• Fri, 11 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایس آئی آر میں مزید ناموں کو حذف ہونے سے بچانا بڑا چیلنج

Updated: September 11, 2026, 10:30 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

اے پی سی آر نے رہنمائی کیلئے کرلا اور اندھیری میں بھی ہیلپ ڈیسک قائم کئے۔ ۸۰۰؍سے زائد رائے دہندگان نے استفادہ کیا اور ۱۵۰؍ ووٹروں نے فون پراپنے مسائل کا حل معلوم کیا۔

Courtesy of APCR. Photo: Inquilab.
اے پی سی آر کی جانب سے کرلاکی ہے۔ تصویر: انقلاب

اسپیشل انٹینسیو رویژن (ایس آئی آر )میں مزید ناموں کو حذف ہونے سے بچانا اور کٹے ہوئے ناموں کو شامل کروانا بڑا چیلنج ہے۔حالات یہ ہیں کہ ممبئی میں ۲۰؍ لاکھ ۹۰؍ ہزارانوملی اور بغیر میپ والے ووٹرس ہیں۔ ان کو اپنے دستاویزات دکھانا ہوگا ورنہ ان کا نام حذف کئے جانے کا   اندیشہ ہے۔ اس سے قبل ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری کئے جانے میں ۲؍کروڑسے زائد رائے دہندگان کے نا م پہلے ہی حذف کئے جاچکے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ اگر بالفرض  ایک کروڑ ۲۰؍ لاکھ رائے دہندگان کے نا م مزید کاٹے جاتے ہیں تویہ مجموعی تعداد ۳؍کروڑ ۲۶؍ لاکھ ہوجائے گی۔ 

رائے دہندگان کے اس آئینی اور جمہوری حق کے تحفظ کے پیش نظر اے پی سی آر نے اندھیری نور مسجد (ڈونگر )کے دفتر میں اورکرلا میں مرکز ویلفیئر ٹرسٹ کے اشتراک سے صحت ہیلپ کیئر کے اوپر کرلا نرسنگ ہوم کے ذمہ دار امتیاز انصاری کی سرپرستی میںشروع کیا ہے۔یہاں ووٹر استفادہ کررہے ہیں۔

۸۰۰؍شہریوں نے اب تک استفادہ کیا 

اس سے قبل مدنپورہ ، میرا روڈ اور گوونڈی میں  پہلے ہی ہیلپ ڈیسک شروع کیا جاچکا ہے۔ اب تک ۸۰۰؍ سے زائد ووٹروںنے ہیلپ ڈیسک پہنچ کر اپنے مسائل بتاکر وکلاء سے رہنمائی حاصل کی جبکہ۱۵۰؍ ووٹرس نے ایس آئی آر میں پیش آنے والی دشواریوں کے تعلق سے فون پر اپنی دقت بتائی اور اس کا حل معلوم کیا۔ 

’’یہ ہر ایک شہری کے لئے لمحہ ٔ فکریہ ہے ‘‘

اسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) مہاراشٹر کےجنرل سیکریٹری شاکرشیخ نے نمائندۂ انقلاب کو  بتایاکہ ’’ ایس آئی آر کا اصل مقصد تو بالغ ووٹرس کو جمہوری نظام کا حصہ بنانا تھا مگر صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہاتھی کے دانت دکھانے کے کچھ اور کھانے کے کچھ اور کے مصداق ووٹروں کے نام شامل کرنے کے بجائے دھڑلے سے کاٹے جارہے ہیں ۔‘‘ ان کایہ بھی کہنا ہے کہ ’’ اندازہ کیجئے کہ اگر مہاراشٹر میں۳؍ کروڑ ۲۶؍ لاکھ ووٹرس کے نام حذف کردیئے جاتے ہیں تو کتنی بڑی آبادی اپنے بنیادی آئینی اور جمہوری حق سے محروم کردی جائےگی۔ اسی لئے ہر ایک شہری کو اس کی اہمیت سمجھنا ہے اور اس خطرے کو محسوس کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہے تاکہ ایک بھی شہری کا نام کٹنے نہ پائے اوراگر کچھ طاقتیں اس کی آڑ میں کچھ اورکھیل کرنا چاہتی ہیں تو وہ ناکام رہیں۔یہی وجہ ہے کہ اے پی سی آر کی جانب مسلسل ہیلپ ڈیسک قائم کئے جارہے ہیں تاکہ ہر علاقے میں شہری بلاتفریق مذہب اپنا جمہوری حق محفوظ کرنے کے لئے اے پی سی آر کی خدمات سے مستفید ہوں۔‘‘

انوملی اورتکنیکی بے ضابطگی سے کیا مرادہے؟ 

انوملی سے مراد ایسے ووٹر کے کوائف اورسابقہ انتخابی ریکارڈ جیسے ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ کے درمیان پایا جانے والا تضاد یا تکنیکی بے ضابطگی ہے ۔ ایسے ووٹرس کونوٹس  دیا جائے گا اور اسے  الیکشن آفس یا جہاں طلب کیا جائے گا، وہاں اپنی صحیح دستاویزی تفصیل فراہم کرانی ہوگی ۔ ممبئی میںایسے ووٹر ۲۰؍ لاکھ ۹۰؍ہزار ہیں، اس میں ۷؍ لاکھ بے ضابطگی والے ووٹر ہیں۔ ریاست بھر میں مجموعی طور پرایک کروڑ ۲۰؍لاکھ ایسے ووٹر ہیں  جنہیں نوٹس جاری کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK