جنوبی کوریا کے سابق صدر کو پہلے مارشل لاء معاملے میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی، یہ فیصلہ صدر یون کے زیرانتظام عوامی حکومت کی مختصر معطلیکے خلاف پہلی مجرمانہ سزا ہے، جبکہ سابق صدر سیاسی بحران سے متعلق متعدد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: January 16, 2026, 10:15 PM IST | Seoul
جنوبی کوریا کے سابق صدر کو پہلے مارشل لاء معاملے میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی، یہ فیصلہ صدر یون کے زیرانتظام عوامی حکومت کی مختصر معطلیکے خلاف پہلی مجرمانہ سزا ہے، جبکہ سابق صدر سیاسی بحران سے متعلق متعدد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔
جنوبی کوریا کے ایک جج نے سابق صدر یون سوک یول کو جمعہ کے روز مارشل لاء کے اعلان اور اس کے بعد پیدا ہونے والے ہنگامہ خیز واقعات سے منسلک انصاف میں رکاوٹ اور دیگر جرائم کے الزامات میں پانچ سال قید کی سزا سنائی۔یہ سابق صدر کے کئی مقدمات میں پہلا فیصلہ ہے، جنہوں نے۳؍ دسمبر۲۰۲۴ء کو جنوبی کوریا میں عوامی حکومت کی معطلی کی تھی، جس کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج اور پارلیمنٹ میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ بعد ازاں اقتدار سے ہٹنے کے بعد، اب وہ اس بحران اور اس کے بعد کی ہنگامہ آرائی کے دوران کیے گئے اقدامات کے خلاف متعدد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے مظاہروں کے درمیان۸۰۰؍ طے شدہ پھانسیوں کو روک دیا: وہائٹ ہاؤس
سیول کے سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج بائیک ڈی-ہیون نے جمعہ کو کہا کہ انہوں نے یون کو تحقیقاتی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے جرم میں مجرم پایا ہے۔یون کو مارشل لاء کی منصوبہ بندی میٹنگ سے کابینہ کے اراکین کو خارج کرنے کے جرم میں بھی مجرم قرار دیا گیا۔جج بائیک نے کہا، ’’صدر کے طور پر آئین کی پاسداری اور قانون کی حکمرانی کو سب سے زیادہ اہمیت دینے کی ذمہ داری کے باوجود، ملزم نے آئین کو نظرانداز کرنے کا رویہ دکھایا۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’ملزم کی قانونی ذمہ داری انتہائی سنگین ہے۔‘‘تاہم جج نے کہا کہ ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے سرکاری دستاویزات میں جعل سازی کے الزام میں یون بری ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یون کے پاس اپیل دائر کرنے کے لیے سات دن ہیں۔اگرچہ استغاثہ نے دس سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ یون کا اصرار تھا کہ کوئی قانون نہیں توڑا گیا۔
واضح رہے کہ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایک الگ مقدمے میں استغاثہ نے مارشل لاء نافذ کرنے میں ’’بغاوت کے سرغنہ‘‘ کے کردار کے لیے یون کیلئے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔ان کا دعویٰ تھا کہ یون سخت ترین سزا کے مستحق ہیں کیونکہ انہوں نے ’’آئینی نظم و جمہوریت‘‘ کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات پر ’’کوئی پچھتاوا‘‘ ظاہر نہیں کیا۔بعد ازاں اگر انہیں مجرم قرار دیا جاتا ہے تو سزا پر عمل درآمد ہونا انتہائی غیر ممکن ہے، کیونکہ جنوبی کوریا میں۱۹۹۷؍ سے پھانسی پر غیر رسمی طور پر روک لگی ہوئی ہے۔استغاثہ کی جانب سے سزا کا مطالبہ کرتےوقت یون کو عدالت میں مسکراتے ہوئے دیکھا گیا۔سابق صدر اور سابق اعلیٰ پراسیکیوٹر نے ڈٹے رہتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مارشل لاء کا اعلان صدارتی اختیارات کا قانونی استعمال تھا۔منگل کو اپنے اختتامی کلمات میں، انہوں نے اصرار کیا کہ ’’ملک کی حفاظت اور آئینی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے صدر کے آئینی ہنگامی اختیارات کے استعمال کو بغاوت کا عمل نہیں سمجھا جا سکتا۔‘‘
انہوں نے الزام لگایا کہ’’ اس وقت کی حزب اختلاف نے قانون ساز ادارے پر کنٹرول کے ذریعے غیر آئینی آمریت مسلط کی تھی۔عوام، جو حقیقی حاکم ہیں، کو بیدار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔‘‘ جبکہ عدالت بغاوت کے الزامات پر۱۹؍ فروری کو فیصلہ سنائے گی۔مزید یہ کہ یون دشمن کی مدد کے الزامات کے ایک الگ مقدمے کا بھی سامنا کر رہے ہیں، جس میں الزام ہے کہ انہوں نے مارشل لاء کے اعلان کی حمایت حاصل کرنے کیلئےشمالی کوریا پر ڈرون پروازیں کرنے کے احکامات دیے تھے۔