Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلسطین حامی کارکنان کی لنکڈ اِن سے اپیل: متنازع جی ایچ ایف کی ملازمت کے اشتہارات پر پابندی عائد کرے

Updated: August 29, 2025, 10:09 PM IST | Washington/Gaza

مئی سے اب تک جی ایچ ایف کے امدادی مقامات پر ۷۰۰ سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور تقریباً ۵ ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

فلسطین حامی کارکنان، مشہور پلیٹ فارم لنکڈ ان پر زور دے رہے ہیں کہ وہ، سیف ریچ سولیوشنز (ایس آر ایس) کی جانب سے پوسٹ کئے گئے مختلف ملازمتوں کے اشتہارات کو ہٹائے۔ واضح رہے کہ ایس آر ایس، اسرائیل کے حمایت یافتہ متنازع ادارے غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف)، جسے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فلسطینیوں کو امداد پہنچانے کی اجازت دی ہے، کے تحت سیکوریٹی کنٹریکٹر کے طور پر کام کرتی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور عینی شاہدین کا الزام ہے کہ جی ایچ ایف کے امدادی مراکز، بھوکے فلسطینیوں کیلئے مہلک ”موت کے جال“ میں تبدیل ہو چکے ہیں، جہاں اسرائیلی فوجی اور ان کے امریکی ٹھیکیدار خوراک لینے کے خواہشمند فلسطینیوں پر فائرنگ کرکے انہیں قتل کررہے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے امدادی تقسیم کے نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ جی ایچ ایف کے مراکز پر موجود اسرائیلی اہلکاروں کی جانب سے مبینہ طور پر شہریوں پر فائرنگ، بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی کے دائرے میں آتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ : سرنگ اڑانے کے نام پر اسرائیلی فوج نے زيتون محلہ کو زمین دوز کردیا

لنکڈ ان پر فی الحال ایس آر ایس کی جانب سے غزہ کیلئے ۵ ملازمتوں کے اشتہارات لنکڈ ان پر پوسٹ کئے گئے ہیں جن میں ہیومینیٹیرین آپریشنز سینٹر سپورٹ اسپیشلسٹ، ہیومینیٹیرین لائزن آفیسر، امیجری سسٹمز ٹیکنیشین، لاجسٹکس پرسونل اور ایکسپیڈیشنری نیٹ ورک انجینئر اور آپریشنز سینٹر اسپیشلسٹ شامل ہیں۔ کچھ کرداروں میں مشرق وسطیٰ کو ملازمت کے مقام کے طور پر درج کیا گیا ہے اور عربی زبان کی مہارت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ اشتہارات، فیلڈ پر مبنی سیکیوریٹی اور آپریشنل ذمہ داریوں کو اجاگر کرتے ہیں جس سے تنازعات سے گھرے علاقوں میں ایس آر ایس کے کام کی اخلاقیات پر تشویش پیدا ہوتی ہے۔

جنگ مخالف امریکی تنظیم کوڈ پنک نے ایک آنلائن پٹیشن، جس پر اب تک ہزاروں افراد دستخط کر چکے ہیں، کے ذریعے لنکڈ ان سے ایس آر ایس کے ملازمتوں کے اشتہارات کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے الزام لگایا کہ ایس آر ایس کے آپریشنز نے بھوکے شہریوں کو براہ راست خطرے میں ڈالا ہے۔ فلسطین حامی کارکنان کا کہنا ہے کہ نوکریوں کے اشتہارات کی میزبانی جاری رکھنا ان آپریشنز کو مؤثر طریقے سے ”بڑھانے کے مترادف“ ہے جنہیں وہ غیر انسانی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے پلیٹ فارم پر زور دیا کہ وہ انسانی ہمدردی کے کام میں اخلاقی معیار کو برقرار رکھنے کیلئے تیزی سے کارروائی کرے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ: ۲۳۳؍ اسلامی اسکالرز جاں بحق، ۸۰۰؍ سے زائد مساجد تباہ، ۳؍ چرچ بھی نشانہ بنے، ۲۰؍ عیسائی فوت

اسی سے قبل، جولائی کے آخر میں، سینیٹر ٹامی بالڈون کی قیادت میں امریکی قانون سازوں کے دو جماعتی گروپ نے ٹرمپ انتظامیہ کو خبردار کیا تھا کہ “غزہ میں خوراک مانگنے والے بھوکے لوگوں کے خلاف مہلک تشدد میں جی ایچ ایف کا بھی ہاتھ رہا ہے۔“

ایس ار ایس کا دعویٰ

امریکہ ادارے سی آئی اے کے سابق نیم فوجی افسر فلپ ریلی کے ذریعے قائم کی گئی کمپنی، ایس آر ایس کا اصرار ہے کہ وہ صرف لاجسٹکس سے جڑے کام سنبھالتی ہے اور اس نے غزہ کے باشندوں میں دس کروڑ کھانے تقسیم کئے ہیں۔ کمپنی کے ایک ترجمان نے سی این این کو بتایا کہ انہیں امدادی تقسیم کیلئے ضروری ”لاجسٹکس اور آپریشنل مہارت فراہم کرنے پر فخر ہے۔“

لنکڈ ان نے اس مہم کے ضمن میں عوامی طور پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فریڈم فلوٹیلا کا گلوبل صمود ۵۰؍ سے زائد امدادی کشتیوں کے ساتھ غزہ روانہ ہوگا

امدادی مقامات پر ہلاکتوں کی ہولناک تعداد

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ مئی کے آخر سے غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) نے غزہ میں امداد کی تقسیم کی شروعات کی اور اب تک خوراک حاصل کرنے کی کوشش میں تقریباً ۱۴۰۰ افراد ہلاک اور ۵ ہزار سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ ان میں سے ۸۵۹ سے زائد اموات جی ایچ ایف کے امدادی مراکز کے پاس ہوئیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ جنگی کارروائیوں کے نتیجے میں محصور علاقے میں ۶۳ ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں اور ۹۰ فیصد سے زائد آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ امدادی نظام نہ صرف بنیادی انسانی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام ہے بلکہ ان لوگوں کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے جن کی مدد کرنا اس کا مقصد ہے۔ اس دوران، جی ایچ ایف کو ختم کرنے، غزہ کی ناکہ بندی ہٹانے اور محفوظ اور بڑے پیمانے پر خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے اقوام متحدہ کی قیادت میں ایک امدادی کوآرڈینیشن نظام بحال کرنے کے مطالبات میں عالمی سطح پر اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسرائیلی پابندیاں فاقہ کشی اور بیماریوں میں اضافہ کا سبب: ڈبلیو ایچ او

محاصرے نے غزہ میں انسانی تباہی کے حالات کو بدتر بنا دیا ہے۔ غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے مطابق، ۱۲ لاکھ بچے ”خوراک کی شدید قلت“ کا سامنا کر رہے ہیں اور اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک زائد از ۲۳۹ فلسطینی، جن میں ۱۰۶ بچے شامل ہیں، بھوک سے دم توڑ چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے غزہ کے حالات کو ”بھکمری“ قرار دیا ہے اور اس کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا کہ غزہ میں ایک لاکھ بچے اور خواتین شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ غزہ کی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ ”قحط“ کے حالات کے دہانے پر کھڑا ہے۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ بچے ”بے مثال شرح“ سے بھوک سے مر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK