Inquilab Logo Happiest Places to Work

پراپرٹی ٹیکس وصولی مہم تیز، ضبطی اور کنکشن منقطع کرنے کی کارروائی جاری

Updated: March 30, 2026, 10:41 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai

بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کیلئے پراپرٹی ٹیکس کی بڑھتی ہوئی بقایا رقم ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے، جس کے پیش نظر میونسپل انتظامیہ نے نادہندگان کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

A resident of a building is having his electricity connection disconnected. Photo: INN
ایک عمارت میں رہنے والے کا بجلی کنکشن کاٹا جا رہا ہے۔ تصویر: آئی این این

بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کیلئے پراپرٹی ٹیکس کی بڑھتی ہوئی بقایا رقم ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے، جس کے پیش نظر میونسپل انتظامیہ نے نادہندگان کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ برسوں سے التوا میں پڑے ٹیکس، دوہری اندراجات، منہدم عمارتوں کے ریکارڈ اور متنازع جائیدادوں کےباعث بقایا رقم میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ 
میونسپل کمشنر انمول ساگر اور ایڈیشنل کمشنر نینا سسانے کی رہنمائی میں، ڈپٹی کمشنر (ٹیکس) بالاکرشن شیرساگر کی قیادت میں محکمہ ٹیکس نے وصولی مہم تیز کر دی ہے۔ محکمہ کے سربراہ سدھیر گرو اور پانچوں وارڈ کی ٹیموں نے اب تک ۹۲؍ کروڑ روپے وصول کر لئے ہیں جبکہ مارچ کے اختتام تک ۱۰۰؍کروڑ روپے وصولی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، بھیونڈی میں کُل۲؍ لاکھ ۷۱؍ ہزار جائیدادوں پر ۸۴۴؍ کروڑ ۸؍ لاکھ روپے کا بقایا درج ہے، جس میں جھوپڑ پٹی علاقوں سے۳۷۱؍ کروڑ ۶۸؍لاکھ اور کمرشیل جائیدادوں سے ۴۷۲؍ کروڑ ۴۰؍ لاکھ روپے شامل ہیں۔ سود میں کمی کے بعد بقایا رقم ۵۶۲؍ کروڑ ۵۸؍ لاکھ رہ جاتی ہے جبکہ رواں سال کی مانگ ۱۲۲؍ کروڑ روپے ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’ایس آئی آر کیلئے ضروری میپنگ نہ کرنےپر ’رسک زون‘ میں ڈالا جاسکتا ہے‘‘

ڈپٹی کمشنر (ٹیکس) بالاکرشن شیرساگر نے بتایا کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والے جائیداد مالکان کے خلاف سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے میونسپل کارپوریشن نے جائیدادوں کی ضبطی اور پانی اور لائٹ کے کنکشن منقطع کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ اب تک ۸۶۳؍ جائیدادیں ضبط کی جا چکی ہیں، جن میں سے کئی مالکان نے ٹیکس ادا کر کے راحت حاصل کی جبکہ فی الحال ۴۱؍جائیدادیں ضبط ہیں۔ اس کے علاوہ۳؍ہزار۶۷۱؍پانی کے کنکشن بھی کاٹے جا چکے ہیں۔ میونسپل انتظامیہ کے مطابق پراپرٹی ٹیکس اس کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے اور اس کی وصولی میں کمی کا براہ راست اثر شہری ترقیاتی کاموں پر پڑتا ہے- اسی لئے نادہندگان کے خلاف آئندہ بھی سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK