• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

روس میں انتخابات، حکمراں پارٹی یونائیٹڈ رَشیا کوواضح برتری

Updated: September 22, 2026, 4:32 PM IST | Agency | Moscow

روسی ایوان میں۴۵۰؍ سیٹوں کے انتخابات میں صدرولادیمیر پوتن کی پارٹی نے۳۵۵؍ سیٹوں پر جیت حاصل کرلی۔

Russian President Putin will remain in office. Photo: INN
روس کے صدر پوتن عہدہ پر برقرار رہیں گے۔ تصویر: آئی این این

روس کی حکمراں سیاسی جماعت یونائیٹڈ رشیا نے ملک میں دورانِ جنگ منعقدہ پہلے پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج میں واضح برتری حاصل کر لی ہے۔روس مرکزی انتخابی کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یونائیٹڈ رشیا کو وفاقی پارٹی فہرستوں کے ذریعے طے ہونے والی۲۲۵؍نشستوں کیلئے تقریباً۵۸؍ فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔پارٹی کو باقی ۲۲۵؍ واحد نشستوں والے انتخابی حلقوں میں بھی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہونے کا امکان ہے ۔ واضح رہےکہ روسی اسمبلی کے ایوان زیریں(ڈوما) میں۴۵۰؍ سیٹوں کے انتخابات میں صدر ولادیمیر پوتن کی پارٹی نے۳۵۵؍ سیٹوں پر جیت حاصل کی ہے۔ حکمراں پارٹی نے ۲۰۱۶ کے انتخابات میں۳۴۳؍ سیٹیںجیتنے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا۔ واضح رہےکہ پوتن کی پارٹی نے گزشتہ ۲۵؍ سال سے روسی سیاست پردبدبہ قائم رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: بچوں کے قتل پر اسرائیلی ماڈل کے بیان پر فرانسسکا البانیز کا ردعمل

۳؍ روز تک جاری رہنے والے اس انتخابی عمل میں ان چار علاقوں کےرائے دہندگان بھی شامل تھے جن کا ماسکو نے۲۰۲۲ء کے بعد یک طرفہ الحاق کرنے کا اعلان کیا تھا اور جو اب بھی روسی قبضے میں ہیں۔ ۲۰۱۴ء میں الحاق کئے گئے جزیرہ نما کریمیا کےرائے دہندگان بھی اس رائے دہی میں شامل تھے۔یورپی یونین نے ان اقدامات کی مذّمت کی اور انہیں "بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی" قرار دیا تھا۔بعض جماعتوں کو انتخابات سے باہر رکھا گیا ہے۔جنگ مخالف بعض حزبِ اختلاف سیاسی جماعتوں کو انتخابی عمل سے خارج رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ ایران کے خلاف مختلف متبادلات پرغور کر رہے ہیں، پزشکیان مذاکرات کے خواہاں

روس کی سپریم کورٹ نے ،کھلے عام جنگ کی مخالفت کرنے والی لبرل یابلُوکو پارٹی کو بذریعہ پارٹی فہرست، انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا ہے۔بعض جماعتوں نے غیر محفوظ پولنگ مراکز اور ووٹروں کی جانب سے کاغذی بیلٹ کے مطالبات مسترد کیے جانے اور انہیں الیکٹرانک ٹرمینل کے استعمال پر مجبور کئے جانے جیسی، انتخابی بے ضابطگیوں کی بھی اطلاع دی ہے۔واضح رہے کہ روس نے انتخابات کی نگرانی کیلئے یورپی سلامتی و تعاون تنظیم(او ایس سی ای)کے مبصرین کو مدعو کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ووٹنگ کا عمل ایسے ماحول میں اختتام پذیر ہوا جب وسیع  پیمانے پر فوجی سرگرمیاں جاری ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK