Updated: November 04, 2026, 10:07 PM IST
| New Delhi
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر کے دوران حذف شدہ رائے دہندگان کے فارم ۶؍ بھرنے کے خلاف کوئی کاررائی نہیں کی جائے گی، پول پینل نے نوٹ کیا کہ کچھ افراد جو اپنا نام دوبارہ درج کرانے کیلئے پہلی بار ووٹرز کیلئے مخصوص فارم ۶؍بھرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے، انہیں خدشہ تھا کہ غلط اعلان کرنے پر ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔
دی ہندو نے رپورٹ کیا کہ الیکشن کمیشن نے منگل کو واضح کیا کہ جن رائے دہندگان کے نام اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے تحت تیار کردہ مسودہ انتخابی فہرستوں میں غائب ہیں وہ پہلے سے اندراج شدہ ہونے کے باوجود غلط اعلان کرنے پر مقدمہ چلائے جانے کا سامنا کیے بغیر شمولیت کے لیے فارم ۶؍ جمع کرا سکتے ہیں۔تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف الیکٹورل افسران کو لکھے گئے خط میں، پول پینل نے کہا کہ کچھ ووٹرز فارم۶؍ جمع کرانے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے کیونکہ اس میں درخواست گزاروں کو یہ اعلان کرنا ہوتا ہے کہ ان کے نام پہلی بار انتخابی فہرستوں میں شامل کیے جا رہے ہیں۔
فارم۶؍ پہلی بار ووٹر رجسٹریشن کے لیے ہے
پول پینل کے حوالے سے کہا گیا کہ ایسے ووٹرز یقین رکھتے ہیں کہ فارم۶؍ جمع کرانا، ان کے گزشتہ اندراج کے پیش نظر، غلط اعلان کرنے کے مترادف ہوگا اور انہیں۱۹۵۰ء کے نمائندگی عوام ایکٹ کے تحت مقدمہ چلانے کے قابل بنائے گا۔اس نے واضح کیا کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی، بشرطیکہ وہ پہلے سے کسی دوسرے حلقے میں اندراج شدہ نہ ہوں۔الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ جن ووٹرز کے نام مسودہ فہرستوں میں ظاہر نہیں ہوتے انہیں دوبارہ شمولیت طلب کرنی چاہیے، چاہے وہ پہلے سے اندراج شدہ ہوں۔پول پینل نے کہا کہ یہ وضاحت دہلی ہائی کورٹ کے۱۴؍ اکتوبر کے فیصلے کے مطابق ہے۔
واضح رہے کہ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ نظرثانی کے دوران خارج ہونے کے بعد انتخابی فہرست میں اپنا نام بحال کرنے کے لیے فارم۶؍ جمع کرانے پر غلط اعلان کرنے کے الزام کا ووٹر کا خدشہ بے بنیاد ہے کیونکہ ایسا کرنے کی ہدایت الیکشن کمیشن کی طرف سے آئی تھی۔اس سے قبل اکتوبر میں، پول پینل نے اپنی ریاستی اکائیوں کو ہدایت کی تھی جہاں نظرثانی مکمل ہو چکی تھی کہ وہ فارم۶؍ کا استعمال کرتے ہوئے ان اہل ووٹرز کی شناخت کریں اور بحال کریں جنہیں غلطی سے خارج کیا گیا ہو۔
تاہم، سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے اس وقت کہا تھا کہ فارم ۶؍حذف شدہ ووٹرز کے ذریعے نہیں بھرا جا سکتا کیونکہ یہ صرف نئے ووٹرز کے لیے ہے۔قریشی نے سوشل میڈیا پر کہا، ’’جن سب کو اسے بھرنے پر مجبور کیا گیا ہے انہوں نے ایک سال قید کی سزا کے ساتھ مجرمانہ جرم کیا ہے۔‘‘ ای سی اہلکار جنہوں نے انہیں مجبور کیا وہ جرم کے سہولت کار ہیں۔ یہ پریس نوٹ ای سی کی سہولت کاری کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: سرکاری کے ساتھ اب پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ بھی مردم شماری کریں گے
حذف شدہ ووٹرز کو فارم۶؍ بھرنے کے لیے کیوں کہا جائے، سپریم کورٹ کا سوال
۲۸؍اکتوبر کو، سپریم کورٹ نے زبانی طور پر پوچھا کہ الیکشن کمیشن ان ووٹرز کو جو نظرثانی سے پہلے اندراج شدہ تھے، مشق کے دوران گنتی کے فارم نہ بھرنے پر مسودہ فہرستوں سے حذف ہونے کے بعد فارم۶؍ استعمال کرنے کے لیے کیوں کہہ رہا ہے۔چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں بنچ نے نوٹ کیا کہ دہلی میں کچھ ووٹرز کو گنتی کے فارم موصول نہیں ہوئے ہوں گے کیونکہ وہ مشق کے دوران رہائش گاہ بدل چکے تھے یا سفر کر رہے تھے۔ دہلی میں مشق کا گنتی کا مرحلہ جولائی میں ہوا تھا۔
عدالت نے پوچھا کہ ووٹرز کو اب گنتی کا فارم یا فارم۸؍، جو پتے تبدیل کرنے کے لیے ہے، بھرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا سکتی، بجائے فارم ۶؍ کے۔جس کے جواب میں الیکشن کمیشن کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے کہا تھا کہ حکام عدالت کی طرف سے دی گئی تجاویز کا جائزہ لیں گے۔بنچ کے مشاہدات دو دن بعد سامنے آئے جب سپریم کورٹ نے۲۶؍ اکتوبر کو ایک علاحدہ معاملے میں زبانی طور پر ووٹرز کو یقین دلایا کہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے دوران خارج ہونے کے بعد اپنے نام بحال کرنے کے لیے فارم ۶؍ جمع کرانے پر ان کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔
علاوہ ازیں مہاراشٹر میں ووٹر رول نظرثانی سے متعلق معاملے میں درخواست گزار کے وکیل نے نشاندہی کی تھی کہ پہلے سے موجود ووٹرز جو خود کو تازہ ووٹرز کے طور پر غلط پیش کرتے ہیں، جرم ہے اور مقدمہ چلانے کے قابل ہے۔جواب میں، چیف جسٹس نے کہا تھا، ’’فکر نہ کریں۔ کسی کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: آئندہ جن پانچ ریاستوں میں انتخابات ہونےوالے ہیں، حتمی فہرست میں وہاں۲۹ء۲؍ کروڑ نام کٹے ہیں
ایک متنازع مشق
ذہن نشین رہے کہ مشق شروع ہونے کے بعد سے، خدشات ظاہر کیے گئے ہیں کہ نظرثانی حقیقی ووٹرز کو فہرستوں سے ختم کر سکتی ہے اور یہاں تک کہ انتخابی نتائج کو بھیمتاثر کرسکتی ہے۔تاہم مئی میں، سپریم کورٹ نے نظرثانی کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھا۔ لیکن اس نے کہا کہ مشق کا مطلب یہ نہیں ہے کہ الیکشن کمیشن یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ آیا وہ شخص ہندوستانی شہری ہے۔
اس کے باوجود، بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکمرانی والی ریاستوں نےایس آئی آر کا حوالہ دے کر ان لوگوں کو راشن کارڈ دینے سے انکار کیا ہے جنہیں فہرستوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ بعض صورتوں میں، پولیس نے ان کے پاسپورٹ کی تجدید کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔۲؍ اکتوبر سے، الیکشن کمیشن کے کام کاج اور ووٹر رول کی نظرثانی کے طریقے میں مبینہ بے ضابطگیوں کے بارے میں خدشات پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاج کیا گیا ۔اس کے علاوہ سنیچر کو، اپوزیشن انڈیا بلاک نے گیانیش کمار کا علامتی ’’عوامی مواخذہ‘‘ کیا۔