کمیٹی کی صدر نے کہا کہ بھرتی امتحانات کی ساکھ اور شفافیت بڑھانے کیلئے سفارشات پیش کی جائیں گی۔
EPAPER
Updated: September 22, 2026, 3:57 PM IST | ZA Khan | Nanded
کمیٹی کی صدر نے کہا کہ بھرتی امتحانات کی ساکھ اور شفافیت بڑھانے کیلئے سفارشات پیش کی جائیں گی۔
ریاست میں سرکاری بھرتی امتحانات کے عمل کو شفاف، معیاری، قابلِ اعتماد اور مقررہ وقت میں مکمل کرنے کیلئے حکومت کو سفارشات پیش کی جائیں گی۔ امتحانات کے نظام الاوقات، سوالیہ پرچوں کے معیار، امتحانی مراکز، نگران عملے کی تربیت، پرچوں کی جانچ، نارملائزیشن، نتائج، عدالتی معاملات اور تقرری کے عمل سمیت مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لے کر کمیٹی اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ یہ اطلاع بھرتی امتحانات کیلئے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس کی صدر اور محکمۂ عمومی انتظامیہ کی ایڈیشنل چیف سیکریٹری وی رادھا نے دی۔
بھرتی امتحانات کے نظام میں اصلاحات کے لیے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے اورنگ آبا ڈویژن کے طلبہ سے اسمارٹ سٹی دفتر میں ملاقات اور تبادلۂ خیال کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں یہ بات کہی۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ اور ممدانی کی اختلافات کے باوجود خوشگوار ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
اس موقع پر کمیٹی کے رکن اور ڈائریکٹر جنرل پولیس سدانند داتے، رکن سیکریٹری اور محکمۂ حیوانات و ڈیری ڈیولپمنٹ و ماہی گیری کے سیکریٹری ڈاکٹر این راماسوامی،رکن اور ناسک ڈویژن کے ڈویژنل کمشنر پروین گیدام موجود تھے۔ وی رادھا نے صحافیوں کو بتایا کہ کمیٹی اب تک پونے، ناگپور اور امراوتی میں طلبہ اور امیدواروں سے براہِ راست گفتگو کرچکی ہے۔ پونے میں تقریباً۶۰۰؍، ناگپور میں۳۵۰؍ اور امراوتی میں۸۰۰، یعنی مجموعی طور پر تقریباً۱۷۵۰؍ طلبہ سے بات چیت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کمیٹی کو۲۰؍ ہزار سے زائد ای میل موصول ہوئے ہیں، جبکہ کمیٹی کی جانب سے فراہم کردہ ای میل کے ذریعے۱۴۰۰؍ سے زائد افراد نے ذاتی طور پر حاضر ہوکر اپنے مطالبات اور تجاویز پیش کی ہیں۔طلبہ کی جانب سے اہم مطالبہ کیا گیا ہے کہ امتحانات، مین امتحان اور انٹرویو کے لیے پہلے سے واضح اور مقررہ نظام الاوقات جاری کیا جائے۔ طلبہ نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ امتحانی طریقۂ کار میں تسلسل برقرار رکھا جائے اور اگر کسی تبدیلی کی ضرورت ہو تو امیدواروں کو اس کی تیاری کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔ اس کے علاوہ ایک ہی مرتبہ رجسٹریشن اور فیس وصول کرنے، سوالیہ پرچوں کے معیار کو بہتر بنانے، جوابی کلید اور پرچوں کی جانچ کے عمل کو زیادہ شفاف بنانے کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔