پرائیویٹ اسکول اب بھی کورونا کے اثرات سے جوجھ رہے ہیں

Updated: May 14, 2022, 10:38 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

بے روزگاری اور غربت سے پریشان افراد بڑی تعداد میں بیرون ممبئی منتقل ہورہے ہیںاس لئے اپنےبچوں کا نام اسکولوں سے نکال رہے ہیں،اسکولوں کو نئے داخلے بھی نہیں مل رہے

 The school administration is concerned about the declining number of students.Picture:INN
طلبہ کی کم ہوتی تعداد سے اسکول انتظامیہ فکرمند۔ تصویر: آئی این این

گرمی کی تعطیلات کے باوجود نئے طلبہ کے داخلے کیلئے متعدد نجی اسکولوںکےہیڈماسٹر اوراساتذہ کواسکول آنا پڑرہا ہے اس کے باوجود نئے طلبہ داخلہ کیلئے نہیں آرہے ہیں۔ایک طرف طلبہ کی تعدادبڑھانے کی کوشش کی جارہی ہےدوسری جانب طلبہ کی تعداد مسلسل کم ہورہی ہے کیوں کہ مہنگائی، بے روزگاری اور مکانوں کے بڑھتےکرایہ سےپریشان ہوکر متعدد والدین بیرونِ ممبئی منتقل ہورہےہیںجس سے اسکولوںمیں طلبہ کی موجودہ تعداد بھی کم ہورہی ہے۔ نجی اسکولوں کیلئے ایک نیامسئلہ پیدا ہو رہا ہے ۔ ایک تو نئے طلبہ نہیں مل رہے ہیں دوسرے موجودہ طلبہ کے منتقل ہونے سے اسکول انتظامیہ پریشان ہے۔انجمن اسلام احمد سیلر اُردو ہائی اسکول ناگپاڑہ کے ہیڈماسٹرعارف خان نے بتایاکہ ’’گرمی کی چھٹی کے باوجودکچھ اساتذہ روزانہ اسکول آرہےہیں تاکہ نئے طلبہ کوداخلہ حاصل کرنے میں آسانی ہواور اسکول میں طلبہ کی تعدادکم نہ ہو۔نئے طلبہ کے داخلے کیلئے والدین اور سرپرستوں سےملاقات کی جارہی ہے۔ بالخصوص سیوڑی، وڈالا اور انٹاپ ہل کےجھوپڑپٹی علاقوں کے بچوںکے داخلےکیلئےبھاگ دوڑ کی جار ہی ہے۔کووڈ سےسیکڑوں طلبہ ادھر اُدھر ہوگئےہیں۔ ان میں سے کئی طلبہ کے سرپرستوںنےمختلف وجوہات کی بنا پر شہر ہی چھوڑ دیاہے۔ان کے موبائل نمبر بھی بندہیں۔جس کی وجہ سے ان سے رابطہ نہیں ہوپارہاہے۔کچھ بچوںکے والدین اسکول اور رہائشی علاقے کے درمیان کی دوری کےسبب بھی داخلہ نہیں لے رہےہیں۔غرضیکہ نئے داخلے کیلئے بڑی جدوجہد کرنی پڑرہی ہے۔‘‘ انہوںنے یہ بھی کہاکہ ’’نئے داخلے کا مسئلہ حل نہیںہواہے۔ اس کے ساتھ ایک نئی مشکل سامنے آرہی ہے ۔ کووڈ اورلاک ڈائون سے پیداہونےوالی بےروزگاری اورمہنگائی سے پسماندہ طبقے کے لوگ کافی پریشان ہیں۔انہیں بنیادی ضروریات پوری کرنے میں دقت ہورہی ہے۔ شہر واطراف میں مکان کا کرایہ بڑھنےسے متعدد والدین اپنےبچوںکے ساتھ بیرونِ ممبئی منتقل ہورہےہیں۔جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کانام اسکول سے نکال رہے ہیں۔ بدھ کو ایک سرپرست نےآکر کہاکہ سر ہم لوگ یہاں سے پال گھر کی طرف منتقل ہورہےہیں ۔ اس لئے میرے دونوں بچوںکا خارجہ سرٹیفکیٹ دے دیں۔ اس بارےمیں استفسار کرنےپر سرپرست نےبتایاکہ دراصل ہم جس مکان میں رہتے ہیں،مکان مالک اس کا کرایہ بڑھانےکیلئےکہہ رہاہے۔ساتھ ہی مہنگائی اور بے روزگاری نے کمر توڑ رکھی ہے۔ ایسےمیں ممبئی میں رہنا اب ہمارے لئےممکن نہیں ہے۔ اس لئے ہم لوگ یہاں سےمنتقل ہورہےہیں۔ایسی صورت میں اس سرپرست کو سمجھانےکی کوئی گنجائش نہیں تھی۔مجبوراً ہم نےدونوں بچوںکا خارجہ سرٹیفکیٹ دینےکی حامی بھری ہے۔‘‘  ہاشمیہ اُردوہائی اسکول محمد علی روڈ کے ہیڈماسٹر محمد رضو ان خان نے بتایاکہ ’’ یوں بھی ہماری قوم کے بچوں میں پڑھائی کا رجحان کم ہے۔ ایسے میں کووڈ نے رہی سہی کسرپوری کردی ہے۔کووڈاور لاک ڈائون سے پیدا ہونےوالی بےروزگاری اورمہنگائی نے غریب اور متوسط طبقےکے لوگوں کو پریشان کردیاہے۔مالی دشواری سےپریشان ہوکر والدین اپنے بچوںکو معمولی ملازمت پر لگا رہے ہیں ۔ جہاں سے ان کے بچے کو یومیہ۱۰۰؍ڈیڑھ سو روپے مل رہاہے۔ جس سے ان کی عارضی ضروریات پوری ہورہی ہیں۔اس لئے سرپرست اور والدین خودبھی بچوںکو نہیں پڑھاناچا ہتے ہیں۔مثلاً ہمارے اسکول میں نویں جماعت میں ۷۳؍طالب علم ہیں۔ جن میں سے ۴۵؍ طالب علم تو پڑھ رہے ہیں مگر بقیہ ۲۸؍ طالب علموںکانام اسکول میں درج ہونےکے باوجود وہ اسکول نہیں آرہےہیں۔ ان کےبارےمیں معلومات حاصل کی گئی تو معلوم ہواکہ ان میں سےبیشتر طلباء ملازمت کررہےہیں اور اب وہ پڑھائی نہیں کرناچاہتےہیں۔ ان کے والدین بھی پڑھائی کے حق میں نہیں ہیں۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔‘‘ انہوںنے یہ بھی کہاکہ ’’ گرمی کی چھٹیوںکے باوجودہم نئے طلبہ کواسکول سے جوڑنے کی کوشش کر رہےہیں۔بڑی مشکل سے کچھ طلباء ملے ہیں ۔متعدد طلباء اور ان کے والدین کا کہناہےکہ بی ایم سی اسکولوں میںبی ایم سی کی طرف سے تعلیمی اشیاء مثلاً کاپی، کتاب، یونیفارم ،اسکول بیگ اور جوتے وغیرہ ملتے ہیں۔جبکہ نجی اسکول میں ایسی سہولت نہیں ہوتی ہے۔ ایسےطلباءکو ہم نے مذکورہ تعلیمی اشیاء فراہم کرنےکا فیصلہ کیاہےجس کی تیاری جاری ہے۔ ہم ہر طرح سے طلبہ کی تعدادبڑھانےکی کوشش کررہےہیں۔مگر معاشی دشواری سےجو والدین ممبئی سےبیرونِ ممبئی منتقل ہو رہےہیں، انہیں نہیں روک پارہےہیں۔یہ ایک نیا مسئلہ ہے جس سے اسکول انتظامیہ دوچار ہے۔ ‘‘  کمو جعفر سلیمان گرلز ہائی اسکول اینڈجونیئر کالج کی معلمہ صائقہ انصاری کےمطابق ’’اس میں کوئی دورائےنہیں ہےکہ کووڈ اورلاک ڈائون سے گزشتہ ۲؍ سال میںجس طرح کےپریشان کن حالات پیدا ہوئےہیں،اس سے غریب اورمتوسط طبقے کے لوگ مالی اعتبار سے کافی پریشان ہیں۔ روزگار نہ ہونے سے پریشان ہو کر متعدد والدین اور سرپرست اپنے بچوں کےساتھ یہاں سے منتقل ہورہےہیں۔ ہم نے اپنے اسکول کی ایک ایک طالبات کے گھر جاکر معلومات حاصل کی ہے۔ہمارے اسکول کی سیکڑوں طالبات رے روڈ ، سیوڑی، وڈالااور انٹاپ ہل سے منتقل ہوکر مکندنگر (چمبور)، واشی، ماہول اور دیگر دور دراز علاقوں میں منتقل ہوچکی ہیں ۔اتنی دور سے وہ اسکول نہیں آسکتی ہیں۔اس لئے ان کےوالدین اپنی بچیوں کا خارجہ سرٹیفکیٹ مانگ رہےہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK