ٹاٹا ٹرسٹ کےدونوں گروپس نے ملک کے ممتاز وکلاء کی خدمات حاصل کیں۔
EPAPER
Updated: September 22, 2026, 3:39 PM IST | Agency | Mumbai
ٹاٹا ٹرسٹ کےدونوں گروپس نے ملک کے ممتاز وکلاء کی خدمات حاصل کیں۔
ٹاٹا گروپ پر کنٹرول کی لڑائی میں شامل فریقوں نے ملک کی معروف قانونی فرموں اور وکلا کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔ دونوں جانب سے طویل اور نمایاں قانونی جنگ کی تیاری کے اشارے مل رہے ہیں۔
معاملے سے واقف افراد کے مطابق دونوں فریقوں کو ملک کی بڑی کمپنیوں کی نمائندگی کرنے والے وکلا کی خدمات حاصل ہیں۔ اس کے علاوہ حال ہی میں ملک کے چند سرکردہ قانونی ماہرین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ دونوں فریق اگرچہ طویل قانونی لڑائی سے گریز کرنا چاہیں گے لیکن جس طرح قانونی ماہرین کی ٹیمیں تیار کی جا رہی ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ممکنہ جنگ کے لیے تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یمن ایرانی سودے بازی کا پتہ نہیں: وزیر خارجہ
ٹاٹا سنز پر جاری تنازع گزشتہ ہفتے اس وقت شدت اختیار کر گیا، جب کمپنی کے ڈائریکٹرس نے چیئرمین این چندرشیکھرن کی مدتِ کار میں توسیع اور کمپنی کو ممکنہ طور پر اسٹاک مارکیٹ میں درج کرانے کی سمت آگے بڑھنے کے حق میں ووٹ دیا۔ اس طرح ٹاٹا ٹرسٹس کے چیئرمین نول ٹاٹا کی مخالفت کو مسترد کر دیا گیا جو چاہتے ہیں کہ ہولڈنگ کمپنی نجی حیثیت میں برقرار رہے۔
ٹاٹا سنز میں۶۶؍فیصد حصص رکھنے والے ٹاٹا ٹرسٹس نے چندرشیکھرن کی مدتِ کار میں توسیع کو ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیا ہے۔ اس صورت حال سے ایسا تصادم پیدا ہوگیا ہے جو بالآخر عدالتوں تک پہنچ سکتا ہے۔طویل قانونی جنگ کے باعث وسیع و عریض ٹاٹا گروپ میں اہم حکمت عملی سے متعلق فیصلوں کی رفتار متاثر ہوسکتی ہے، کیونکہ بڑے فیصلوں کیلئے ٹاٹا سنز اور ٹاٹا ٹرسٹس کے درمیان اتفاق رائے ضروری ہے۔ ٹاٹا گروپ ملک کے قدیم ترین کاروباری گروپوں میں شامل ہے اور اس کے زیر ملکیت جیگوار لینڈ رووَر، ایئر انڈیا، تاج ہوٹلز اور ٹیٹلی چائے جیسے معروف برانڈز ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کوچ: چمڑے کے بیگز کا امریکی برانڈ پوری دنیا میں پھیل چکا ہے
تنازع کیا ہے، یہاں سمجھیں:
ٹاٹا گروپ کی تمام کمپنیاں ٹاٹا سنس کے ماتحت ہیں۔ٹاٹا سنس میں ۶۶؍ فیصد شیئر ٹاٹا ٹرسٹس کا ہے۔
معاملہ چندرشیکھرن کی میعاد میں توسیع کا ہے جنہوں ۱۲؍ اگست۲۶ءکو ٹاٹا سنس کے چیئرمین کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
ٹاٹا سنس کے بورڈ نے استعفیٰ کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی مدتِ کار میں ۳۲ء تک توسیع کردی ہے۔
اس توسیع کو نوئل ٹاٹا کی تائید نہیں ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ ٹاٹا سنس کے ضوابط کے مطابق کسی بھی اہم فیصلے کو ٹاٹا ٹرسٹس کے نامزد اراکین کی اکثریتی حمایت ہونی چاہئے۔
نامزد ڈائریکٹرس دو ہیں، نوئل ٹاٹا اور وینو شری نواسن۔ چندر شیکھرن کی توسیع نوئل ٹاٹا نے مخالفت کی مگر سری نواسن نے حمایت کی
نوئل ٹاٹا کی دلیل ہے کہ ٹاٹا ٹرسٹ کے نامز اراکین کی اکثریت نے تائید نہیں کی اس لئے یہ فیصلہ غیر قانونی ہے۔