گلوبل صمود فلوٹیلا نے جمعرات کی صبح بتایا کہ اسرائیلی بحری افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں اس کے متعدد جہازوں کو روک کر انہیں ناکارہ بنا دیا ہے، جس کے باعث سیکڑوں شہری، طوفان کے درمیان سمندر میں پھنس گئے ہیں۔
EPAPER
Updated: April 30, 2026, 5:59 PM IST | Tel Aviv/Athens
گلوبل صمود فلوٹیلا نے جمعرات کی صبح بتایا کہ اسرائیلی بحری افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں اس کے متعدد جہازوں کو روک کر انہیں ناکارہ بنا دیا ہے، جس کے باعث سیکڑوں شہری، طوفان کے درمیان سمندر میں پھنس گئے ہیں۔
اسرائیلی بحری افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں گلوبل صمود فلوٹیلا (Global Sumud Flotilla) سے تعلق رکھنے والے متعدد بحری جہازوں پر حملہ کرکے چھاپہ مار کارروائی انجام دی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، تقریباً ۴۰۰ کارکنوں کو لے جانے والی ۵۰ کے قریب کشتیوں کو اسرائیلی ساحل سے ”سیکڑوں کلومیٹر“ دور قبضے میں لیا گیا اور جہاز پر موجود افراد کو مطلع کیا گیا کہ وہ زیرِ حراست ہیں۔ تاہم، گلوبل صمود فلوٹیلا نے کہا کہ کم از کم ۱۵ جہازوں کو غزہ سے ۶۰۰ ناٹیکل میل سے زیادہ دور، ایرانی جزیرے کریٹ (Crete) کے ساحل کے قریب روکا گیا۔ یہ فلوٹیلا، جو ۵۰ سے زائد جہازوں پر مشتمل تھا، غزہ کیلئے امداد لے کر اٹلی سے روانہ ہوا تھا۔
ایک بیان میں، فلوٹیلا نے الزام لگایا کہ اسرائیلی افواج نے ”بین الاقوامی پانیوں میں پرتشدد چھاپہ مارا۔“ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ فوجی اسپیڈ بوٹس نے قافلے کو گھیرے میں لے لیا، شہریوں پر ہتھیار تانے اور جہازوں پر سوار ہوگئے۔ منتظمین نے مزید الزام لگایا کہ افواج نے انجن توڑ دیئے، نیوی گیشن سسٹم تباہ کر دیئے اور مواصلات میں خلل ڈالا، جس سے شرکاء خراب ہوتے ہوئے موسمی حالات کے درمیان سمندر میں پھنس کر رہ گئے۔
اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے اس آپریشن کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ فلوٹیلا کو اسرائیلی زیرِ انتظام علاقوں تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا گیا تھا۔ انہوں نے شرکاء کو ”اشتعال انگیز“ قرار دیا۔
ترکی نے اسرائیل کی ’قزاقی‘ کارروائی کی مذمت کی
ترکی نے اسرائیلی آپریشن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ”قزاقی کارروائی“ اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ترک وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کے اقدامات نے بین الاقوامی پانیوں میں انسانی ہمدردی کی کوششوں اور جہاز رانی کی آزادی کو نشانہ بنایا۔ حکام نے بتایا کہ انقرہ جہاز پر موجود اپنے شہریوں کے تحفظ کیلئے ”تمام ضروری اقدامات“ کر رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے اور اس پر پابندیاں عائد کرے۔ ترک حکام نے پہلے کے ان واقعات کو بھی اجاگر کیا جن میں فلوٹیلا کے شرکاء کو حراست میں لیا گیا تھا اور دورانِ حراست بدسلوکی کا الزام لگایا۔ انہوں نے اس وقت زیرِ حراست افراد کی فوری رہائی کے مطالبات کا اعادہ کیا۔
ترکی اور اسپین کا متحد عالمی ردِعمل کا مطالبہ
ایک مربوط سفارتی اقدام میں، ترکی اور اسپین کے وزرائے خارجہ نے اس کارروائی کے خلاف متحد بین الاقوامی موقف کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ہاکان فیدان اور ہوزے مینوئل البارس نے اپنی گفتگو میں شہریوں کی حفاظت اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں پر خدشات کو اجاگر کیا۔ حکام کے مطابق، یہ فلوٹیلا جس میں ۱۰۰ تک کشتیاں اور تقریباً ۱۰۰۰ کارکن شامل تھے، انسانی امداد پہنچانے اور غزہ کیلئے سمندری راہداری قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ دونوں ممالک نے خبردار کیا کہ اس کارروائی نے متعدد قومیتوں کے شہریوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے صورتحال سے نمٹنے کیلئے مضبوط عالمی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
البانیر نے اسرائیلی اقدام کو ’سرحدوں کے بغیر نسل پرستی‘ قرار دیا
مقبوضہ فلسطینی علاقوں کیلئے اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ نے گلوبل صمود فلوٹیلا کے خلاف اسرائیلی آپریشن کو ”سرحدوں کے بغیر نسل پرستی“ قرار دیا ہے۔ فرانسسکا البانیز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ”الارم! یہ آخر کیسے ممکن ہے کہ اسرائیل کو یونان/یورپ کے بالکل قریب بین الاقوامی پانیوں میں بحری جہازوں پر حملہ کرنے اور انہیں قبضے میں لینے کی اجازت دی جائے؟ نسل پرست اسرائیل اور اس کے نسل کش لیڈران کے بارے میں آپ کی جو بھی رائے ہو، اس واقعے سے پورے یورپ میں صدمے کی لہر دوڑ جانی چاہئے۔“
واضح رہے کہ اسرائیلی بحریہ نے بدھ کی رات گئے فلوٹیلا کے جہازوں کو اس وقت روکا جب وہ محصور علاقے کی طویل المدتی ناکہ بندی توڑنے کیلئے غزہ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ گروپ نے بتایا کہ اسرائیلی افواج نے یونانی جزیرے کریٹ کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں قافلے کو گھیرے میں لیا، مواصلاتی نظام میں خلل ڈالا اور ۲۱ بحری جہازوں کو قبضے میں لے لیا، جبکہ واقعے کے بعد ۱۷ جہاز فرار ہو کر یونانی پانیوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی سزا سے استثنیٰ کی روایت مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے خطرہ: ایرانی مندوب
یونانی کارکنوں کے گروپ کا ایتھنز پر اسرائیلی کارروائی میں ’براہِ راست تعاون‘ کا الزام
یونان کے ایک کارکن گروپ نے جمعرات کے دن حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روکے جانے پر چپی سادھ لی ہے۔ ”مارچ ٹو غزہ گریس“ گروپ نے ایتھنز میں یونانی وزارتِ خارجہ کے باہر مقامی وقت کے مطابق شام ۶ بجے ہنگامی مظاہرے کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی۔
فیس بک پر جاری کردہ بیان میں گروپ نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے فلوٹیلا کو نشانہ بنایا اور جہازوں کو یونان کے سرچ اینڈ ریسکیو زون میں روکا گیا۔ بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ”فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی حملہ یونان کے براہِ راست تعاون سے ہوا!“ گروپ نے مزید کہا کہ ”ہم آپ کو یونان کے ہر شہر اور ہر کونے میں سڑکوں پر نکلنے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ یونانی ملی بھگت کے خلاف اپنی آواز بلند کرسکیں۔ ہم خاموش نہیں رہیں گے۔ ہر کوئی سڑکوں پر آئے۔“
اس سے قبل یونان کے سابق وزیرِ خزانہ یانس واروفاکیس نے کہا تھا کہ ”ابھی گلوبل صمود فلوٹیلا پر موجود دوستوں سے بات ہوئی ہے۔ اسرائیلی جہاز اور ڈرونز کریٹ کے ساحل کے قریب انہیں ہراساں کر رہے ہیں۔ یونانی حکومت یا تو اس میں شریکِ کار ہے یا پھر ہمارے سمندروں کا اسرائیل سے دفاع کرنے کے قابل نہیں ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل پانی کواجتماعی سزا کے ہتھیارکے طور پراستعمال کررہا: ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈر
فلوٹیلا کا دعویٰ: اسرائیلی افواج نے شہریوں کو طوفان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا
گلوبل صمود فلوٹیلا نے جمعرات کی صبح بتایا کہ اسرائیلی بحری افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں اس کے متعدد جہازوں کو روک کر انہیں ناکارہ بنا دیا ہے، جس کے باعث سیکڑوں شہری، طوفان کے درمیان سمندر میں پھنس گئے ہیں۔ ایکس پر جاری کردہ بیان میں گروپ نے کہا کہ اسرائیلی افواج نے فلوٹیلا میں شامل کئی کشتیوں کو ”روکا، ان پر سوار ہوئے اور منظم طریقے سے انہیں ناکارہ بنایا۔“ بیان کے مطابق، ”انجنوں کو توڑنے اور نیوی گیشن کے آلات کو تباہ کرنے کے بعد، فوج پیچھے ہٹ گئی اور جان بوجھ کر سیکڑوں شہریوں کو بجلی سے محروم اور ٹوٹے ہوئے جہازوں پر ایک بڑے طوفان کے راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔“
فلوٹیلا نے مزید کہا کہ کئی جہازوں کے مواصلاتی نظام جام کر دیئے گئے ہیں، جس سے ان کی آپس میں رابطہ کرنے یا مدد کیلئے سگنل بھیجنے کی صلاحیت ختم ہو گئی ہے۔ گروپ نے اس واقعے کو شہریوں کو نشانہ بنانے کے وسیع تر سلسلے کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”آج رات دنیا اسرائیلی فوج کے منظم لاوارثی کارروائی کے نظریے کی برآمد کی گواہ بن رہی ہے۔ یہ ایک پرتشدد چھاپہ تھا۔“
گروپ نے اپنے بیان میں اس واقعے کو غزہ کی صورتحال سے جوڑتے ہوئے اسرائیل پر الزام لگایا گیا کہ وہ وہی منطق استعمال کررہا ہے۔ ”اسرائیلی ریاست موت کے حالات پیدا کرتی ہے، بقا کے ذرائع کو سبوتاژ کرتی ہے اور پھر فطرت یا حالات کے ذریعے کام تمام ہونے کا انتظار کرتی ہے۔“ انہوں نے یونان سمیت دیگر حکومتوں سے مداخلت کرنے اور جہاز پر موجود افراد کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔