غزہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے مذہبی لیڈران، اپنی برادری کے ”بنیادی ستون“ تھے اور ان کی موت نے غزہ میں ایک روحانی خلاء پیدا کردیا ہے۔
EPAPER
Updated: August 29, 2025, 1:54 PM IST | Gaza
غزہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے مذہبی لیڈران، اپنی برادری کے ”بنیادی ستون“ تھے اور ان کی موت نے غزہ میں ایک روحانی خلاء پیدا کردیا ہے۔
گزشتہ ۲۲ ماہ سے زائد عرصے سے غزہ میں جاری اسرائیل کی وحشیانہ جنگی کارروائیوں کے نتیجے میں محصور علاقے کی آبادی کو زبردست جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑرہا ہے جس میں مذہبی لیڈران کی اموات بھی شامل ہے۔ غزہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ۷؍ اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں ۲۳۳ اسلامی اسکالرز، ائمہ اور مذہبی لیڈران اور زائد از ۲۰ فلسطینی عیسائی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ پورے علاقے میں ۸۰۰ سے زائد مساجد اور تین گرجا گھر تباہ ہوئے ہیں۔ اسرائیل نے جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنانے سے انکار کیا ہے لیکن اعدادوشمار اس کے دعوے کی نفی کرتے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت اور میڈیا آفس کے مطابق، اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں میں اب تک تقریباً ۶۳ ہزار فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ فلسطین کی سرکاری نیوز ایجنسی ’وفا‘ کے مطابق، تقریباً ۱۱ ہزار فلسطینی تباہ شدہ گھروں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اموات کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے اور ممکنہ طور پر ۲ لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فریڈم فلوٹیلا کا گلوبل صمود ۵۰؍ سے زائد امدادی کشتیوں کے ساتھ غزہ روانہ ہوگا
اسرائیلی فوج کی مسلسل اور بے لگام بمباری کی مہم نے غزہ پٹی کے آباد محلوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے اور اس تباہی سے مذہبی مقامات بھی محفوظ نہیں ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق، اسرائیل نے غزہ کے واحد کیتھولک چرچ کو بھی نشانہ بنایا ہے جبکہ فضائی حملوں میں ”سینکڑوں مساجد کو بھی نقصان پہنچا یا وہ مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔“ غزہ کے سرکاری میڈیا کے مطابق، ۸۲۸ مساجد مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں اور ۱۶۷ مساجد کو اسرائیلی حملوں سے شدید نقصان پہنچا ہے۔ جنگ کے دوران تین بڑے گرجا گھروں پر حملہ کیا گیا، جس میں سینٹ پورفائریئس اور ہولی فیملی چرچ جیسی تاریخی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔ غزہ کے میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ مساجد اور گرجا گھروں پر حملے ایک “منظم پالیسی” کا حصہ ہیں جس کا مقصد ”فلسطینی معاشرے کے روحانی اور اخلاقی ڈھانچے کو ختم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسرائیلی پابندیاں فاقہ کشی اور بیماریوں میں اضافہ کا سبب: ڈبلیو ایچ او
کئی ممتاز علماء کرام بھی مہلوکین میں شامل
مذہبی مقامات پر حملوں میں محصور علاقے کے کئی ممتاز علماء اکرام بھی شہید ہوئے ہیں۔ غزہ کی عظیم عمری مسجد اور المحتہ مسجد کے امام شیخ وائل الزرد، جو القدس اوپن یونیورسٹی اور غزہ اسلامک یونیورسٹی میں پروفیسر کی خدمات بھی انجام دیتے تھے، اکتوبر ۲۰۲۳ء کے وسط میں اپنے گھر پر ہوئے ایک حملے میں شدید زخمی ہوئے اور دو دن بعد دارفانی سے رخصت ہوگئے۔ یروشلم میں واقع مسجد الاقصٰی کے سابق مبلغ اور غزہ کے سابق وزیر برائے مذہبی امور شیخ یوسف سلامہ ۳۱ دسمبر ۲۰۲۳ء کو اپنے گھر پر ہوئے حملے میں جاں بحق ہوگئے۔ مئی ۲۰۲۴ء میں اسلامی قانون کے معروف لیکچرر اور غزہ کے باشندوں کو صبر اور استقامت کا درس دینے کیلئے مشہور شیخ نائل مصران، ایک خیمے پر اسرائیلی حملے میں اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ شہید ہوگئے۔ نومبر ۲۰۲۴ء میں فلسطین کی وزارت برائے مذہبی امور میں حفظ قرآن کے ڈائریکٹر جنرل تھے، اپنے گھر پر ہوئے اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد اپنی برادری کے ”بنیادی ستون“ تھے اور ان کی موت نے غزہ میں ایک روحانی خلاء پیدا کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بارسلونا نے غزہ اور فلسطینی شہروں کو علامتی طور پر۱۱؍واں ضلع قرار دیا
غزہ کی عیسائی برادری بھی متاثر
غزہ کی عیسائی برادری بھی اسرائیلی حملوں سے بڑے پیمانے پر متاثر ہوئی ہے۔ غزہ شہر میں واقع ہولی فیملی کیتھولک چرچ کو اسرائیلی فوج کی جانب سے کئی بار گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ غزہ کی وزارت صحت نے رپورٹ کیا کہ ۱۹ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو سینٹ پورفائریئس چرچ پر ایک اسرائیلی حملے میں ۱۸ فلسطینی عیسائی ہلاک ہو گئے۔ غزہ کے حکام کا کہنا ہے کہ جنگ میں ۲۰ سے زیادہ عیسائی ہلاک ہو چکے ہیں۔ سینکڑوں عبادت گزار ملبے کے درمیان تباہ شدہ گرجا گھروں میں پناہ لے رہے ہیں۔ ایک عبادت گزار نے گزشتہ کرسمس کے موقع پر اے ایف پی کو بیان دیا تھا کہ ”اس دفعہ یہ تہوار، موت اور تباہی کی بو لے کر آیا ہے“، کیونکہ خاندان تباہ شدہ پناہ گاہوں میں دعا کر رہے ہیں۔ چرچ کے مذہبی لیڈران اور امدادی ایجنسیوں نے امداد اور شہریوں کے تحفظ کی اپیل کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل میں لاکھوں افراد کا احتجاج، غزہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا مطالبہ
عالمی سطح پر تشویش
بین الاقوامی لیڈران نے بھی مذہبی مقامات پر حملوں اور ان کی تباہی پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پوپ فرانسس اور پوپ لیو چہار دہم نے غزہ کے فلسطینیوں پر”ظلم“ کی سخت مذمت کی ہے۔ مختلف ممالک کے اعلیٰ سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ غزہ میں مذہبی لیڈران کی ہلاکتوں کی تعداد انسانی اور قانونی خدشات کو جنم دیتی ہے۔ اسرائیل کے فوجی ردعمل کو عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن غزہ کے حکام کا اصرار ہے کہ مذہبی ہلاکتوں کی سطح اتنی زیادہ ہے کہ وہ اتفاقی نہیں ہو سکتی۔
یہ بھی پڑھئے: پوپ لیو کا اسرائیل سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور اجتماعی سزا کے خاتمےکامطالبہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ سینکڑوں مساجد کے برابر کئے جانے اور مذہبی رہنماؤں کے قتل ہونے کے بعد، غزہ کی سماجی تعمیر نو کو طویل عرصہ درکار ہوگا۔ انسانی ہمدردی کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ جسمانی تعمیر نو کے علاوہ، اس علاقے کو ایک گہرے روحانی زخم کو بھرنے کی بھی ضرورت ہوگی، کیونکہ مسلمان اور عیسائی، دونوں ہی مذاہب کے لیڈران، عبادت گاہوں اور عزیزوں کے نقصان کا غم منا رہے ہیں۔