مقامی سطح پر دفتر نہ ہونے کے سبب شہر و مضافات کے ہزاروں طلبہ تعلیمی قرض سے محروم،وفد کی کارپوریشن کے چیئر مین سے ملاقات ۔
ایڈوکیٹ راشد شیخ اور شاف مومن مولانا آزاد مالیاتی کارپوریشن کے چیئرمین مشتاق انتولے سے گفتگو کرتے ہوئے- تصویر:آئی این این
تعلیمی قرض کے حصول میں رکاوٹیں، دور دراز سفر کی مجبوری اور دلالوں کے استحصال نے بھیونڈی اور مضافات کے ہزاروں طلبہ کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ مولانا آزاد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کا مقامی دفتر نہ ہونے کے باعث طلبہ کو تھانے کا رخ کرنا پڑتا ہے، جہاں تک پہنچنا نہ صرف مہنگا بلکہ وقت طلب بھی ہے۔ نتیجتاً بڑی تعداد میں طلبہ بیچولیوں کے ذریعے قرض حاصل کرنے پر مجبور ہیں اور منظور شدہ رقم کا خاطر خواہ حصہ دلالوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ اسی سنگین صورتحال کے پیش نظر سماج وادی پارٹی نے عملی قدم اٹھاتے ہوئے ممبئی میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں۔
سابق کارپوریٹر شاف مومن اور ایڈوکیٹ راشد رفیق شیخ پر مشتمل وفد نے مولانا آزاد مالیاتی کارپوریشن کے چیئرمین مشتاق انتولے سے ملاقات کی۔ یہ اہم ملاقات ابو عاصم اعظمی کی جانب سے طے کی گئی تھی جس میں بھیونڈی میں برانچ یا رابطہ آفس کے قیام پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ ملاقات میں طلبہ کو درپیش مسائل خصوصاً دلالی نظام، معلومات کی کمی اور دوری کے باعث ہونے والی دشواریوں کو تفصیل سے پیش کیا گیا۔
ایڈوکیٹ راشد شیخ اور شاف مومن نے انقلاب کو بتایا کہ وفد کی باتوں کو سننے کے بعد چیئرمین مشتاق انتولے نے مثبت ردعمل دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اگر مقامی سطح پر ضروری انفرااسٹرکچر فراہم کیا جائے تو بھیونڈی میں مولانا آزاد مالیاتی کارپوریشن کا دفتر قائم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ عبوری طور پر ہفتے میں ایک دن کارپوریشن کا عملہ بھیونڈی میں موجود رہ کر طلبہ کے مسائل حل کرے گا۔
سماج وادی پارٹی کے مقامی صدر انس انصاری نے بتایا کہ پارٹی طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی برداشت نہیں کرے گی اور جلد از جلد انفرااسٹرکچر فراہم کر کے دفتر کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ سرکاری اسکیموں سے براہ راست مستفید ہو سکیں۔ تعلیمی و سماجی حلقوں نے اس پیش رفت کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر بھیونڈی میں کارپوریشن کا دفتر قائم ہو جاتا ہے تو نہ صرف طلبہ کی مشکلات میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ دلالی نظام کا خاتمہ بھی ممکن ہو سکے گا جو برسوں سے ضرورت مند طلبہ کا استحصال کر رہا ہے۔