Updated: October 13, 2026, 9:03 PM IST
| New Delhi
طویل احتجاج کے خدشے کے درمیان دہلی پولیس نے۲۷؍ ہزار سی اے پی ایف جوانوں کی تعیناتی میں توسیع مانگ لی،پولیس ذرائع کے مطابق، یہ درخواست کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والی دیگر تنظیموں سے وابستہ کارکنوں کے ممکنہ مظاہروں پر خدشات کے درمیان آئی ہے۔
دہلی پولیس نے قومی دارالحکومت میں مزید احتجاج اور امن و امان کے ممکنہ چیلنج کے امکان کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کی۲۷۳؍ کمپنیوں کی تعیناتی۲۰؍ اکتوبر تک بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔۱۲؍ اکتوبر۲۰۲۶ء کی تاریخ کے ایک خط میں، جو مرکزی وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) کو مخاطب ہے، اسپیشل کمشنر آف پولیس، آپریشن کے دفتر نے درخواست کی کہ دہلی بھر میں سیکورٹی برقرار رکھنے کے لیے تعیناتی کو اس کی مقررہ اختتامی تاریخ سے آگے بڑھایا جائے۔پولیس ذرائع کے مطابق، یہ درخواست کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والی دیگر تنظیموں سے وابستہ کارکنوں کے ممکنہ مظاہروں پر خدشات کے درمیان آئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر میں داخل ہونے کی کوشش، سی جے پی کے آشوتوش رانکا، سورَو داس حراست میں
بعد ازاں خط میں مبینہ طور پر جنتر منتر، الیکشن کمیشن آف انڈیا ہیڈکوارٹر، پارلیمنٹ ہاؤس اور انڈیا گیٹ کو ان مقامات کے طور پر شناخت کیا گیا ہے جہاں مظاہرین جمع ہو سکتے ہیں۔پولیس نے بھیم آرمی، طلبہ تنظیموں اور دیگر سیاسی گروپوں کے مظاہروں کے امکان کو بھی اجاگر کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ احتجاج انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) میں بے ضابطگیوں کے الزامات سے جڑے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں اور کارکنوں نے اس اقدام پر خدشات کا اظہار کیا ہے، جبکہ الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلوں کا دفاع کیا ہے۔دہلی پولیس نے کہا کہ حساس مقامات پر بڑے اجتماعات کے امکان سے امن و امان کے چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں جن کے لیے اضافی سیکورٹی اہلکاروں اور فوری نقل و حرکت کی ضرورت ہوگی۔
ذرائع کے مطابق،وزارت داخلہ نے دہلی میں۳۰۱؍ سی اے پی ایف کمپنیوں کی تعیناتی کی منظوری دی تھی۔ ان میں سے۲۲۱؍ کمپنیوں کی منظوری۶؍ اکتوبر کو دی گئی تھی، جبکہ مزید۸۰؍ کی منظوری۸؍ اکتوبر کو دی گئی۔تاہم، ذرائع نے بتایا کہ پیر تک اضافی۸۰؍ میں سے۲۸؍ کمپنیوں نے دہلی پولیس کو رپورٹ نہیں کیا تھا۔پولیس نے خاص طور پر۳۰۱؍ میں سے۲۷۳؍ کمپنیوں کے لیے۲۰؍ اکتوبر تک توسیع کی درخواست کی ہے تاکہ کسی بھی کشیدگی سے نمٹنے کے لیے کافی اہلکار دستیاب ہوں۔یہ درخواست ایس آئی آر مشق میں مبینہ بے ضابطگیوں پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کئی دنوں کے مظاہروں کے بعد آئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پونے: ایم پی ایس سی امیدواروں کا احتجاج رنگ لایا
یاد رہے کہ ہفتے کے آخر میں، دہلی میں بھاری سیکورٹی تعیناتی، میٹرو اسٹیشنوں پر پابندیاں اور شہر کی سرحدوں پر سخت چیکنگ دیکھی گئی۔ مظاہروں کے دوران کئی مظاہرین، جن میں سیاسی لیڈر اور کارکن شامل تھے، کو حراست میں لیا گیا۔دہلی پولیس نے کہا کہ ممکنہ امن و امان کی صورتحال پر فوری جواب دینے اور اہم مقامات پر سیکورٹی برقرار رکھنے کے لیے مناسب سی اے پی ایف تعیناتی ضروری تھی۔
خط میں تعیناتی میں توسیع کی درخواست کی گئی ہے۔ تاہم اس میں اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ آیا وزارت داخلہ نے درخواست منظور کر لی ہے۔