اسکولوں کے ۵۰؍میٹر کے دائرے میں جنک فوڈ پر پابندی کے بعد فوڈاینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن ( ایف ڈی اے ) نے اب اپنی توجہ اسکولوں میں دیئے جانے والے مڈڈے میل پر مرکوز کی ہے جس کے تحت خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کی نگرانی کی جائے گی جو اسکولوں اور آنگن واڑیوں میں طلبہ کو کھانا فراہم کرتے ہیں۔
اسکولوں کے ۵۰؍میٹر کے دائرے میں جنک فوڈ پر پابندی کے بعد فوڈاینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن ( ایف ڈی اے ) نے اب اپنی توجہ اسکولوں میں دیئے جانے والے مڈڈے میل پر مرکوز کی ہے جس کے تحت خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کی نگرانی کی جائے گی جو اسکولوں اور آنگن واڑیوں میں طلبہ کو کھانا فراہم کرتے ہیں۔ ایف ڈی اے اب اس بات کو یقینی بنانے کیلئے مزید سخت معائنہ کرے گا کہ اسکولوں اور آنگن واڑیوں میں پیش کیا جانے والا کھانا محفوظ اور اچھے معیار کا ہے۔
ایف ڈی اے نے کھانا فراہم کرنے والے سیلف ہیلپ گروپس کے سینٹرل کچن کا معائنہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایف ڈی اے کے کمشنر تکارام منڈے کےمطابق ممبئی میں تقریباً ۸؍ سے۱۰؍ سینٹرل کچن کا اب تک معائنہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ممبئی: ایف ڈی اےکمشنر منڈے نے کھانےکی اشیاء میں ملاوٹ کےخلاف کریک ڈاؤن کیلئے فیسٹیول کیلنڈر تیار کیا
مہاراشٹر میں ہر اسکول کے طالب علم کیلئے فوڈ سیفٹی مہم کے تحت ایف ڈی اے نے ریاست میں اسکولوں کے ۵۰؍میٹر کے اندر جنک فوڈ کی فروخت پر پابندی لگا دی ہے۔ اس کے بعد اب اسکولوں اور آنگن واڑیوں میں مڈ ڈے میل فراہم کرنے والے سیلف ہیلپ گروپس کے کچن کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔ اس دوران کچن کی صفائی، کھانے کی تیاری کے طریقے، خام مال کی کوالیٹی، ذخیرہ اندوزی اور فوڈ سیفٹی قوانین کی تعمیل کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔ اسکولوں اور آنگن واڑیوں میں تقسیم کئے جانے والے کھانوں کے نمونوں کا بھی معائنہ کیا جا رہا ہے۔ ایف ڈی اے نے طلبہ کی صحت سے متعلق واضح موقف اختیار کیا ہے۔ طلبہ کی صحت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ایف ڈی اے کمشنر تکارام منڈے نے خبردار کیا ہےکہ اگر قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی یا کھانے کا معیار خراب پایا گیا تو متعلقہ فوڈ بزنس آپریٹرز کے خلاف کارروائی کی جائے گی جس میں ان کے لائسنس کی معطلی بھی شامل ہے۔ لہٰذا اسکول مڈ ڈے میل فراہم کرنے والے اور سینٹرل کچن کے آپریٹرز بھی اب اس کی زد میں ہوں گے۔ ایف ڈی اے کے اس نئے اقدام سے اب زیادہ ذمہ داری اسکول کے مڈ ڈے میل فراہم کرنے والوں اور سینٹرل کچن چلانے والوں پر آ گئی ہے۔ اسکول مڈ ڈے میل کا معائنہ صرف شکایت موصول ہونے کے بعد نہیں کیا جائے گابلکہ فوڈ سیٹفی کے حوالے سے باقاعدہ معائنہ اور نمونے لینے کا عمل جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’عید میلادالنبی ؐکے بینرس نکالنے کا اہتمام کیجئے تاکہ بے حرمتی نہ ہو‘‘
ایف ڈی اے نے اسکولوں میں طلبہ کو دیئے جانے والے کھانے میں توازن برقرار رکھنے پر بھی زور دیا ہے۔ چکنائی، چینی اور نمک کی زیادہ مقدار والے کھانوں سے پرہیز کرتے ہوئے غذائیت سے بھر پور کھانا فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ تکارام منڈے کا کہناہے کہ’’ اگر بچے ابتدائی عمر میں ہی صحت مند کھائیں گے تو اس سے ان کی جسمانی اورذہنی نشوونما کو فائدہ پہنچے گا۔ یہ عمل صرف اس وقت ختم نہیں ہوتا جب اسکولوں میں دوپہر کا کھانا طلبہ تک پہنچ جاتا ہے۔ کھانا کہاں تیار کیا جاتا ہے، کون سا خام مال استعمال ہوتا ہے، اس کا ذخیرہ کیسے کیا جاتا ہے اور اسے اسکول تک کیسے پہنچایا جاتا ہے، ان تمام عوامل کا بھی معائنہ کیا جا رہا ہے۔ اس لئے مرکزی باورچی خانے سے لے کر طلبہ کی پلیٹوں تک کا پورا فوڈ چین ایف ڈی اے کے دائرہ کار میں ہوگا۔ ‘‘