘‘ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: اب ۲۰؍ سے کم طلبہ والے اسکولوں کو بند نہیں کیا جائے گا، حکومت کا نیا فیصلہ
امید کی جارہی ہے کہ، مرکزی روبوٹک کنٹرول سینٹر (ہب) ممبئی کے کے ای ایم اسپتال میں کام کرے گا، جبکہ سیکنڈری روبوٹک سسٹم (اسپوک سینٹرز) ضلع اور تعلقہ سطح کے اسپتالوں میں کام کریں گے۔ یہ دونوں اجزاء کمپیوٹر اور ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک ہوں گے۔ ممبئی میں ماہر ڈاکٹر اپنے کنٹرول سسٹم کے ذریعے دیہی اسپتالوں میں موجود طبی ٹیموں کی مدد سے نیوروانجیوگرافی اور اسٹروک مداخلت کے طریقہ کار کو انجام دیں گے۔
محکمہ صحت ریاست میں ۱۱؍مقامات پر کیتھ لیب شروع کر رہا ہے۔ ان میں سے ۵؍مراکز پر تجرباتی طور پر ’’ریموٹ روبوٹک نیورو انٹروینشن‘‘ کی سہولیات شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس پائلٹ پروجیکٹ کی کامیابی کے بعد اس اسکیم کو مرحلہ وار ریاست بھر میں استعمال کیاجائے گا۔
اس پروجیکٹ کیلئے درکار زیادہ تر انفراسٹرکچر محکمہ صحت عامہ کے پاس دستیاب ہے اور اضافی لاگت بنیادی طور پر روبوٹک سسٹم پر آئے گی۔ اس سروس کو ’’ٹیلی میڈیسن‘‘ اور ’’ای سنجیونی‘‘ سسٹم کے ذریعے زیادہ مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں وزیر صحت پرکاش ابیتکر نے کہا کہ دیہی علاقوں کے شہریوں کو بھی میٹروپولیٹن شہروں کی طرح جدید ترین صحت کی سہولیات ملنی چاہئیں۔ ’گولڈن آور‘ فالج کے مریضوں کے لیے بہت اہم ہے۔ اس لیے محکمہ صحت مریضوں کو بڑے شہروں میں شفٹ کرنے کے بجائے اپنے قریبی سرکاری اسپتال میں ’’ریموٹ روبوٹک نیورو انٹروینشن‘‘ جیسے جدید طریقہ علاج فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔