ملک کے دارالحکومت نواکشوط میں سیکڑوں کی تعداد میں مظاہرین امریکی سفارتخانہ کے باہرجمع ہوئے، ایران پر اسرائیلی حملوں کی بھی مذمت۔
EPAPER
Updated: June 17, 2025, 12:30 PM IST | Agency | Nouakchott
ملک کے دارالحکومت نواکشوط میں سیکڑوں کی تعداد میں مظاہرین امریکی سفارتخانہ کے باہرجمع ہوئے، ایران پر اسرائیلی حملوں کی بھی مذمت۔
افریقی ملک موریطانیہ کے دارالحکومت نواکشوط میں گزشتہ شب سیکڑوں افراد نے امریکی سفارت خانے کے سامنے زبردست احتجاج کیا جس میں قابض اسرائیل کی جانب سے فلسطین کے مظلوم عوام پر مسلط کی گئی بدترین جنگ اور حالیہ ایرانی سرزمین پر ڈھائے گئے حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین رات گئے تک سڑکوں پر موجود رہے۔ اُن کے ہاتھوں میں فلسطینی پرچم تھے اور وہ غزہ کے نہتے شہریوں کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ ان مظاہرین نے غزہ پر جاری درندگی اور ایران پر حملے کے خلاف بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
مظاہرین نے امریکہ کو براہِ راست غزہ میں جاری نسل کشی، اجتماعی بھوک، تباہی اور دربدری کا ذمے دار ٹھہرایا اور قابض اسرائیل کو اس وحشیانہ جنگ کے لیے دی جانے والی امریکی پشت پناہی کو فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ مظاہرہ ’صہیونی مداخلت کے خلاف طلبہ کی پہل ‘ نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کے تحت ہوا جو فلسطینی کاز کے لیے مسلسل سرگرم ہے اور غاصب ریاست کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات کو مسترد کرتی ہے۔
مظاہرین نے کہاکہ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے جاری اسرائیلی جارحیت نے غزہ کو قبرستان میں بدل دیا ہے۔ امریکی حمایت سے جاری اس مہم میں اب تک ۱۸۴؍ ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ ۱۱؍ ہزار سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں جب کہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں ۔ اجتماعی بھوک، اسپتالوں کی تباہی، پانی کی قلت اور گولیوں کی بارش نے غزہ کو انسانی المیے میں بدل دیا ہے۔
اسی تناظر میں موریطانیہ کی اکثر سیاسی جماعتوں نے قابض اسرائیل کی جارحیت پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ حکمران جماعت ’’انصاف پارٹی‘‘ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران پر حملہ ’’اس کی خودمختاری پر حملہ اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ‘‘ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر اقدام کرے اور اس خطرناک صورتِ حال کے خاتمے کے لیے سیاسی حل کی طرف لوٹے تاکہ دنیا امن کی جانب واپس آسکے۔ دوسری جانب، حزبِ اختلاف ’’تواصل پارٹی‘‘ نے اس حملے کو ’’امت ِ مسلمہ کے عزم، وحدت اور حقوق سے وابستگی میں اضافہ‘‘ کا سبب قرار دیا اور کہا کہ یہ حملہ نہ صرف درندہ صفت ہے بلکہ خطے کے مستقبل کے امن و استحکام کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے۔