ممبرا میں منعقدہ سمینار میں ایس آئی آر کیلئے کام کرنے والے ماہرین نے رائے دہندگان کو آگاہ کیا۔ ۲۰۰۲ء سے موجودہ ووٹر لسٹ کےدرمیان میپنگ کرنے کی اپیل کی۔ رہنمائی کیلئے ہیلپ لائن نمبر جاری کئے۔
EPAPER
Updated: March 28, 2026, 1:08 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbra
ممبرا میں منعقدہ سمینار میں ایس آئی آر کیلئے کام کرنے والے ماہرین نے رائے دہندگان کو آگاہ کیا۔ ۲۰۰۲ء سے موجودہ ووٹر لسٹ کےدرمیان میپنگ کرنے کی اپیل کی۔ رہنمائی کیلئے ہیلپ لائن نمبر جاری کئے۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا(ای سی آئی) کی جانب سے مہاراشٹر میں یکم اپریل سےووٹر لسٹ کی باریکی سے جانچ کرنے کیلئے’ اسپیشل انٹینسیو ریویژن ( ایس آئی آر ) ‘ سروے شروع کیاجارہا ہے جس کے تحت بی ایل او گھر گھر جاکر یا پھرپولنگ سینٹروں پر بیٹھ کر انہیں دی گئی ووٹر لسٹ کے ووٹروں کی جانچ کریں گے۔ اس کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں بلکہ بوتھ لیول آفیسر(بی ایل او) نے اپنا کام بھی شروع کر دیا ہے۔ اس سروے میں ووٹروں کوان کی یا ان کے قریبی رشتہ داروں کی ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ کی تفصیل فراہم کرنا ہے۔ یہ فیملی میپنگ کے ذریعے ہوگا۔ جو ووٹر یہ میپنگ کرنے میں ناکام ہوگا، اسے ’ رسک زون‘ میں ڈالا جاسکتا ہے اور اس کےبعد بھی اگر وہ ضروری دستاویز پیش نہیں کر سکا تواس کانام ووٹر لسٹ سے نکالا جاسکتا ہے۔ اس لئے شہریوں کیلئے لازمی ہے کہ وہ ابھی سے ایس آئی آر کیلئے ’فیملی میپنگ ‘کروا لیں۔ یہ انتباہ گزشتہ شب ایس آئی آر سے متعلق بیداری لانے کیلئے منعقدہ سمینار میں ماہرین نے ممبرا میں دیا ہے۔ یہ سمینار ممبرا جامع مسجد کےبازو میں واقع آفرین ہال میں منعقد کیا گیا تھا جسے رحمہ فاؤنڈیشن (مسجد رحمہ، بازار روڈ، ممبرا)اور تنظیم علماء و ائمہ کوسہ ممبرا کی جانب سے منعقد کیاگیا تھا۔
سمینار مفتی اشفاق قاضی (صدر مفتی دار الافتاء والارشاد جامع مسجد ممبئی، فیملی فرسٹ گائیڈینس سینٹر کے بانی )کی رہنمائی میں منعقد کیاگیا ۔ اس سمینار میں مقامی کارپوریٹر یاسین قریشی، منیشا بھگت، مولانا لقمان خان( رحمہ مسجد)، سوشل ورکر شاداب خان، نصیر سر اور دیگرافراد موجود تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’میونسپل ’ڈی ‘اور ’ای ‘وارڈ میں پانی کی قلت دور کی جائے‘‘
ایس آئی آر کے بارے میں اہم معلومات
اس بیداری پروگرام میں ایس آئی آر کے تعلق سے شاداب (سر) خان نے بتایا کہ’’ ایس آئی آر کا مطلب ہے کہ ووٹر لسٹ کی باریکی سے جانچ کرنا۔ جب یہ ایس آئی آر شروع ہوگا تب بوتھ لیول آفیسر( بی ایل او) جنہیں اس کا سروے کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے، وہ ووٹروں کے گھر انومنیشن فارم لے کر آئیں گے۔ یہ کام انومنیشن فیز میں ہوگا۔ اس مرحلہ سے پہلے پری انومنیشن فیز ہوگا، اس فیز میں فیملی میپنگ ہوتی ہے۔
ووٹر کی میپنگ کیا ہے اور اس کا مقصد
شاداب سر نے مزید بتایاکہ ’’فیملی میپنگ کا مقصد یہ ہے کہ ووٹر کو اس کے سابقہ ریکارڈ کے ساتھ منسلک کرنا۔ اس میں ۲؍ طرح کی میپنگ کی جائے گی۔ ایک ہوتی ہی ’سیلف میپنگ ‘جس میں ووٹر کا نام موجود ہ ووٹر لسٹ اور سابقہ ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ دونوں میں نام موجو د ہوتو ان دونوں تفصیل کو منسلک /میچ کیاجاتا ہے۔ دوسری ہوتی ہے ’پروجینی میپنگ ‘ جس میں کسی ووٹر کا نام ابھی آتا ہے لیکن اس کا ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ میں نا م نہیں تھا یا وہ اس وقت بالغ نہیں تھا یا کوئی اور وجہ تھی توایسی صورت میں اس ووٹر کی ابھی کی تفصیل اور اس کے والد/والدہ/ دادا/ دادی/ نانا یا نانی کی ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ کی تفصیل منسلک کرنی ہوگی۔ ‘‘
میپنگ کیوں کرنی ہے ؟ اس کے مقصد کے تعلق سے انہوں نے مزید بتایاکہ ’’ میپنگ کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ جب ایس آئی آر کا سروے شروع ہوگا تو میپنگ کرنے والے محفوظ ہو جاتے ہیں اور ’سیف زون‘ میں چلے جائیں گے اور انہیں کسی قسم کی کوئی دستاویز پیش کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ان کا نام ایس آئی آر کے سروے میں ووٹر لسٹ سے نہیں نکالا جائے گا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: بغرض زیارت ایران جانے والے گروپ کی ۳۱؍دن بعدوطن واپسی
اگر کسی کا نام موجودہ ووٹر لسٹ میں ہے
لیکن ۲۰۰۲ء میں کسی کا نہیں ہے تو...
شاداب سر نے مزید تفصیل بتایا کہ ’’اگر کسی شہری کا نام موجودہ ووٹر لسٹ میں ہے لیکن اس کااور اس کےرشتہ داروں میں سے کسی کا بھی ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ میں نہیں ہے تو ایسے شہریوں /ووٹروں کو ’رسک زون‘ میں شمار کیاجائے گا۔ ایسے معاملے میں اگر شہری ۱۹۹۷ء سے قبل پیدا ہوا ہے تو ایس آئی آر کے تحت جن دستاویز کو قابل قبول قرار دیا گیاہے، ان میں سے ایک تا ۳؍ دستاویز پیش کرنے ہوں گے۔ اس کے بعد اس کی درخواست کی متعلقہ افسر کے پاس سماعت ہوگی اور دستاویزات سے مطمئن ہونے کےبعد اس کا نام ایس آئی آر میں شامل کر دیاجائے گا لیکن جن شہریوں کی پیدائش ۱۹۹۷ء سے ۲۰۰۴ء کے درمیان ہوئی ہے تو ایسے شہری کو اس کا اپنا ایس آئی آر کے مقرر کردہ دستاویز میں سے ایک تا ۳؍ دستاویز اور اس کےوالد یا والدہ ان دونوں میں سے کسی ایک کا ایس آئی آر کے مقررہ دستاویزات( ایک، ۲ یا ۳) دینا ہوگا۔ ۲۰۰۴ء کے بعد پیدا ہونے والے شہریوں کو تیسری کیٹیگری میں شمار کیاگیا ہے، ایسے شہریوں کو اس کے اپنی دستاویز اور اس کے والدین کے دستاویزات جمع کرانے ہوں گے۔ ‘‘
ماہرین نے عوام سے درخواست کی کہ ان دستاویزات کو پیش کرنے کے جھنجھٹ سے راحت پانے کیلئے ضروری ہے کہ ہم فیملی میپنگ کر والیں۔ مفتی اشفاق قاضی نےاس بات پر زور دیا کہ جب معاملہ ملت کا آتا ہے تو ہمیں مسلک اور دیگر اختلافات کو بھول کر متحد ہو کر کام کرنا چاہئے۔
ہیلپ ڈیسک
سمینار میں بتایاگیا کہ ایس آئی آر کے تعلق سے شہریوں کی رہنمائی اور فیملی میپنگ کرنے کے لئے رحمہ مسجد، مقامی کارپوریٹروں کے رابطہ دفتر اور شاداب سر کی کلاس (بامبے کالونی)پر مفت انتظام کیاگیا ہے۔ شہری اپنا الیکشن کارڈ لے جاکر میپنگ کر وا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مزید پوچھ تاچھ اور رضاکار بننے کیلئے موبائل فون نمبر : ۹۳۲۳۹۲۷۲۲۱/ ۹۱۶۷۶۷۶۱۰۲؍ پر رابطہ قائم کیاجاسکتا ہے۔