Updated: August 16, 2026, 10:07 PM IST
| New Delhi
ہندوستانی حکومت نے ملک میں ممکنہ ایل پی جی بحران سے نمٹنے اور کھانا پکانے والی گیس کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے ایک نیا منصوبہ تیار کیا ہے۔ حکومت نے پہلی مرتبہ ملک کی ہر ریفائنری اور متعلقہ کمپنی کے لیے ایل پی جی کی زیادہ سے زیادہ یومیہ پیداوار کی حد مقرر کردی ہے۔
ایل پی جی سلنڈر۔ تصویر:آئی این این
ہندوستانی حکومت نے ملک میں ممکنہ ایل پی جی بحران سے نمٹنے اور کھانا پکانے والی گیس کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے ایک نیا منصوبہ تیار کیا ہے۔ حکومت نے پہلی مرتبہ ملک کی ہر ریفائنری اور متعلقہ کمپنی کے لیے ایل پی جی کی زیادہ سے زیادہ یومیہ پیداوار کی حد مقرر کردی ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ اگر مستقبل میں بیرونِ ملک سے ایل پی جی کی درآمد متاثر ہوتی ہے تو ملکی ریفائنریوں سے پیداوار بڑھا کر گھریلو ضرورت پوری کی جاسکے۔
یہ بھی پڑھئے:’’اسپائیڈر مین : بیونڈ دی اسپائیڈر ورز‘‘ کا ٹریلر آن لائن لیک، مداحوں میں زبردست جوش
یہ فیصلہ مغربی ایشیا میں حالیہ تنازع کے بعد کیا گیا ہے، جس کے دوران ایل پی جی کی درآمد اور سپلائی پر دباؤ بڑھ گیا تھا اور حکومت کو ہنگامی اقدامات کرنا پڑے تھے۔ ۱۳؍ اگست کو وزارتِ پیٹرولیم نے ملک کی ۲۱؍ ریفائنریز اور اپ اسٹریم کمپنیوں کے لیے مجموعی طور پر ۶۳۸۱۰؍ٹن یومیہ ایل پی جی پیداوار کی صلاحیت مقرر کی۔یہ مقدارہندوستان کی موجودہ روزانہ ایل پی جی کھپت کا تقریباً ۷۰؍ فیصد ہے۔
حکومت کی جانب سے مقرر کردہ فہرست میں ریلائنس انڈسٹریز کو سب سے زیادہ صلاحیت دی گئی ہے۔ گجرات کے جام نگر میں واقع ریلائنس کی گھریلو مارکیٹ کو سپلائی کرنے والی ریفائنری کے لیے ۱۸؍ہزار ٹن یومیہ ایل پی جی پیداوار کی صلاحیت مقرر کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری تیل کمپنیوں کی۱۸؍ ریفائنریز کے لیے مجموعی طور پر۳۱۴۷۰؍ ٹن یومیہ صلاحیت مقرر کی گئی ہے۔ ہندوستان میں ایل پی جی کی کھپت بہت زیادہ ہے۔ مالی سال ۲۶ء کے دوران ملک میں تقریباً ۳۲ء۳؍ کروڑ ٹن ایل پی جی استعمال ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے:فاطمہ ثنا خواتین ایشیا کپ اور ایشیائی کھیلوں میں پاکستان ٹیم کی قیادت کریں گی
مغربی ایشیا کے تنازع کے دوران آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے گزرنے والی سپلائی متاثر ہوئی تھی۔ اس صورتحال میں ہندوستان میں ایل پی جی کی دستیابی پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔اس وقت حکومت نے ریفائنریوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ پیٹروکیمیکل مصنوعات کے مقابلے میں زیادہ ایل پی جی پیدا کریں ۔ ان ہدایات کے بعد ملک میں ایل پی جی کی پیداوار بڑھ کر تقریباً ۵۵؍ہزار ٹن یومیہ تک پہنچ گئی تھی۔ نئے نظام کا مقصد صرف موجودہ پیداوار طے کرنا نہیں بلکہ ہنگامی حالات کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کرنا ہے۔ ضرورت پڑنے پر حکومت ریفائنریوں اور تیل کمپنیوں کو ایک مقررہ مدت کے لیے ایل پی جی کی پیداوار بڑھانے کی ہدایت دے سکے گی۔حکومت ریفائنریز کو نئی ٹیکنالوجی استعمال کرکے ایل پی جی کی پیداوار بڑھانے کے امکانات تلاش کرنے کے لیے بھی کہہ رہی ہے۔ اس سلسلے میں نیفتھا کو ایل پی جی میں تبدیل کرنے اور ریفائنری یونٹس کو اپ گریڈ کرنے جیسے طریقوں پر غور کیا جارہا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں اگر درآمدات اچانک رک جائیں یا عالمی سپلائی میں بڑی رکاوٹ پیدا ہوجائے تو ہندوستان اپنی ملکی ریفائنریوں سے زیادہ سے زیادہ ایل پی جی حاصل کرسکے۔