Inquilab Logo Happiest Places to Work

تمام پارکنگ لاٹ کو ایپ سے جوڑنے کے منصوبے میں پیش رفت

Updated: April 02, 2026, 2:08 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

ایپ کی تیاری کیلئے کنسلٹنٹ تلاش کرنے کو بی ایم سی کی منظوری۔ اپوزیشن نے کنسلٹنٹ کے بجائے ٹریفک محکمہ کے انجینئروں کی خدمات لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

BMC Is Running 350 Parking Lots On The Roadside.Photo: INN
بی ایم سی سڑکوں کے کنارے ۳۵۰؍پارکنگ لاٹ چلارہی ہے۔ تصویر:آئی این این
شہر ومضافات میں پارکنگ لاٹ پر بحث و مباحثہ اور اپوزیشن لیڈروں کے نجی کنسلٹنٹ کے بجائے محکمہ ٹریفک کے انجینئروں کی خدمات حاصل کر نےکے مطالبے کے دوران میونسپل اسٹینڈنگ کمیٹی میں بی ایم سی کے ’اسمارٹ پارکنگ‘ پروجیکٹ پر عملدرآمد کیلئے ’کنسلٹنٹ‘ منتخب کرنے کی تجویز منظور کرلی گئی۔  اس پروجیکٹ کے ذریعہ شہر کے تمام پارکنگ لاٹ کو ایک ایپ یا ویب سائٹ سے جوڑنے کا منصوبہ ہے تاکہ عوام کو گھر بیٹھے پتہ چل سکے کہ کس پارکنگ میں کتنی جگہ خالی ہے۔ 
یہ منصوبہ سب سے پہلے ۲۰۲۰ء میں پیش کیا گیا تھا کہ تمام پارکنگ لاٹ کی جگہ کو ایک ایپ یا ویب سائٹ سے جوڑ دیا جائے البتہ اس معاملے میں بدھ کو اس وقت پیش رفت ہوئی جب اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ کسی مشیر یا صلاح کار کمپنی کے انتخاب کے لئے اخبارات میں اشتہارات دیئے جائیں تاکہ شہر کی تمام پارکنگ کی جگہوں کو ایپ یا ویب سائٹ سے جوڑنے کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔ اب اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ۳؍ کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ 
فی الحال بی ایم سی سڑکوں کے کنارے  ۳۵۰؍ اور عمارتوں وغیرہ کے اندر ۲۶؍ پارکنگ لاٹ چلا رہی ہے لیکن شہر میں موٹر گاڑیوں کی تعداد کے اعتبار سے یہ جگہیں بہت کم پڑ جاتی ہیں۔ منصوبہ یہ ہے کہ اگر شہر کے تمام پارکنگ لاٹ کو ایپ سے جوڑ دیا جائے گا تو عوام کیلئے اپنی مطلوبہ جگہ پر پارکنگ کی خالی جگہ تلاش کرکے بکنگ کرنا آسان ہو جائے گا جس کا ٹریفک پر بھی مثبت اثر پڑنے کا امکان ہے۔ 
اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں نے اس تجویز کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کی تھی کہ انہیں اس پروجیکٹ پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اس کام کیلئے کنسلٹنٹ منتخب کرکے اسے لاکھوں روپے دینے کے بجائے ٹریفک ڈپارٹمنٹ میں موجود انجینئروں سے یہ کام لیا جائے۔ 
 
 
کانگریس  کے گروپ لیڈر اشرف اعظمی نے اس پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے پاس ٹریفک ڈپارٹمنٹ دستیاب ہے جس میں مختلف مہارت رکھنے والے انجینئر موجود ہیں۔ ہم انہیں اس کام کیلئے کیوں استعمال نہیں کرتے؟ ہم کب انہیں تربیت دیں گے؟ اگر ابھی سے انہیں ان سب کاموں کی تربیت دی جائے تو مستقبل میں یہ لوگ ہمارے لئے اثاثہ ثابت ہوں گے۔ ٹریفک محکمہ میں موجود انجینئروں کو بہت زیادہ تنخواہیں ملتی ہیں تو بی ایم سی ان کی قابلیت کو کیوں استعمال نہیں کرتی؟‘‘ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بی ایم سی کی کئی جگہیں ایسی ہیں جنہیں بی ایم سی نے پارکنگ کیلئے فراہم نہیں کی ہے لیکن یہ جگہیں ’پے اینڈ پارک‘ کیلئے استعمال کی جارہی ہیں۔
 
 
 
ایک  خاتون کارپوریٹر نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جب ماہانہ لاکھوں روپے خرچ کرکے کسی کنسلٹنٹ کا انتخاب کیا جاتا ہے تو وہ کنسلٹنٹ پے اینڈ پارک میں کام کرنے والوں کیلئے شناختی کارڈ رکھنے اور یونیفارم پہننے کو لازمی قرار دینے کا مشورہ کیوں نہیں دیتا۔ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ کئی مقامات پر کچھ لوگ غیرقانونی طور پر پے اینڈ پارک شروع کردیتے ہیں اور لوگ انہیں بی ایم سی کا منتخب شدہ ٹھیکیدار سمجھ کر پیسے دیتے رہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK