Inquilab Logo Happiest Places to Work

سید برکت علی شاہؒ درگاہ انہدام کیخلاف شکایت اور پٹیشن داخل کرنے کی تیاری

Updated: June 06, 2026, 3:44 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

وزیراعلیٰ، پولیس کمشنر اور دیگر اتھاریٹیز سے شکایت میں یہ اہم سوال بھی قائم کیا گیا کہ آرے کالونی میں مختلف مذاہب کی ۴۰؍ سےزائد عبادت گاہیں ہیں صرف درگاہ کوکیوں نشانہ بنایا گیا؟

The entrance to the Hazrat Pir Barkat Ali Shah Dargah was cordoned off after the arrival of Cricket Soumya before the demolition. Photo: INN
حضرت پیر برکت علی شاہ درگاہ کے داخلے کا حصہ انہدام سے قبل کرکٹ سومیا کی آمد کے بعد گھیر دیا گیا تھا۔ تصویر: آئی این این

آرے کالونی میں سید برکت علی شاہ پیر بابا کی تقریباً ۷۰؍سال قدیم درگاہ منہدم کرنے کے خلاف وزیراعلیٰ فرنویس، پولیس کمشنر، ڈی سی پی اور گوونڈی پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت کی گئی ہے۔ اس معاملے میں قانونی کارروائی ایڈوکیٹ کے توسط سے خواجہ غریب نواز کمیٹی کے ذریعے آگے بڑھائی جارہی ہے۔ واضح ہو کہ آرے کالونی یونٹ نمبر ۳۲؍ میں واقع سید برکت علی شاہ پیر بابا درگاہ کو آرے کالونی انتظامیہ کے ذریعے ۲؍ جون کو زبردست پولیس بندوبست میں توڑ دیا گیا تھا۔ درگاہ کواس طرح توڑاگیا کہ شیڈہی نہیں بلکہ قبر اورمتصل حصے کو بھی کھود دیا گیا تھا۔ اس تعلق سے آرے کالونی انتظامیہ کادعویٰ تھا کہ ۵؍ اگست ۲۰۲۵ء کو ٹرسٹیان کو نوٹس جاری کیا گیا تھا، ٹرسٹیان نے اس کاجواب دیا تھامگر آرے کالونی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ وہ جواب درگاہ کے اسٹرکچر کو قانونی ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں تھا، ۱۵؍ مئی کو پھر نوٹس جاری کرنے کا دعویٰ کیا جو ٹرسٹیان کو ملا ہی نہیں پھر ۲۲؍مئی کو ایک اور نوٹس جاری کیا گیا اوراسے فائنل نوٹس کہہ کر درگاہ توڑ دی گئی۔ اس کے بعد سے ٹرسٹیان آپس میں اور وکلاء کے ذریعے صلاح ومشورہ کررہےہیں کہ کس طرح قانونی معاملہ آگے بڑھایا جائے اورانصاف کے لئے آواز بلند کی جائے۔ 

یہ بھی پڑھئے: سخت شرائط لاکھوں کسانوں کی قرض معافی میں رکاوٹ

وکیل نے کیا کہا؟
اس تعلق سے قانونی صلاح ومشورہ اور تحریری شکایت نامہ تیار کرنے والے ایڈوکیٹ حسن الدین انصاری نے نمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ’’تحریری شکایت میں آرے ڈیری کے سی ای او، کریٹ سومیا اور پولیس کو فریق بنایا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ اہم سوال کیا گیا ہے کہ آرے علاقے میں الگ الگ مذاہب کی ۴۰؍ سے زائد عبادت گاہیں اور دھارمک استھل ہیں پھر محض قدیم درگاہ کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔ دوسرے یہ کہ کریٹ سومیا کی آخر قانونی حیثیت کیا ہے کہ وہ مسجد یا درگاہوں کے خلاف شرانگیزی کریں اور پولیس انتظامیہ فوراً حرکت میں آجائے۔ ان کے رول کی جانچ کی جائے اور ان کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی جائے۔ ‘‘
انہوں نےیہ بھی کہاکہ’’ آرے ڈیری کے سی ای او کو پورے معاملے کا اچھی طرح سے علم تھا کیونکہ ۲۰۰۷ء میں درگاہ ٹرسٹ کی جانب سے چھپرہ درست کرنے کی اجازت مانگی گئی تھی تاکہ بارش اور دوسرے موسم میں پریشانی نہ ہو۔ اس سےیہ بھی ثابت ہوتاہے کہ جان بوجھ کریہ کارروائی کی گئی اورایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنایا گیا اوراس طبقے کے آئینی حقوق کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ اس سے نقض ِ امن کےاندیشے سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا۔ ‘‘
ایڈوکیٹ حسن الدین انصاری کے مطابق ’’جمعرات ۴؍جون کی شب میں ٹرسٹیان اورمذکورہ کمیٹی کے اراکین ان کےدفتر آئے تھے، صلاح ومشورہ کے بعد یہ قدم بڑھایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دوتین دن میں اس تعلق سے ہائی کورٹ میں پٹیشن بھی داخل کی جائے گی۔ پٹیشن کے ذریعے درگاہ دوبارہ تعمیر کرنے اور ٹرسٹیان کو ذہنی طور پر ہراساں کئے جانے کے خلاف ہرجانے کا بھی مطالبہ کیا جائے گا۔ ا س میں آرے کے سی ای او اور کریٹ سومیا کو بھی فریق بنایا جائے گا۔ ‘‘ 
خواجہ غریب نواز کمیٹی (ممبئی )کے سیکریٹری محمدذاکرسے بات چیت کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ ’’ اس تعلق سے خاموش نہیں رہا جاسکتا کیونکہ اس طرح کی کارروائی اور مسلمانوں کوہراساں کئے جانے کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے۔ ‘‘ انہوں نے اس ضمن میں پونے میں بھی ایک درگاہ توڑے جانے اور اس کے خلاف مذکورہ کمیٹی کے ذریعے قانونی چارہ جوئی کی کوشش کا بھی حوالہ دیا اور یہ بھی کہاکہ ’’پوری قوت سے قانونی لڑائی لڑی جائے گی، یہ کارروائیاں کسی نہ کسی صورت ہمارے آئینی اورمذہبی حقوق پرراست حملہ ہیں۔ ‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK