Updated: October 12, 2026, 7:03 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خلیج میکسیکو اور جھیل اونٹاریو کے نام تبدیل کرنے کے بعد اب بحرِ اوقیانوس اور بحرالکاہل کا نام بھی بدلنے کا خیال ظاہر کیا ہے۔ ٹرمپ نے تجویز پیش کی کہ ان میں سے کسی ایک سمندر کا نام ’’ٹرمپ اوشین‘‘ یا ’’امریکاز اوشین‘‘ رکھا جا سکتا ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ۱۰؍ اکتوبر کو ٹینیسی کے شہر کلارکس وِل میں انتخابی ریلی کے دوران بحرِ اوقیانوس یا بحرالکاہل میں سے کسی ایک کا نام بدل کر ’’ٹرمپ اوشین‘‘ یا ’’امریکاز اوشین‘‘ رکھنے کی تجویز پیش کی۔ یہ تجویز ٹرمپ کی جانب سے خلیج میکسیکو اور جھیل اونٹاریو کے نام تبدیل کرنے کی حالیہ کوششوں سے مطابقت رکھتی ہے۔ ٹرمپ نے جھیل اونٹاریو کو ’’ایک خوبصورت جھیل‘‘ قرار دیا تھا۔ ٹرمپ نے ریلی کے دوران ہنستے ہوئے اور حاضرین کی تالیوں کے درمیان کہا، ’’ہمارے پاس خلیج ہے، ہمارے پاس ایک خوبصورت جھیل ہے۔ ہمیں ایک دریا کی ضرورت ہے، ہمیں ایک سمندر کی ضرورت ہے۔ ہم اسے ’ٹرمپ اوشین‘ یا ’امریکاز اوشین‘ یا اس طرح کا کوئی نام دے سکتے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’عہدے سے سبکدوش ہونے سے پہلے میرا خیال ہے کہ ہمارے پاس ایک سمندر بھی ہونا چاہئے۔ اور ہمیں ایک عظیم دریا کی بھی ضرورت ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نوبیل انعام برائے معاشیات ۲۰۲۶ء کا اعلان، رابرٹ ہال اور مائیکل ووڈ فورڈ فاتح
گزشتہ سال وہائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد ٹرمپ نے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کئے تھے، جس کے تحت خلیج میکسیکو کا نام تبدیل کرکے ’’خلیج امریکہ‘‘ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے ٹرمپ کے اس حکم نامے پر طنزیہ ردعمل دیتے ہوئے تجویز پیش کی تھی کہ پورے شمالی امریکی براعظم کا نام تبدیل کرکے ’’امریکہ میکسیکانا‘‘ رکھ دیا جائے۔ جب گوگل میپس نے امریکی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے خلیج میکسیکو کا نام تبدیل کرکے ’’خلیج امریکہ‘‘ ظاہر کرنا شروع کیا تو میکسیکو نے اس کی سخت مخالفت کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: سعودی: ریاض انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کا تازہ حملہ، ہلاکتوں کی تعداد ۱۸؍ ہوگئی
اگست میں کنیڈا کے ساتھ تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے دوران ٹرمپ نے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’لیک امریکہ‘‘ رکھنے کی بات کہی تھی۔ اب گوگل میپس پر صارفین کے مقام کے لحاظ سے اس جھیل کا نام ’’جھیل اونٹاریو‘‘ یا ’’جھیل امریکہ‘‘ دکھائی دیتا ہے۔ امریکہ اورکنیڈا سے باہر عالمی نقشے دیکھنے والے صارفین کو دونوں نام بیک وقت نظر آتے ہیں۔ خلیج میکسیکو کے معاملے میں بھی اسی طرح کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا، ’’جھیل کا نام تبدیل کرکے ’لیک آف امریکہ‘ رکھنے کا خیال دراصل میرے ذہن میں کافی عرصے سے تھا۔ ہم نے خلیج میکسیکو نامی جگہ کا نام تبدیل کیا اور اب عام طور پر اسے خلیج امریکہ کہا جاتا ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’اس طرح دیکھا جائے تو ہمارے پاس ایک خلیج ہے اور ایک جھیل بھی۔ اب ہمیں صرف ایک سمندر کی ضرورت ہے۔ اس لئے ممکن ہے کہ ہمیں بحرِ اوقیانوس یا بحرالکاہل، یا پھر دونوں کے نام تبدیل کرنے پڑیں۔ ‘‘