سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے خلاف وی ڈی ساورکر سے متعلق مبینہ ہتک آمیز بیان کے معاملے میں زیرِ التوا فوجداری شکایت خارج کردی۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقدمہ چلانے کیلئے ریاستی حکومت کی لازمی منظوری حاصل نہیں کی گئی تھی۔
EPAPER
Updated: August 14, 2026, 4:01 PM IST | New Delhi
سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے خلاف وی ڈی ساورکر سے متعلق مبینہ ہتک آمیز بیان کے معاملے میں زیرِ التوا فوجداری شکایت خارج کردی۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقدمہ چلانے کیلئے ریاستی حکومت کی لازمی منظوری حاصل نہیں کی گئی تھی۔
سپریم کورٹ نے جمعہ کو اتر پردیش میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کے خلاف زیرِ التوا نجی فوجداری شکایت کو خارج کر دیا۔ راہل گاندھی پر ہندوتوا نظریہ ساز وی ڈی ساورکر کے بارے میں مبینہ طور پر ہتک آمیز تبصرے کرکے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس شیل ناگو پر مشتمل بنچ نے گاندھی کے خلاف شکایت اور کارروائی کو اس وقت خارج کر دیا جب یہ بات سامنے آئی کہ اتر پردیش حکومت نے انڈین پینل کوڈ (IPC) کی دفعہ ۱۵۳؍ اے کے تحت مبینہ جرم میں مقدمہ چلانے کیلئے ضروری منظوری نہیں دی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: مالیگائوں میں آدھی رات کو پولیس کی مسجد میں تلاشی
راہل گاندھی نے ٹرائل کورٹ کے سمن جاری کرنے کے حکم کو چیلنج کیا تھا، جس کے تحت انہیں آئی پی سی کی دفعہ۱۵۳؍ اے (گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا) اور دفعہ۵۰۵؍کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا تھا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے کارروائی خارج کرنے سے انکار کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ جمعہ کی سماعت کے دوران جسٹس دتا نے دریافت کیا کہ آیا اتر پردیش حکومت نے مقدمہ چلانے کی منظوری دی ہے۔ ریاست کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج نے تصدیق کی کہ ایسی کوئی منظوری نہیں دی گئی ہے۔ ضابطۂ فوجداری (CrPC) کی دفعہ ۱۹۶؍کے تحت عدالت کیلئے آئی پی سی کی دفعہ ۱۵۳؍ اے کے تحت کسی جرم کا نوٹس لینے سے پہلے ریاستی حکومت کی منظوری ضروری ہے۔
شکایت کنندہ کے وکیل نے ابتدا میں درخواست کی کہ منظوری نہ ہونے کی صورت میں سمن جاری کرنے کے حکم کو منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ غورکیلئے مجسٹریٹ کے پاس بھیج دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضروری ہوا تو شکایت کنندہ منظوری حاصل کرنے کے لیے مطلوبہ اقدامات کرے گا۔ تاہم، جسٹس دتا نے کہا کہ عدالت کے ذریعے جرم کا نوٹس لئے جانے سے پہلے منظوری لازمی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر منظوری نہیں ہے تو معاملہ وہیں ختم ہو جاتا ہے۔ ‘‘ اس کے بعد بنچ نے شکایت اور مجسٹریٹ کی جانب سے جاری کئے گئے احکامات کو خارج کر دیا۔ بنچ نے کہا، ’’اتر پردیش حکومت کی جانب سے داخل کیے گئے حلف نامے میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ اپیل کنندہ ملزم کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری دی گئی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں شکایت اور مجسٹریٹ کی جانب سے جاری کئے گئے احکامات منسوخ کئےجاتے ہیں۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: رانچی : طلبہ کے احتجاج کا۲۰؍ واں دن، وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے راستے پر سخت سیکوریٹی
یہ شکایت ان مبینہ تبصروں کی بنیاد پر دائر کی گئی تھی جو گاندھی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ساورکر کے بارے میں کئے تھے۔ راہل نے کہا تھا کہ ساورکر ’’انگریزوں کے خادم‘‘ تھے اور انہیں انگریزوں کی جانب سے پنشن بھی ملتی تھی۔ ایڈوکیٹ نریپیندر پانڈے نے شکایت دائر کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ راہل گاندھی نے معاشرے میں نفرت اور دشمنی پھیلانے کے ارادے سے یہ تبصرے کئے۔ اس کے بعد لکھنؤ کی ایک عدالت نے دسمبر ۲۰۲۴ء میں راہل کو ملزم کے طور پر طلب کیا تھا۔ سمن جاری کرنے کے اپنے حکم میں ایڈیشنل سول جج (سینئر ڈویژن)/اے سی جے ایم آلوک ورما نے کہا تھا کہ پریس کانفرنسوں میں پہلے سے چھپے پمفلٹ اور کتابچے تقسیم کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ گاندھی نے مبینہ طور پر ’’معاشرے میں نفرت اور دشمنی پھیلا کر ملک کی بنیادی خصوصیات کو کمزور اور ان کی توہین کی‘‘۔ راہل گاندھی نے الہ آباد ہائی کورٹ میں اس کارروائی کو چیلنج کیا، تاہم، ہائی کورٹ نے۴؍ اپریل ۲۰۲۵ء کو مقدمہ خارج کرنے سے انکار کر دیا۔ جسٹس سبھاش ودیارتھی نے کہا کہ گاندھی ضابطۂ فوجداری کی دفعہ۳۹۷؍کے تحت سیشن کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں، اور اس کے ساتھ ہی ان کی عرضی نمٹا دی۔ اس کے بعد گاندھی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جس نے گزشتہ سال کارروائی پر روک لگا دی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: سب الیکشن کمیشن کی غلطی ہے، سبل کی سپریم کورٹ میں دلیل
سپریم کورٹ نے اس سے قبل بھی تبصروں پر تنقید کی تھی
کارروائی پر روک لگاتے ہوئے جسٹس دتا نے ساورکر کے بارے میں گاندھی کے تبصروں پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا اور سوال اٹھایا تھا کہ کیا آزادی کے مجاہدین کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جانا چاہئے۔ جج نے یہ انتباہ بھی دیا تھا کہ اگر راہل گاندھی نے اسی نوعیت کے تبصرے دوبارہ کئے تو عدالت ان کے خلاف ازخود توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کر سکتی ہے۔ سپریم کورٹ میں راہل گاندھی کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ ڈاکٹر ابھیشیک منو سنگھوی پیش ہوئے۔